ٹی20 ورلڈکپ میں انڈیا کا بائیکاٹ: پاکستان کے پاس شکست کی گنجائش نہیں

حالیہ ٹی 20 کرکٹ ورلڈ کپ میں پاکستان اپنی کارکردگی کی بجائے زیادہ تر اس وجہ سے خبروں کی زینت بنے گا کہ اس نے ٹورنامنٹ کے گروپ مرحلے میں انڈیا کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی 28 ستمبر 2025 کو دبئی انٹرنیشنل سٹیڈیم میں انڈیا کے خلاف ایشیا کپ 2025 کے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل فائنل میچ کے اختتام پر پریزنٹیشن تقریب کے لیے انتظار کر رہے ہیں (سجاد حسین / اے ایف پی

حالیہ ٹی20 کرکٹ ورلڈ کپ میں پاکستان اپنی کارکردگی کی بجائے زیادہ تر اس وجہ سے خبروں کی زینت بنے گا کہ اس نے ٹورنامنٹ کے گروپ مرحلے میں انڈیا کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔

انڈیا اور سری لنکا کی مشترکہ میزبانی میں 20 ٹیموں پر مشتمل اس ٹورنامنٹ میں ہر ٹیم سپر ایٹ اور ناک آؤٹ مرحلے سے قبل چار گروپ میچ کھیلے گی اور یہ تمام مقابلے سات فروری سے آٹھ مارچ کے درمیان شیڈول ہیں۔

پاکستان کو گروپ اے میں شامل کیا گیا ہے جہاں اس کا پہلا میچ سات فروری کو کولمبو میں نیدرلینڈز کے خلاف شیڈول ہے۔

پاکستان کی حکومت نے قومی ٹیم کو ہدایت دی ہے کہ وہ 15 فروری کو اپنے روایتی حریف انڈیا کے خلاف گروپ اے کے میچ کا بائیکاٹ کرے، جس کے فیصلے نے کرکٹ کی دنیا کو چونکا دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان کے کپتان سلمان علی آغا نے بائیکاٹ کے حوالے سے کہا: ’یہ ہمارا فیصلہ نہیں ہے، ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ ہم وہی کریں گے جو ہماری حکومت اور چیئرمین (پاکستان کرکٹ بورڈ) ہمیں بتائیں گے۔‘

وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کو تصدیق کی تھی کہ انڈیا کے بائیکاٹ کا مقصد بنگلہ دیش کے ساتھ اظہار یکجہتی تھا، جو اس ٹورنامنٹ سے باہر ہو گیا ہے۔

گروپ اے میں پاکستان کے تین حریفوں میں سے ایک امریکہ ہے، جس نے ٹیکساس میں 2024 کے ٹورنامنٹ کے بعد پاکستان کو سپر اوور میں شکست سے دوچار کیا تھا۔ نیدرلینڈز نے بھی 2022 میں جنوبی افریقہ کو ہرا کر بڑے حریفوں کو حیران کیا تھا۔

پاکستان کے حالیہ سکواڈ میں موجود چھ کھلاڑی بابر اعظم، فخر زمان، وکٹ کیپر بلے باز عثمان خان، نسیم شاہ، شاداب خان، اور شاہین شاہ آفریدی امریکہ کے خلاف پلیئنگ الیون میں شامل تھے۔

گروپ کا دوسرا ایسوسی ایٹ ملک نمبیا ہے اور انڈیا کے بائیکاٹ سے اسے پہلے ہی دو پوائنٹس دینے کے بعد پاکستان کے لیے اپنے کسی بھی حریف کے خلاف شکست کی گنجائش نہیں ہے۔

 

پاکستان ہفتے کو کولمبو، سری لنکا میں نیدرلینڈز کے خلاف اپنے ٹورنامنٹ کا آغاز کرے گا۔ اس کے بعد امریکہ کے خلاف میچ10  فروری کو ہوگا اور پھر ممکنہ طور پر آٹھ دن کا وقفہ آئے گا کیونکہ انڈیا کے خلاف پاکستان کا میچ 15 فروری کے لیے مقرر تھا اور پھر 18 فروری کو پاکستان نمبیا کے خلاف میچ کھیلے گا۔

پاکستان کا سکواڈ کوچ مائیک ہیسن کی زیر قیادت تبدیل ہوا ہے، جو گذشتہ سال ٹیم کے ساتھ شامل ہوئے اور انہوں نے مضبوط ٹی20 ممالک کے خلاف مقابلہ کرنے کے لیے جارحانہ انداز متعارف کروایا۔

گذشتہ دو سیریز میں، کپتان سلمان علی آغا نے سری لنکا اور ہوم گراؤنڈ پر آسٹریلیا کے خلاف نمبر 3 پر تیز رفتار اننگز کھیلنے کی کوشش کی۔

بابر اعظم کا سٹرائیک ریٹ 128.38 رہا لیکن وہ ٹی20 ورلڈ کپ کی تیاریوں کے ایک بڑے حصے سے محروم رہے۔ انہیں اکتوبر کے آخر میں جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم سیریز میں واپس بلایا گیا۔

بابر کی سست پچوں پر بیٹنگ کا تجربہ انہیں سکواڈ میں جگہ دلانے میں مددگار رہا، حالانکہ آسٹریلیا کی بگ باش لیگ میں سڈنی سکسیرز کے لیے ان کا رن ریٹ کم رہا تھا، یعنی 11 میچوں میں 202 رنز۔

پاکستان نے اپنی تجربہ شدہ اوپننگ جوڑی صائم ایوب اور صاحبزادہ فرحان کے ساتھ جاری رکھنے کا منصوبہ بنایا ہے، جبکہ بابر اعظم نمبر 4 پر بیٹنگ کریں گے۔

پاکستان اپنے تمام میچز سری لنکا میں کھیلے گا، بشمول سیمی فائنلز اور فائنل، اگر ٹیم اس حد تک پہنچے۔ چونکہ وکٹیں سپنرز کے مددگار ثابت ہونے کی توقع ہے، پاکستان نے 15 رکنی سکواڈ میں مختلف قسم کے سلو بولرز شامل کیے ہیں۔

سپینر عثمان طارق کے منفرد بولنگ ایکشن اور گیند پھینکنے سے قبل لمبا توقف آسٹریلیائی کھلاڑیوں کے لیے حیران کن رہا۔ لیگ سپنرز شاداب خان اور ابرار احمد، لیفٹ آرم سپنر محمد نواز اور پاور پلے میں ایوب کی آف سپن پاکستان کو اچھا سہارا دیں گے۔

پاکستان نے حارث رؤف کو سکواڈ میں شامل نہیں کیا، حالانکہ وہ آسٹریلیا کی بگ باش لیگ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والوں میں شامل تھے، کیونکہ سلیکٹرز کا خیال ہے کہ سری لنکا کے میچوں میں سپنرز کا اہم کردار ہوگا۔

نسیم شاہ، شاہین آفریدی اور سلمان مرزا سکواڈ کے تین سپیشلسٹ فاسٹ بولرز ہیں، جبکہ آل راؤنڈر فہیم اشرف دوسرا سیم آپشن ہیں۔

پاکستان ٹی20 ورلڈ کپ میں شاندار تاریخ رکھتا ہے۔ اس نے تین فائنلز میں حصہ لیا ہے، 2009 میں ٹائٹل جیتا، اور تین بار سیمی فائنلز تک بھی رسائی حاصل کی۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ