حکومت پاکستان نے اتوار کو کہا ہے کہ قومی ٹیم ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں شرکت کرے گی لیکن انڈیا کے خلاف میچ نہیں کھیلے گی۔
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 جو سات فروری سے انڈیا اور سری لنکا میں شروع ہونے جا رہا ہے، کے دوران میچز کے لیے اپنی ٹیم انڈیا بھیجنے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد پاکستان نے بنگلہ دیش کے اس موقف کی حمایت کی تھی۔
تاہم آئی سی سی نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے اس موقف کو تسلیم نہیں کیا اور بنگلہ دیش کی جگہ سکاٹ لینڈ کو ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کا حصہ بنا دیا۔
The Government of the Islamic Republic of Pakistan grants approval to the Pakistan Cricket Team to participate in the ICC World T20 2026, however, the Pakistan Cricket Team shall not take the field in the match scheduled on 15th February 2026 against India.
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) February 1, 2026
حکومت پاکستان کے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ’حکومت پاکستان نے پاکستان کرکٹ ٹیم کو آئی سی سی ورلڈ ٹی 20 میں شرکت کی منظوری دے دی ہے، تاہم پاکستان کرکٹ ٹیم 15 فروری 2026 کو انڈیا کے خلاف طے شدہ میچ میں میدان میں نہیں اترے گی۔‘
سیاسی اور کھیل کے حلقوں میں اس فیصلے کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ آئی سی سی سے متعلق فیصلے کا براہ راست اثر پاکستان کرکٹ اور بین الاقوامی سطح پر ملک کے موقف پر پڑ سکتا ہے۔
تاہم حکومت نے کہا تھا کہ اس معاملے پر قانونی، سفارتی اور سپورٹس سطح پر تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ پاکستان کے مفادات کا مکمل تحفظ کیا جا سکے۔
آئی سی سی کا پاکستان پر فیصلے کے طویل المدتی اثرات پر غور کرنے پر زور
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے آئی سی سی مینز ٹی20 ورلڈ کپ 2026 میں پاکستان کی ممکنہ منتخب بنیادوں پر شرکت کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا کہ پاکستان اپنے فیصلے کے طویل المدتی اثرات پر غور کرے۔
آئی سی سی کی جانب سے اتوار کی شب جاری بیان میں کہا کہ پاکستان کا ایسا مؤقف عالمی ایونٹ کی روح کے منافی ہے۔
آئی سی سی کے مطابق، پاکستان کی حکومت کے بیان کے بعد ادارہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے باضابطہ وضاحت کا منتظر ہے، تاہم سلیکٹیو شرکت کا تصور ایک عالمی ٹورنامنٹ کے بنیادی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا، جہاں تمام کوالیفائیڈ ٹیموں کو یکساں شرائط پر مقابلہ کرنا ہوتا ہے۔
آئی سی سی نے واضح کیا کہ اس کے ٹورنامنٹس دیانت داری، مقابلے، تسلسل اور انصاف کے اصولوں پر قائم ہوتے ہیں اور کسی بھی قسم کی جزوی شرکت مقابلوں کی ساکھ اور تقدس کو متاثر کر سکتی ہے۔
ICC issues statement on ICC Men’s T20 World Cup 2026. https://t.co/QTZbB5y75e
— ICC (@ICC) February 1, 2026
عالمی ادارے نے کہا کہ اگرچہ وہ قومی پالیسی کے معاملات میں حکومتوں کے کردار کا احترام کرتا ہے، تاہم ایسا فیصلہ عالمی کرکٹ اور دنیا بھر کے شائقین، خصوصاً پاکستان کے لاکھوں مداحوں، کے مفاد میں نہیں ہوگا۔
آئی سی سی نے پی سی بی پر زور دیا کہ وہ اس فیصلے کے ملکی اور عالمی سطح پر ممکنہ طویل المدتی اثرات پر سنجیدگی سے غور کرے، کیونکہ اس سے عالمی کرکٹ نظام متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جس کا پاکستان بھی اہم حصہ ہے۔
آئی سی سی کا کہنا ہے کہ اس کی اولین ترجیح ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کا کامیاب انعقاد ہے، اور اس حوالے سے تمام رکن ممالک، بشمول پاکستان، کی مشترکہ ذمہ داری بنتی ہے۔ ادارے نے امید ظاہر کی ہے کہ پی سی بی تمام سٹیک ہولڈرز کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے باہمی طور پر قابل قبول حل تلاش کرے گا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے 25 جنوری کو پاکستان نے ورلڈ کپ 2026 کے لیے 15 رکنی سکواڈ کا اعلان کر دیا تھا جس میں سلمان علی آغا ٹیم کے کپتان ہوں گے تاہم گذشتہ روز قومی ٹیم کی کِٹ کی نمائش کی تقریب کو ملتوی کر دیا تھا۔
پاکستان کو گروپ اے میں شامل کیا گیا ہے جہاں اس کا پہلا میچ سات فروری کو کولمبو میں نیدرلینڈز کے خلاف شیڈول ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پی سی بی کے مطابق ٹورنامنٹ کھیلنے والے کھلاڑیوں میں کپتان سلمان علی آغا، فہیم اشرف، خواجہ محمد نافع، محمد سلمان مرزا اور صاحبزادہ فرحان شامل ہیں جب کہ عثمان طارق کو پہلی بار کسی بڑے ٹورنامنٹ کے لیے پاکستانی سکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔
سکواڈ میں شامل ابرار احمد، بابر اعظم، فخر زمان، محمد نواز، نسیم شاہ، صائم ایوب، شاہین شاہ آفریدی، شاداب خان اور عثمان خان 2021 سے اب تک اس ٹورنامنٹ کے کم از کم ایک یا اس سے زیادہ ایڈیشنز کھیل چکے ہیں۔
20 ٹیموں پر مشتمل اس ٹورنامنٹ میں ہر ٹیم سپر ایٹ اور ناک آؤٹ مرحلے سے قبل چار گروپ میچ کھیلے گی اور یہ تمام مقابلے سات فروری سے آٹھ مارچ کے درمیان شیڈول ہیں۔