پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان تقریباً دو ہفتوں سے جاری کشیدگی کے باعث شہری خوراک کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ اے ایف پی کے اعداد و شمار کے مطابق جھڑپوں میں اموات کی تعداد 22 ہو گئی ہے۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے حامی، جو معاشی اور طرز حکمرانی میں اصلاحات کا مطالبہ کرنے والی حکومت مخالف تحریک ہے، اس ماہ انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت تنظیم پر پابندی عائد کیے جانے کے باوجود احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔
پولیس کے مطابق جون کے آغاز سے شروع ہونے والی بدامنی کے بعد جے اے اے سی سے تعلق رکھنے والے 425 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
بدامنی کے مرکز راولاکوٹ کے اعلیٰ ترین سول سرکاری افسر سردار وحید نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں جھڑپوں کے دوران مزید دو افراد جان سے گئے۔
جمعے تک یہ تعداد 20 تھی۔ یہ اعداد و شمار راولاکوٹ سمیت تین مختلف اضلاع کے حکام کے اے ایف پی کو دیے گئے بیانات پر مبنی ہیں۔
مرنے والوں میں چار قانون نافذ کرنے والے اہلکار شامل ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جھڑپوں کے دوران 89 اہلکار زخمی بھی ہوئے۔
جے اے اے سی کے ارکان نے اپنی تنظیم کو دہشت گرد قرار دیے جانے کو ’ظلم‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ جائز معاشی اور سیاسی حقوق کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔
حکام اور مقامی رہائشیوں کے مطابق احتجاج، دھرنوں اور ہڑتالوں نے خطے کے کئی شہروں میں معمولات زندگی مفلوج کر دیے ہیں، جبکہ موبائل انٹرنیٹ کی وسیع پیمانے پر بندش کی بھی اطلاعات ہیں۔
دارالحکومت مظفرآباد میں سڑکیں سنسان دکھائی دیں اور شہریوں نے ضروری اشیا کے حصول میں مشکلات کی شکایت کی۔
64 سالہ مظفرآباد کے رہائشی محمد مسکین نے منگل کو اے ایف پی کو بتایا ’میں ہر جگہ دوائی تلاش کر رہا ہوں لیکن نہیں مل رہی۔ بڑے بڑے سٹور بھی بند ہیں۔‘
جو دکانیں کھلی ہیں، وہاں بھی سپلائی میں رکاوٹ کے باعث سامان محدود مقدار میں دستیاب ہے۔
60 سالہ صابر حسین نے کہا ’آٹھ دن سے ہم انتہائی مشکل حالات سے گزر رہے ہیں۔ بازار بند ہیں اور سبزیوں کے علاوہ کھانے کے لیے بہت کم چیزیں دستیاب ہیں۔‘
حکام کا کہنا ہے کہ دکانیں کھولنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں جبکہ مقامی حکومت کے ترجمان شعیب جاوید میر کے مطابق ضروری اشیائے خورونوش کی قلت روکنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اس سے قبل گذشتہ ستمبر میں بھی جے اے اے سی کی قیادت میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان کئی روز تک پرتشدد جھڑپیں جاری رہی تھیں، جن میں نو اموت کی تصدیق ہوئی تھی۔