کشمیر میں ایکشن کمیٹی مسائل حل کرنا چاہتی ہے تو مذاکرات کے لیے تیار ہیں: وزیراعظم فیصل راٹھور

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم فیصل راٹھور نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے دوبارہ رابطے کے سوال پر کہا ہے کہ ’اگر معاملہ حل کرنا مطلوب ہے تو بات ہو سکتی ہے۔‘

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم فیصل راٹھور نے آج اسلام آباد میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے دوبارہ رابطے کے سوال پر کہا ہے کہ ’اگر معاملہ حل کرنا مطلوب ہے تو بات ہو سکتی ہے۔‘ 

وزیر اعظم نے کشمیر کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر انتخابات میں تاخیر سے متعلق کہا کہ ’تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ کیونکہ حالات جس طرف جا رہے ہیں، اس میں اندیشہ کیا جا سکتا ہے۔‘

ہفتے کو انڈپینڈنٹ اردو کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم نے حکومت کے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے رابطے سے متعلق بتایا کہ انہوں نے تین روز قبل کمیٹی کے سینئر نمائندگان سے رابطہ کیا اور پیغام دیا کہ ’ان کی پسند کی جگہ پر میں آنے کو تیار ہوں۔‘

فیصل راٹھور نے کہا کہ اس پیغام میں انہوں نے مطالبات کو حل کرنے کی حمایت بھی کی، لیکن ’صرف میز پر آ کر بات کریں۔‘

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے نو جون کو احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔ اس احتجاج کے پیش نظر حکومت نے 12 ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا ہے، جبکہ علاقے میں کم از کم 72 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

سوال ’اس وقت جو صورت حال ہے، اس کو مدنظر رکھتے ہوئے انتخابات میں تاخیر ہو سکتی ہے؟‘ کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تاخیر ’نہیں ہونی چاہیے۔ اللہ کرے حالات بہتر ہوں، کیونکہ حالات جس طرف جا رہے ہیں، اس میں یہ اندیشہ کیا جا سکتا ہے۔‘

سوال ’جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات میں 38 میں سے 35 مطالبات مان لیے گئے، تاہم وہ تین کون سے مطالبات تھے جن پر اختلاف تھا؟‘ پر وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بیشتر مطالبات حل ہو چکے ہیں، جو آزاد کشمیر کی حکومت سے متعلق تھے۔

راٹھور کے مطابق ’ان میں سے ایک ایشو رہ گیا تھا جو آئین سے متعلق تھا اور اس کے لیے ایک کمیٹی بنی تھی جو بتدریج ان کے ساتھ اجلاس کر رہی تھی۔

’لیکن جب ان کے ساتھ آخری مذاکرات کی میز پر بیٹھے تو اس تاخیر کو دور کرنے یا اس کا حل نکالنے کے لیے یہ کہا گیا کہ آپ مزید پانچ سے سات روز کا وقت دے دیں تاکہ اس مسئلے کو بھی ایڈریس کیا جا سکے۔ لیکن انہوں نے مزید ایک دن کا وقت بھی دینے سے انکار کر دیا۔‘

فیصل راٹھور کے مطابق ’یہ بھی کہا گیا کہ الیکشن شیڈول کا اعلان نہیں کیا جائے گا اور مہاجرین کی نشستوں کے لیے اتفاقِ رائے ضروری ہے۔ لیکن ان کی طرف سے انکار آیا، جس کی بنیاد پر یہ تحریک آج دوبارہ شروع ہوئی۔‘

سوال ’جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم کیوں قرار دینا پڑا؟ کیا خدشات تھے یا کوئی انٹیلیجنس رپورٹس تھیں؟‘ پر فیصل راٹھور نے کہا کہ ماضی سے لے کر آج تک ان کے ساتھ مذاکرات کبھی کامیاب نہیں ہوئے۔

’جب بھی مذاکرات ہوئے، اس کے بعد ایک ایسا واقعہ ہوا جس میں ریاست نے سرنڈر کیا۔‘

وزیر اعظم کے مطابق ’میرے خیال میں اب بھی یہی ہونا تھا اور ان کی طرف سے یہ واضح بیان آ گیا کہ اگر سارے مطالبات مان بھی لیے جائیں تو پھر بھی لانگ مارچ نہیں رکے گا۔ میرے خیال میں اس کے بعد پھر کیا رہ جاتا ہے۔‘

فیصل راٹھور نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی عوامی حمایت سے متعلق کہا کہ ’یہ ایک مقبول بیانیہ ہے، ان کے ساتھ عوامی سپورٹ موجود ہے۔ چونکہ انہوں نے ایک دو بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں، اس بنیاد پر لوگ ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یقیناً کشمیر کے اندر بجلی اور پانی کا ایک مسئلہ تھا، جس میں لوگوں کی کچھ محرومیاں تھیں، جو میرے خیال میں دور ہو گئیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’لیکن اس کے بعد اس سپورٹ کو غلط ٹریک پر لے جایا گیا اور بار بار حقوق کے نام پر ریاست کے اندر انتشار پیدا کیا گیا۔ تین دفعہ آپ ریاست کو سرنڈر کروا چکے ہیں، خدارا اب معاملات پر توجہ دیجیے، نہ کہ ریاست کو سرنڈر کروائیے۔

’اس کے بعد آپ خود سمجھتے ہیں کہ بین الاقوامی، قومی اور انڈین میڈیا اس کو مختلف حوالوں سے پیش کرتا ہے۔ یہ سازش ہے یا نہیں، میں کچھ نہیں کہتا، لیکن اس کا نقصان بے انتہا ہوتا ہے۔‘

مہاجرین کی نشستوں پر لچک سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ مہاجرین کی نشستوں کے بارے میں پاکستان پیپلز پارٹی کا اپنا بیانیہ ہے کہ ان نشستوں کو متناسب نمائندگی دی جائے اور اسمبلی کے براہِ راست انتخابات کے بجائے انہیں بالواسطہ طریقے سے لایا جائے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’شاید اس نکتے پر تو ہم خود بھی انہیں یہی کہہ رہے تھے۔ لیکن مسلم لیگ ن شاید اس کی بینیفشری ہے اور ان نشستوں کو برقرار رکھنے کی بھی بینیفشری ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ہم ان چھ نشستوں کو ختم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن پھر ان کا مطالبہ یہ ہے کہ 12 کی 12 نشستوں کو ختم کیا جائے اور انہیں کونسل میں منتقل کیا جائے۔‘

فیصل راٹھور کے مطابق ’مہاجرین کے بغیر ریاست آزاد جموں و کشمیر ممکن نہیں۔ اس پر ہمارا اتفاق ہے۔ ان کی نمائندگی کا کوئی طریقۂ کار تلاش کیا جا سکتا ہے۔‘

کشمیر میں نقل و حرکت یا لوگوں کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ایسی کوئی پابندی نہیں لگائی گئی۔

’لیکن حالات اس قدر خراب ہونے جا رہے ہیں کہ ہم چاہتے ہیں کہ صورت حال کا مکمل جائزہ لیا جائے تاکہ کوئی ایسا واقعہ نہ ہو جس میں کسی کو نقصان پہنچے۔ خدا نخواستہ اگر ہزاروں لوگ وہاں پھنس جائیں تو میرے خیال میں ذمہ داری ریاست پر آئے گی، اس لیے کوشش کی جا رہی ہے کہ حالات کو قابو میں رکھا جائے۔‘

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے گذشتہ شب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نامی جماعت کو کالعدم قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

نوٹیفکیشن کے متن کے مطابق: ’تنظیم کے خلاف امن و سلامتی کو نقصان پہنچانے کے معقول شواہد ہیں اور تنظیم ریاست میں انتشار پیدا کرنے میں ملوث پائی گئی۔‘

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے کے ساتھ ساتھ 37 دیگر مطالبات کے حق میں 9 جون کو کشمیر بھر میں پہیہ جام اور شٹرڈاؤن ہڑتال اور لانگ مارچ کی کال دی تھی۔

جس کے بعد گذشتہ رات سے اب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پولیس نے ’کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے وابستہ تقریباً 72 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

ترجمان انسپکٹر جنرل پولیس کشمیر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ابتدائی کارروائی کے دوران بعض گرفتار افراد سے اسلحہ، مواصلاتی آلات، مشتبہ دستاویزات، امنِ عامہ کو متاثر کرنے کے منصوبوں سے متعلق مواد، احتجاجی و پرتشدد سرگرمیوں کے منظم طریقہ کار/پلانز، اور غیر ملکی افراد سے مشکوک روابط کے اشارے بھی ملے ہیں، جن کی تفتیش قانون کے مطابق جاری ہے۔‘

جمعے کی شب راولاکوٹ میں تصادم کے نتیجے میں پولیس کے مطابق ایک شخص جان سے گیا اور تین زخمی ہو گئے جبکہ وادی میں گذشتہ رات سے انٹرنیٹ سروسز بھی معطل کر دی گئی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان