ورلڈ پریس فریڈم ڈے: پاکستان کی عالمی درجہ بندی میں بہتری

رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز کی جانب سے جاری کردہ 2026 کے ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں پاکستان 180 ممالک میں 153ویں نمبر پر رہا، جو انڈیا سے چار درجے بہتر ہے۔

11 اپریل 2026 کو امریکہ ایران مذاکرات کے موقعے پر صحافی اسلام آباد میں قائم میڈیا سنٹر میں کام کر رہے ہیں (اے ایف پی)

پاکستان نے اتوار کو ورلڈ پریس فریڈم ڈے کے موقع پر صحافیوں کے تحفظ اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔

حکومت کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب آزادی صحافت کی عالمی درجہ بندی میں پاکستان نے بہتری دکھاتے ہوئے انڈیا کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

صحافیوں کی عالمی تنظیم رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز کی جانب سے جاری کردہ 2026 کے ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں پاکستان 180 ممالک میں 153ویں نمبر پر رہا، جو انڈیا سے چار درجے بہتر ہے۔ انڈیا رواں سال چھ درجے تنزلی کے بعد 157ویں نمبر پر چلا گیا۔

یہ سالانہ انڈیکس میڈیا کی آزادی کو سیاسی، قانونی، معاشی، سماجی و ثقافتی اور سلامتی کے پیمانوں پر جانچتا ہے۔

پاکستان ’شیپنگ آ فیوچر ایٹ پیس‘ کے عالمی موضوع کے تحت ورلڈ پریس فریڈم ڈے منا رہا ہے اور ملک کی اعلیٰ قیادت نے آزادیٔ اظہار کے آئینی تحفظات اور صحافیوں کے لیے مزید سکیورٹی اقدامات کا اعادہ کیا ہے۔

آصف علی زرداری نے اس موقعے پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ آزادی صحافت جمہوری نظام اور قومی استحکام کے لیے مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔

انہوں نے اپنے پیغام میں کہا: ’امن سچائی کے بغیر قائم نہیں ہو سکتا اور جدید دنیا میں سچائی ان لوگوں پر منحصر ہے جو اسے تلاش کرنے، پرکھنے اور سامنے لانے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔‘

صدر نے عالمی سطح پر صحافیوں کو درپیش بڑھتے ہوئے دباؤ کا بھی ذکر کیا، جن میں غلط معلومات، معاشی دباؤ اور جسمانی خطرات شامل ہیں، اور خبردار کیا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور مصنوعی ذہانت نے حقائق پر مبنی رپورٹنگ کو مزید چیلنجز سے دوچار کر دیا ہے۔

صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان آزادیٔ صحافت کے لیے ’پختہ عزم‘ رکھتا ہے، جو آئین کے آرٹیکل 19 اور 19-اے کے تحت اظہارِ رائے اور معلومات تک رسائی کے حقوق کی ضمانت دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’آزاد، خودمختار اور متنوع میڈیا کسی پراعتماد قوم کے لیے خطرہ نہیں بلکہ اس کا ثبوت ہوتا ہے۔‘

2025  میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان فوجی کشیدگی اور ’آپریشن بنیان مرصوص‘ کا حوالہ دیتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ پاکستانی میڈیا نے غلط معلومات کا مؤثر مقابلہ کیا اور قومی یکجہتی کو برقرار رکھا۔

انہوں نے کہا: ’ہم نے زور سے نہیں بلکہ حقائق سے جواب دیا اور شور سے نہیں بلکہ وضاحت سے کام لیا۔‘

وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی اپنے پیغام میں تیز رفتار ڈیجیٹل ماحول میں پروپیگنڈا اور جعلی خبروں کے خلاف مؤثر مزاحمت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا: ’درست، غیر جانبدار اور بروقت معلومات کی فراہمی معتبر صحافت کی بنیاد ہے۔‘

وزیراعظم نے کہا کہ ذمہ دار صحافت امن کے قیام، باخبر عوامی مکالمے اور جمہوری احتساب کے لیے ناگزیر ہے، اور صحافیوں کو محفوظ اور باوقار ماحول میں کام کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اہم مواقع پر قومی میڈیا کے کردار کو سراہا، جن میں ’معرکۂ حق اور آپریشن بنیان مرصوص‘ شامل ہیں اور کہا کہ صحافیوں نے عوامی آگاہی اور قومی اتحاد کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز کی رپورٹ میں کہا گیا کہ انڈیا کی درجہ بندی میں کمی کی وجہ قومی سلامتی کے قوانین کا بڑھتا ہوا استعمال اور صحافیوں پر قانونی دباؤ ہے، جس سے میڈیا کے لیے ماحول مزید مشکل ہو گیا ہے۔

اگرچہ پاکستان اب بھی عالمی درجہ بندی کے نچلے حصے میں شامل ہے تاہم حکام کا کہنا ہے کہ یہ بہتری میڈیا کی آزادی کو مضبوط بنانے اور پیشہ ورانہ معیار برقرار رکھنے کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان