امریکی فضائیہ کے مطابق قطر کی جانب سے گذشتہ سال امریکہ کو دیا گیا بوئنگ 747 طیارہ، جسے عارضی ایئر فورس ون کے طور پر استعمال کیا جائے گا، اس موسم گرما تک سروس کے لیے تیار ہو جائے گا۔
یہ طیارہ اس وقت تک زیر استعمال رہے گا جب تک فضائیہ مستقل نئے طیاروں کی تیاری مکمل نہیں کر لیتی۔
فضائیہ کا کہنا ہے کہ طیارے کی ’سرکاری طور پر تمام تبدیلیاں اور پرواز کے ٹیسٹ مکمل ہو چکے ہیں‘ اور اس وقت اسے رنگ کیا جا رہا ہے۔
فضائیہ نے جمعے کو جاری بیان میں کہا ’یہ طیارہ نئے سرخ، سفید اور نیلے رنگوں کے ڈیزائن کے ساتھ اس موسم گرما میں رول آؤٹ ہونے کے شیڈول پر ہے۔‘
یہ طیارہ گذشتہ سال مئی میں امریکی حکومت کے اسے قبول کرنے کے بعد سے ہی تنازعے کا باعث رہا ہے۔
ناقدین کا کہنا تھا کہ یہ تحفہ قومی سلامتی کے خدشات پیدا کرتا ہے، امریکی صدر کو بیرونی تحائف قبول کرنے سے متعلق آئینی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور اخلاقی طور پر بھی مشکوک ہے کیونکہ قطر امریکی مخالف گروہوں بشمول حماس کی حمایت کرتا رہا ہے۔
قطری طیارے کی ازسر نو تیاری بھی کم پیچیدہ نہ تھی۔ اس 747 کو مبینہ طور پر 400 ملین ڈالر کی لاگت سے اوورہال کیا گیا، جس میں انتہائی خفیہ مواصلاتی نظام کی تنصیب اور ممکنہ جاسوسی آلات کی تلاش کے لیے اندرونی حصوں کی توڑ پھوڑ شامل تھی۔
’ہیڈ آف سٹیٹ طیاروں میں غیر ملکی حکومتیں جس قدر باریک بینی سے کام کرتی ہیں، وہ امریکی طریقے سے بہت مختلف ہے، جو زیادہ سادگی اور استعمال کرنے کے طریقے پر مبنی ہوتا ہے۔‘
حکام کے مطابق صدر نے اندرونی ڈیزائن کے بارے میں کوئی ہدایات نہیں دیں، تاہم بیرونی سرخ، سفید اور نیلے رنگ کے ڈیزائن کا انتخاب انہوں نے خود کیا۔
رپورٹ کے مطابق اس طیارے میں موجودہ ایئر فورس ون ماڈلز کے مقابلے میں کم ریفریجریٹر ہوں گے اور اس میں میڈیا کے لیے علیحدہ کیبن نہیں ہو گا بلکہ ایک موٹا پردہ صحافیوں اور انتظامی افسران کو الگ کرے گا۔
دی انڈپینڈنٹ نے وائٹ ہاؤس اور فضائیہ سے تبصرے کی درخواست کی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
فوج کے مطابق فضائیہ نے دسمبر 2024 میں ایک 747-8 طیارہ بطور عارضی متبادل تلاش کرنا شروع کیا تھا۔
بالآخر قطر کا طیارہ منتخب کیا گیا تاکہ وہ اس وقت تک ’پل‘ کا کردار ادا کرے جب تک وائٹ ہاؤس کے لیے دو نئے 747 طیارے مکمل طور پر تیار نہیں ہو جاتے۔
امریکہ کی جانب سے قطری طیارہ قبول کرنے کے بعد مئی 2025 میں صدر ٹرمپ نے اے بی سی نیوز کی تنقیدی رپورٹنگ پر سخت تنقید کی تھی۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا ’قطر— ایک شاندار ملک—جو امریکہ میں 1.4 کھرب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری پر راضی ہوا ہے، گمراہ کن (جعلی!) خبروں سے بہتر سلوک کا مستحق ہے۔
’سب کو، بشمول ان کے وکلا، بتا دیا گیا کہ اے بی سی یہ نہ کہے کہ قطر مجھے مفت بوئنگ 747 دے رہا ہے کیونکہ ایسا نہیں ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا ’جیسا کہ فیک نیوز اے بی سی اچھی طرح جانتا ہے، یہ باوقار ملک یہ طیارہ مجھے نہیں بلکہ امریکی فضائیہ/محکمہ دفاع کو دے رہا ہے۔‘
رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ کے عہدہ چھوڑنے کے بعد یہ طیارہ ان کی صدارتی لائبریری فاؤنڈیشن کو منتقل کر دیا جائے گا۔
حال ہی میں جاری کردہ لائبریری کے خاکوں میں—جو میامی کی ایک بلند عمارت میں قائم ہو گی—لابی میں ایک صدارتی طیارہ دکھایا گیا ہے۔