ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار باقر قالیباف نے اتوار کو دھمکی دی ہے کہ حالیہ جھڑپوں میں تہران کی جانب سے امریکی جنگی جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد اگر امریکہ نے مزید حملے کیے تو اس کا ’زیادہ سخت‘ جواب دیا جائے گا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایران اور امریکہ کے ایک دوسرے پر حملے گذشتہ ہفتے امریکی حملوں سے شروع ہوئے تھے اور ایسا دونوں ممالک کے درمیان چھ ماہ سے جاری جنگ کے دوران پیدا ہونے والے تعطل کے دوران ہوا۔
ایران نے اہم سٹریٹیجک مقام آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت برقرار رکھی ہوئی ہے جب کہ واشنگٹن کی جانب سے بھی ایرانی بندرگاہوں کی جوابی ناکہ بندی جاری ہے۔
واشنگٹن ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کے لیے اس کی معیشت کا گلا گھونٹنے کی بھی کوشش کر رہا ہے، جس کے لیے ایران سے مالی روابط رکھنے والے اداروں پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔
جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات میں چیف مذاکرات کار کا کردار ادا کرنے والے ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے اتوار کو کہا کہ ’متناسب جواب کا دور اب ختم ہو چکا ہے۔‘
ایران کے سرکاری میڈیا پر نشر ہونے والی ایک تقریر میں انہوں نے مزید کہا کہ ’ایران کے مفادات اور سکیورٹی کے خلاف کسی بھی جارحیت کا زیادہ تیز، زیادہ شدید اور زیادہ تکلیف دہ جواب دیا جائے گا۔‘
ایران کا آبنائے ہرمز کے قریب ’ممنوعہ علاقہ‘ بنانے کا اعلان
اسی دوران تہران کے اعلیٰ سکیورٹی چیف نے کہا کہ ایران آنے والے دنوں میں آبنائے ہرمز کے قریب ایک ’ممنوعہ علاقہ‘ قائم کرے گا۔
محسن رضایی نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ ’یہ علاقہ امریکی بحریہ کی ناکہ بندی کی لائن سے شروع ہو گا اور اس میں خلیج فارس کے علاقے شامل ہوں گے۔ اس نئے علاقے میں داخل ہونے والے کسی بھی جہاز کو ایران کی پابندیوں کی فہرست میں ڈال دیا جائے گا۔‘
ایران میں زیادہ استعمال کرنے والوں کے لیے پیٹرول مہنگا
روئٹرز کے مطانق ایرانی حکومت کے ترجمان نے اتوار کو بتایا کہ ایران منگل سے ماہانہ 110 لیٹر سے زیادہ پٹرول استعمال کرنے والے صارفین کے لیے قیمت میں اضافہ کر دے گا، جو کہ جنگ اور تباہ کن امریکی اقتصادی پابندیوں سے پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے کی کوششوں میں تیزی لانے کا حصہ ہے۔
سرکاری میڈیا پر نشر ہونے والے تبصروں میں فاطمہ مہاجرانی نے کہا کہ پہلے اور دوسرے کوٹے کی قیمت، جس میں 110 لیٹر شامل ہیں، برقرار رہے گی، تاہم تیسرے کوٹے کی قیمت بڑھا کر ایک لاکھ ایرانی ریال فی لیٹر (فری مارکیٹ ریٹ کے مطابق تقریباً چار امریکی سینٹ) کر دی جائے گی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایران میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر، جو دنیا میں سب سے کم قیمتوں میں سے ایک ہے، حکومت کی جانب سے تبادلہ خیال کیا گیا تھا اور نئے مظاہرے شروع ہونے کے خدشات کے پیش نظر اسے ملتوی کر دیا گیا تھا۔ اسی مسئلے پر 2019 میں ایران کو وسیع پیمانے پر مظاہروں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
فاطمہ مہاجرانی نے کہا کہ ایندھن کی زیادہ قیمت سے صرف وہ صارفین متاثر ہوں گے جنہیں ماہانہ 110 لیٹر سے زیادہ پٹرول درکار ہوتا ہے اور ایسا ’موجودہ حالات‘ کی وجہ سے کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دیگر گاڑی سوار اب بھی 60 لیٹر تک پٹرول 15 ہزار ریال فی لیٹر اور اضافی 50 لیٹر 30 ہزار ریال فی لیٹر کے حساب سے خرید سکتے ہیں۔
دسمبر میں ایران نے زیادہ تر صارفین کے لیے اپنے سبسڈی والے پٹرول کی قیمت میں جزوی طور پر اضافہ کیا تھا، کیوں کہ اوپیک کا یہ رکن ملک ایندھن کی بڑھتی ہوئی طلب کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔