کشمیر میں احتجاج کرنے والے غدار نہیں، اپنے لوگ ہیں: وزیراعظم

وزیرِاعظم نے کہا کہ اگر صبر اور لچک کا مظاہرہ کیا جاتا تو صورت حال اس نہج تک نہ پہنچتی، اور اب پیدا ہونے والی کشیدگی افسوسناک ہے، جس کے نتیجے میں سکیورٹی اہلکاروں کی اموات بھی ہوئی ہیں۔

مظفرآباد میں سکیورٹی اہلکار آٹھ جون 2026 کو ایک سڑک پر گشت کر رہے ہیں، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت میں یہ صورتحال جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے متوقع احتجاج سے ایک روز قبل دیکھی گئی (اے ایف پی)

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیرِاعظم فیصل راٹھور نے کشمیر میں حالیہ صورت حال کے حوالے سے آج کہا ہے کہ ’احتجاج کرنے والے لوگ ہمارے اپنے ہیں، اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔ یہ کہنا درست نہیں کہ یہ لوگ ایجنٹ یا غدار ہیں، تاہم ان میں مایوسی اور رہنمائی کی کمی ضرور موجود ہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ انہوں نے آج اس سلسلے میں صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیرِاعظم پاکستان شہباز شریف سے ملاقات کی ہے، جس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، پارٹی رہنما اور وفاقی کابینہ کے دیگر اراکین بھی موجود تھے۔

صحافی ندیم شاہ نے بتایا کہ اجلاس میں کشمیر کی موجودہ صورت حال اور جاری احتجاجی تحریک پر تفصیلی غور کیا گیا۔

وزیرِاعظم نے مزید کہا کہ ’احتجاجی گروہ نے اپنے موقف کو متعدد مواقع پر غیر مناسب انداز میں پیش کیا، اور بعض اوقات ایسے طریقے اختیار کیے جو مسائل کے حل کے بجائے انہیں مزید پیچیدہ بناتے رہے۔‘ ان کے مطابق بعض مطالبات، خصوصاً مہاجرین کی 12 نشستوں کا معاملہ، مکمل طور پر غیر منصفانہ نہیں کہا جا سکتا، تاہم اس مسئلے کو بہتر طریقے سے حل کیا جانا چاہیے تھا۔

وزیرِاعظم نے کہا کہ اگر صبر اور لچک کا مظاہرہ کیا جاتا تو صورتحال اس نہج تک نہ پہنچتی، اور اب پیدا ہونے والی کشیدگی افسوسناک ہے، جس کے نتیجے میں سیکیورٹی اہلکاروں کی اموات بھی ہوئی ہیں۔

انہوں نے احتجاجی قیادت سے اپیل کی کہ وہ اشتعال انگیز رویہ کم کرے، حتمی مطالبات اور الٹی میٹمز سے گریز کرے اور دوبارہ مذاکرات کی میز پر واپس آئے۔ ان کے مطابق مسائل کا حل صرف بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

وزیرِاعظم نے یقین دہانی کرائی کہ اگر مذاکرات کا راستہ اپنایا جائے تو احتجاجی قیادت کو مکمل تحفظ، آزادانہ نقل و حرکت اور برابری کی بنیاد پر ماحول فراہم کیا جائے گا، تاکہ تمام فریقین مل کر مہاجرین کی نشستوں کے مسئلے کا پائیدار حل نکال سکیں۔

قبل ازیں حکومت پاکستان نے پیر کو ایک بیان میں برطانیہ میں مقیم بعض تارکین وطن افراد کی جانب سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے متعلق ’غیر ذمہ دارانہ‘ بیانات کا نوٹس لیتے ہوئے برطانوی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ کالعدم تنظیموں کے حامیوں کو خبردار کرے کہ وہ ایسے اقدامات سے باز رہیں۔

حالیہ دنوں میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کشیدگی بڑھ گئی ہے کیونکہ کشمیر کی حکومت نے نو جون کو جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کو مبینہ طور پر ’دہشت گردی میں ملوث ہونے پر‘ کالعدم تنظیم قرار دے دیا جبکہ تنظیم اپنے اس مطالبے پر قائم ہے کہ قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستیں ختم کی جائیں۔

جے اے اے سی گذشتہ تین برسوں سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں عوامی حقوق اور مختلف مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک چلا رہی ہے۔ 

گذشتہ برس کمیٹی کے ریاست گیر لانگ مارچ کے دوران سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں کئی افراد جان سے گئے تھے جبکہ درجنوں زخمی ہوئے تھے۔

اس بحران کے حل کے لیے وزیراعظم شہباز شریف نے ایک اعلیٰ اختیاراتی مذاکراتی کمیٹی مظفرآباد بھیجی تھی، جس کے بعد وفاقی حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا۔ 

تاہم جے اے اے سی مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ حکومت نے معاہدے کی تمام شقوں پر عمل درآمد نہیں کیا۔

گذشتہ ہفتے مظفرآباد میں اسلام آباد کی ہائی پاور کمیٹی اور جے اے اے سی کے درمیان کئی گھنٹوں تک مذاکرات ہوئے، تاہم وہ کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ 

اس کے بعد عوامی ایکشن کمیٹی نے نو جون کو تمام اضلاع سے مظفرآباد کی جانب مارچ اور قانون ساز اسمبلی کے سامنے دھرنے کی اپنی کال برقرار رکھی۔

ہفتے کو کشمیر میں حکام نے جے اے اے سی کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کرتے ہوئے مختلف علاقوں سے اس کے درجنوں رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کیا تھا۔

اتوار کو کشمیر میں پولیس نے ایک بیان میں بتایا کہ راولاکوٹ میں کالعدم جے اے اے سی کے حامیوں اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم چار پولیس اہلکار جان سے گئے جبکہ 20 زخمی ہو گئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

برطانیہ میں کشمیر سے آئے لوگوں کی ایک بڑی تعداد ہے، جس میں سے متعدد نے کشمیر کی موجودہ کشیدہ صورت حال پر تشویش ظاہر کی تھی۔

آج دفتر خارجہ نے اس حوالے سے ردعمل پر مبنی بیان جاری کرتے ہوئے برطانیہ میں موجود ایسے افراد کو ’مشورہ دیا کہ وہ پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کے داخلی معاملات میں مداخلت سے گریز کریں۔ 

’بہتر ہوگا کہ وہ اپنے ملک رہائش کی مثبت انداز میں خدمت اور ترقی میں کردار ادا کریں۔‘

بیان میں بعض برطانوی اراکین پارلیمنٹ کے ’غیر ضروری تبصروں اور اٹھائے گئے سوالات کا بھی نوٹس لیا گیا‘ جو بیان کے مطابق ’اس مسئلے کے تاریخی پس منظر سے ناواقفیت اور حقائق کو نظر انداز کرنے کی عکاسی کرتے ہیں۔ 

’ان لوگوں کے لیے جو اب بھی نوآبادیاتی دور کی ذہنیت میں زندہ ہیں، یہ بات دہرانا ضروری ہے کہ پاکستان ایک خودمختار اور جمہوری ریاست ہے، جو دیگر ممالک کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت کے اصول پر مضبوطی سے یقین رکھتی ہے اور دوسروں سے بھی اسی طرز عمل کی توقع کرتی ہے۔‘

بیان میں کہا گیا کہ ’پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کی حکومتیں شہریوں کے پُرامن اجتماع، آزادیِ اظہارِ رائے اور جمہوری عمل میں شرکت کے آئینی حقوق کو مکمل طور پر تسلیم اور ان کا احترام کرتی ہیں۔

’تاہم توڑ پھوڑ، سرکاری املاک اور عوامی خدمات بشمول ہسپتالوں کو نقصان پہنچانا اور بے گناہ شہریوں و قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کا قتل کسی بھی صورت میں قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔‘

’ہم برطانوی حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ کالعدم تنظیموں کی حمایت کرنے والوں کو آگاہ اور متنبہ کرے کہ وہ ایسے اقدامات سے باز رہیں اور آزاد جموں و کشمیر اور پاکستان کے آئین میں درج جمہوری عمل، عدالتی فیصلوں اور قانون کی حکمرانی کا احترام کریں۔‘

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان