ایران جنگ کے باعث صدر ٹرمپ کا دورہ چین موخر کرنے کا فیصلہ

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم ایک جنگ میں مصروف ہیں ’میرے خیال میں یہ اہم ہے کہ میں یہاں موجود رہوں۔‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چین کے صدر شی جن پنگ 30 اکتوبر 2025 کو بوسان میں مذاکرات کے بعد ایک دوسرے سے مصافحہ کرتے ہوئے   (اے ایف پی)

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران جنگ کی وجہ سے وہ چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے لیے بیجنگ کے ایک اہم اور متوقع دورے کو مؤخر کر رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ’ہم اس ملاقات کو دوبارہ ترتیب دے رہے ہیں۔‘ انہوں کہا کہ اس بارے میں ’ہم چین کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ وہ اس پر راضی تھے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’اس میں کوئی چالاکی یا چال نہیں ہے۔ یہ بہت سادہ ہے۔ ہم ایک جنگ میں مصروف ہیں۔ میرے خیال میں یہ اہم ہے کہ میں یہاں موجود رہوں۔‘

صدر ٹرمپ کا بیجنگ کا دورہ 31 مارچ سے 2 اپریل تک طے تھا، جو ان کی دوسری مدتِ صدارت کے 14 ماہ میں چین کا پہلا دورہ ہوتا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)


ٹرمپ نے کہا کہ اب یہ دورہ ’تقریباً پانچ یا چھ ہفتوں میں‘ ہوگا، تاہم وائٹ ہاؤس نے نئی تاریخ نہیں بتائی۔

واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے ترجمان نے کہا کہ ’چین اور امریکہ صدر ٹرمپ کے دورۂ چین کے حوالے سے، بشمول تاریخوں کے، رابطے میں ہیں۔ اس وقت میرے پاس مزید کچھ کہنے کو نہیں ہے۔‘

دنیا کے دو اہم ممالک کے رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں تاخیر سے غیر یقینی صورت حال بڑھ گئی ہے، کیونکہ ایران کے ساتھ جنگ نے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے، آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کو خطرے میں ڈالا ہے اور سرمایہ کاروں کی توجہ توانائی کے تحفظ پر مرکوز کر دی ہے۔

یہ تاخیر واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان تائیوان، محصولات (ٹیرف)، کمپیوٹر چپس، غیر قانونی منشیات، نایاب دھاتوں اور زراعت جیسے معاملات پر کشیدگی کم کرنے کے مذاکرات کو بھی مؤخر کر دے گی۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ