ڈونلڈ ٹرمپ دنیا بھر کو نظر انداز کر کے، سولو فلائٹ لے کر ایران پر یلغار کرنے نکلے ، آبنائے ہرمز میں پہنچے تو انہیں پھر سے عالمی برادری یاد آنےلگی ہے ۔ اس بدلتے رویے کو کیا نام دیا جائے؟
کیا یہ سمجھا جائے کہ آبنائے ہرمز کے منجدھار میں وہ بین الاقوامی برادری کی اہمیت کو سمجھنے لگ گئے ہیں یا اب بھی ان ان کا رویہ وہی ہے اور وہ پہلے جیسے طنطنے کے ساتھ، دنیا کو فرمان جاری کر رہے ہیں کہ میرا حکم سنتے ہی جنگی جہازوں کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے روانہ کر دو؟
یعنی آبنائے ہرمز کی گھمن گھیریوں میں وہ دنیا کے ساتھ چلنے کو تیار ہو رہے ہیں یا اب بھی اپنی طاقت کی لاٹھی دنیا کی پشت پر برسا رہے ہیں کہ ہاتھ باندھ کر اور سر جھکا کر میرے پیچھے چلو، سنو اور اطاعت کرو۔
امریکی مزاج کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر رومن ایمپائر دنیا کو ہانک سکتی تھی تو امریکہ کیوں نہیں۔ امریکہ کو عالمی برادری کی تائید کی کوئی ضرورت نہیں، یہ عالمی برادری ہے، جو امریکہ کی محتاج ہے۔ امریکہ بین الاقوامی قانون کا پابند نہیں، جو امریکہ کے منہ سے نکلے وہی قانون ہے۔
پہلے یہ ہوا کہ جنگ عظیم کے فاتحین نے اپنی شرائط پر، اپنے قوانین کے تحت اقوام متحدہ بنائی۔ پھر کچھ وقت گزرا تو اس میں سے زیادہ طاقتور ممالک نیٹو کی قوت قاہرہ کو لے آئے۔ اب امریکہ یہ کہتا ہے کہ اقوام متحدہ ہو یا نیٹو سب مایا ہے۔ طاقت کا اصل مرکز وائٹ ہاؤس ہے۔ باقی سب نظر کا دھوکہ ہے۔
امریکہ کی بے نیازی دیکھیے، اگرچہ اقوام متحدہ میں بھی راج تو اسی کا چل رہا تھا لیکن وہ اقوام متحدہ میں حاصل اس غیر معمولی قوت سے بھی مطمئن نہیں۔ وہ دنیا پر حکمرانی میں اب کسی شریک کا قائل نہیں۔ وہ سفارتی تکلفات اور قانونی نزاکتوں کو بوجھ سمجھنے لگا ہے۔ سلامتی کونسل اور اس کے ضابطوں سے اسے کوفت ہوتی ہے۔ معاملات اب اقوام متحدہ کی بجائے ٹرمپ خود دیکھنا چاہتے ہیں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی بجائے وہ اپنے فرمان کو حتمی درہ دینا چاہتے ہیں۔
چنانچہ فروری میں ایران پر ہونے والے پہلے حملے سے وینزویلا کے صدر کے اغوا تک، اس مختصر سی مدت میں امریکہ 66 بین الاقوامی اداروں سے الگ ہو چکا ہے ۔ ان میں سے 31 اداروں کا تعلق اقوام متحدہ سے ہے۔ پیغام واضح ہے کہ دنیا ڈونلڈ ٹرمپ کی جنبش ابرو پر چلے گی اور ڈونلڈ ٹرمپ کسی عالمی برادری، کسی ضابطے، کسی قانون، کسی اقوام متحدہ کے قائل نہیں۔ وہ اپنی ذات میں ہی سب کچھ ہیں۔
مزاج یار جب چاہتا تھا مچل مچل جاتا تھا۔ کبھی گرین لینڈ مانگ لیا، کبھی کسی ریاست کے سربراہ کو بلا کر بے عزت کر دیا، کبھی کسی ملک کے صدر کو جا کر اغوا کر لیا۔ کہنے والے کہنے لگ گئے کہ اگر اس طرح وینزویلا کے صدر کو اٹھایا جا سکتا ہے تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ کل اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کرنے دنیا بھر کے سربراہان امریکہ پہنچیں تو واپسی پر نصف درجن کو پکڑ کر جیل میں ڈال دیا جائے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یہیں سے یہ سوال اٹھا کہ کیا اقوام متحدہ کے دفاتر کو امریکہ کی بجائے سوئٹزرلینڈ وغیرہ میں منتقل نہیں کر دینا چاہیے اور کیا اقوام متحدہ کو امریکہ کے بغیر معاملات چلانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔
دنیا میں کوئی اس قابل تو نہ تھا کہ امریکہ کے سامنے آ کر کھڑا ہو جاتا لیکن یہ نظر آ رہا ہے کہ دنیا امریکہ کے اس رویے سے خوش نہیں۔
چنانچہ اب جب آبنائے ہرمز سے مدد کی دہائی یا حکم، جو بھی ہے، جاری ہوا تو دنیا نے منہ دوسری طرف موڑ لیا۔ بادشاہ سلامت فرمان جاری کر رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے میری مدد کرو۔ لیکن پوری دنیا میں کوئی ایک ملک ایسا نہیں جس نے آگے بڑھ کر کہا ہو: جو حکم میرے سلطان کا۔ چین ، آسٹریلیا، جرمنی، فرانس، سپین، برطانیہ کوئی ایک بھی نہیں جس نے ٹرمپ کی پکار پر آبنائے ہرمز کی جانب دیکھنا بھی گوارا کیا ہو۔
ٹرمپ اب جھنجھلاہٹ کے عالم میں سب کو بے نقط سنا رہے ہیں۔ کبھی برطانیہ پر غصے ہوتے ہیں، کبھی نیٹو کو دھمکیاں دیتے ہیں، کبھی فرانس پر برہم ہوتے ہیں اور کبھی سپین کو معاشی نتائج سے ڈراتے ہیں۔
اس بدلتے منظر نامے میں ایک سوال یہ بھی ہے کہ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں مدد کے لیے اگر کسی مرحلے پر پاکستان کو آواز دے ڈالی تو ہم کہاں کھڑے ہوں گے؟ کیا ہمارا یہ کہہ دینا کافی ہو گا کہ ہم اس وقت مغرب میں افغانستان کے ساتھ مصروف ہیں اور مشرق میں انڈیا کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں، اس لیے آقائے ولی نعمت ہمیں معاف کریں؟ یا ہم ایک نئی دلدل میں کھڑے ہوں گے؟
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا اس جنگ کے اختتام پر مشرق وسطی کا منظر نامہ بدل چکا ہو گا۔ بظاہر نظر یہ آ رہا ہے کہ بات مشرق وسطی سے آگے نکل رہی ہے۔ کیا عجب کہ اس جنگ کے اختتام تک دنیا ہی کا منظر نامہ تبدیل ہونا شروع ہو جائے اور اگلی کئی دہائیاں کولمبس کا امریکہ یہ سوچنے میں گزار دے کہ ٹرمپ صاحب آبنائے ہرمز کی دلدل ’دریافت‘ کرنے نہ جاتے تو کتنا اچھا ہوتا۔
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔