آٹھ عرب و اسلامی ممالک کی مسجد اقصٰی پر اسرائیلی کارروائیوں کی شدید مذمت

مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کی تاریخی، قانونی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے منظم اقدامات کر رہا ہے۔

27 مئی، 2026 کو مسجد اقصیٰ کے احاطے میں مسلمان جمع ہیں (اے ایف پی)

پاکستان سمیت آٹھ عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجدِ اقصیٰ میں اسرائیلی اقدامات اور اشتعال انگیز کارروائیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے جمعے کو کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں مقدس مقامات کے تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

جمعے کو جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔

اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیر ايتمار بن غفير نے جمعرات کو سینکڑوں یہودیوں کے ہمراہ مقبوضہ بیت المقدس میں مسلمانوں کے تیسرے مقدس ترین مقام مسجد الاقصیٰ کمپاؤنڈ پر دھاوا بول دیا جو ان انتظامات کی خلاف ورزی ہے جن کے تحت وہاں صرف مسلمانوں کو عبادت کی اجازت ہے۔

ايتمار بن غفير کے اس اقدام کی اردن اور فلسطینی حکام کی جانب سے مذمت کی گئی۔

مسلم حکام کے ساتھ دہائیوں پرانے ایک نازک انتظام کے تحت اس کمپاؤنڈ کا انتظام اردن کے ایک مذہبی ادارے کے پاس ہے اور یہودی وہاں آ تو سکتے ہیں لیکن اپنے مذہبی امور انجام نہیں دے سکتے۔

یہ اقدام یہودیوں کے مذہبی تہوار کے موقع پر کیا گیا، جو سوگ کا دن ہے جس میں قدیم یہودی ہیکل کی تباہی کو یاد کیا جاتا ہے۔

آٹھ ممالک کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی ’انتہا پسند وزرا‘ کی قیادت میں آبادکاروں کی مسلسل مسجدِ اقصیٰ میں دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ان کارروائیوں کا ہونا، مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانا، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنا اور دیگر اشتعال انگیز اقدامات ناقابلِ قبول ہیں۔

آٹھ ممالک نے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی جذبات کو مجروح کرتے ہیں بلکہ دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور دیرپا امن کے امکانات کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اعلامیے میں اسرائیلی ’انتہا پسند وزرا‘ اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، آبادکاروں کو مسجدِ اقصیٰ جانے کی ترغیب دینے اور تشدد پر اکسانے کے اقدامات کی بھی شدید مذمت کی گئی۔ وزرائے خارجہ نے کہا کہ اس طرح کی کارروائیاں نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں اور خطے میں امن کی کوششوں میں رکاوٹ بنتی ہیں۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ بیت المقدس کے قدیم شہر اور وہاں موجود عبادت گاہوں تک رسائی پر عائد پابندیاں، خصوصاً مسلمانوں کے لیے امتیازی اور من مانی پابندیاں، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں اور ان کا مقصد تاریخی و قانونی حیثیت کو تبدیل کرنا ہے۔

وزرائے خارجہ نے زور دیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ بیت المقدس یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کوئی خودمختاری حاصل نہیں۔

اعلامیے میں اسرائیل پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تقدس کو متاثر کرنے کے لیے مسلسل اور منظم اقدامات کر رہا ہے۔

وزرائے خارجہ نے مقبوضہ بیت المقدس اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تاریخی و قانونی اسٹیٹس کو میں کسی بھی تبدیلی کی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اردن کی تاریخی ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کی توثیق کی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجدِ اقصیٰ کا پورا 144 دونم پر مشتمل احاطہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اس کے انتظام و انصرام اور داخلے کے ضوابط طے کرنے کا واحد قانونی اختیار اردن کی وزارتِ اوقاف سے وابستہ بیت المقدس اوقاف اور مسجدِ اقصیٰ امور کے محکمے کے پاس ہے۔

بیان میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ، بطور قابض طاقت، فوری طور پر بیت المقدس کے قدیم شہر تک رسائی پر عائد پابندیاں ختم کرے اور مسلمان نمازیوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے نہ روکے۔

وزرائے خارجہ نے بین الاقوامی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو مقبوضہ میں اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے خلاف مبینہ خلاف ورزیوں اور غیر قانونی اقدامات سے باز رکھنے کے لیے مؤثر اور سخت مؤقف اختیار کرے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا