پاکستان اپنی اہمیت کو کرائے میں بدلتا رہتا ہے

2018  سے 2022 کا عرصہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ جب یہ جغرافیائی سیاسی آمدنی کم ہو جائے تو کیا ہوتا ہے۔

13 نومبر 2016 کو گوادر بندرگاہ میں ایک تجارتی منصوبے کے افتتاح کے موقعے پر ایک پاکستانی سکیورٹی اہلکار تعینات ہے۔ ایران جنگ سے اس بندگاہ کی اہمیت بڑھی ہے (عامر قریشی / اے ایف پی)

پاکستان کے پاس جغرافیائی سیاسی اہمیت کی کبھی کمی نہیں رہی۔ اکثر کمی کسی اور چیز کی رہی ہے۔

پاکستان ایک بار پھر ایک جانے پہچانے مرحلے کے قریب پہنچ رہا ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اگلا جائزہ جلد متوقع ہے، ایسے ملک میں جو 1950 میں آئی ایم ایف کا رکن بننے کے بعد سے اب تک 25 فنڈ پروگراموں میں شامل ہو چکا ہے۔ ان میں سے ہر ایک نے کچھ مہلت دی، لیکن چند ہی ایسے تھے جنہوں نے معیشت کی بنیادی ساخت کو تبدیل کیا ہو۔

یہی دراصل گہرا مسئلہ ہے۔ پاکستان بار بار اپنی تزویراتی اہمیت اور بیرونی امداد کو وقتی ریلیف میں تبدیل کرتا رہا ہے۔ اس نے بہت کم مواقع پر ان عوامل کو معاشی تبدیلی میں ڈھالا ہے۔

یہ سلسلہ 1960 کی دہائی میں شروع ہوا۔ ایوب خان کے دور میں معیشت سالانہ 5 فیصد سے زیادہ کی شرح سے بڑھی۔ عالمی بینک نے پاکستان کو ترقی پذیر دنیا کے سب سے امید افزا ممالک میں شمار کیا۔

ترقی حقیقی تھی، لیکن اس ترقی کی نوعیت بھی اتنی ہی حقیقی تھی۔ صنعت کاری نے دولت کو ایک محدود طبقے تک مرکوز کر دیا۔ درآمدی لائسنس، سبسڈی والا قرض اور محفوظ منڈیاں، مسابقت کے بجائے تعلقات کو زیادہ فائدہ پہنچاتی تھیں۔

محبوب الحق، جو اس حکمت عملی کے اہم معماروں میں سے ایک تھے، بعد میں اس کے سب سے سخت ناقد بن گئے۔ نومبر 1968 میں انہوں نے پاکستان اکنامکس ایسوسی ایشن کو بتایا کہ ایک دہائی کی منصوبہ بندی نے کیا نتائج پیدا کیے: 22 خاندان دو تہائی صنعتی اثاثوں، 80 فیصد بینکاری سرمائے اور 70 فیصد انشورنس شعبے کے مالک تھے۔ برسوں بعد ان کا جائزہ اس سے بھی زیادہ سخت تھا۔

انہوں نے لکھا کہ معاشی اور سیاسی طاقت ’ایک چھوٹے سے اقلیتی طبقے‘ کی طرف منتقل ہو گئی تھی اور جب تک نظام کی بنیادی بنیادیں تبدیل نہ کی جائیں، ترقی کو ’چند مراعات یافتہ لوگوں کے حق میں بگڑ جانے‘ سے نہیں بچایا جا سکتا۔

یہ رجوع صرف عدم مساوات کی معروف کہانی نہیں بیان کرتا۔ محبوب الحق کی 1963 کی سٹریٹیجی آف اکنامک پلاننگ نے بڑے پیمانے کی صنعتوں میں سرمایہ کاری کے ارتکاز کا دفاع کیا تھا، اس مفروضے کے تحت کہ عدم مساوات، مساوات تک پہنچنے کے سفر کا ایک مرحلہ ہے۔

سماجی شعبوں میں سرمایہ کاری کے بارے میں وہ دو ٹوک تھے۔ انہوں نے لکھا کہ رہائش، صحت اور فلاحی منصوبے سماجی بنیادوں پر تو جائز قرار دیے جا سکتے ہیں، لیکن انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری کے معاشی فوائد کے حق میں دلائل اتنے مضبوط انداز میں شاذونادر ہی دیے گئے کہ وہ زیادہ مادی نوعیت کے منصوبوں کی واپسی کا مقابلہ کر سکیں۔

یہ ترجیحی ترتیب مہنگی ثابت ہوئی۔ پاکستان نے جسمانی یا مادی سرمائے کی تعمیر تو کی، لیکن اس انسانی سرمائے کو نظر انداز کر دیا جو ان اثاثوں کو پیداواری بنانے کے لیے ضروری تھا۔ تعلیمی اخراجات جی ڈی پی کے 2 فیصد سے کم رہے اور شرح خواندگی پوری دہائی میں بمشکل ہی بڑھی۔ اس کے برعکس جنوبی کوریا اور تائیوان نے تعلیم اور فنی مہارتوں کو سماجی خیرات نہیں بلکہ صنعتی تبدیلی کے آلات سمجھا۔

فرق صرف یہ نہیں تھا کہ مشرقی ایشیا نے زیادہ تیزی سے ترقی کی۔ فرق یہ تھا کہ مشرقی ایشیا نے ترقی کو اپنی معیشت کی تبدیلی کے لیے استعمال کیا جبکہ پاکستان نے ترقی کو اسی پرانی معیشت کو مزید مضبوط کرنے کے لیے استعمال کیا۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

غیر ملکی امداد نے اس فرق کو نظر انداز کرنا آسان بنا دیا۔ امریکی امداد نے درآمدات، بنیادی ڈھانچے اور کھپت کی مالی معاونت کی اور ساتھ ہی زراعت پر ٹیکس عائد کرنے، زمین داری کے ڈھانچے میں اصلاحات اور مالیاتی صلاحیت بڑھانے کے دباؤ کو کم کر دیا۔ امداد نے وقت خریدا، لیکن اس نے ایسی اصلاحات پر مجبور نہیں کیا جو ترقی کو خود کفیل بنا سکتیں۔

یہی منطق ضیا الحق کے دور میں واپس آئی۔ افغانستان پر سوویت قبضے کے خلاف امریکی اور سعودی کوششوں میں پاکستان کے کردار نے ایک اور بڑی جغرافیائی سیاسی آمدنی پیدا کی۔ امداد میں اضافہ ہوا، جنگ سے متعلق اخراجات ملک میں آئے اور خلیجی ممالک میں روزگار نے ترسیلات زر میں اضافہ کیا۔

ایک بار پھر پاکستان کو غیر متوقع فائدہ ملا اور ایک بار پھر اس نے ایسی معیشت تعمیر نہیں کی جو ان فوائد کے بغیر بھی ترقی کر سکتی۔ جب 1990 کی دہائی میں یہ آمدنیاں کم ہوئیں تو بنیادی کمزوریاں دوبارہ سامنے آ گئیں: گھریلو بچت کی کم شرح، کمزور برآمدات، محدود ٹیکس نظام اور ایسا صنعتی شعبہ جو مسابقتی دباؤ سے محفوظ تھا، حالانکہ یہی دباؤ اسے عالمی سطح پر پیداواری بنانے پر مجبور کر سکتا تھا۔

پھر چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) آئی، جسے ایک انقلابی منصوبہ قرار دیا گیا۔ اس نے سڑکیں، بجلی گھر، بندرگاہیں اور رابطے کا وہ ڈھانچہ فراہم کیا جس کی ملک کو شدید ضرورت تھی۔ لیکن بنیادی ڈھانچہ خود تبدیلی نہیں ہوتا بلکہ تبدیلی کے لیے ایک ذریعہ ہوتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کے بعد جو دوسرا مرحلہ آنا تھا، یعنی مسابقتی صنعت، عالمی سپلائی چینز میں شمولیت اور مستقل برآمدی ترقی، وہ ابھی تک وسیع پیمانے پر سامنے نہیں آ سکا۔ پاکستان نے مادی سرمایہ تو حاصل کر لیا، لیکن اسے مؤثر طور پر استعمال کرنے والا پیداواری ماحولیاتی نظام پیدا نہیں کیا۔

2018 سے 2022 کا عرصہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ جب یہ جغرافیائی سیاسی آمدنی کم ہو جائے تو کیا ہوتا ہے۔ عمران خان کی حکومت نے ریکارڈ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا سامنا کیا اور پہلے خلیجی ممالک کی مدد، پھر ایک اور آئی ایم ایف پروگرام کا رخ کیا۔ کووڈ وبا نے اس عمل میں رکاوٹ ڈال دی۔ 2022 تک کرنٹ اکاؤنٹ اور مالیاتی دباؤ دوبارہ واپس آ چکے تھے۔ نئی حکومت، استحکام کا ایک اور دور، اور وہی پرانا بنیادی ماڈل۔

یہی ماڈل اب موجودہ آئی ایم ایف پروگرام کے ساتھ کھڑا ہے۔ استحکام حقیقی ہے: زرمبادلہ کے ذخائر دوبارہ بنائے گئے ہیں اور اعتماد میں بہتری آئی ہے، لیکن ترقی کی رفتار اب بھی محدود ہے اور بیرونی ماحول بدل چکا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو تقریباً 3.6 فیصد ہے جبکہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث عالمی اجناس کی بڑھتی قیمتوں نے دو سال کی کمی کے بعد مہنگائی کو دوبارہ اوپر دھکیل دیا ہے۔

خود پروگرام میں ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے، مسابقت کو مضبوط بنانے، پیداواری صلاحیت اور مسابقت میں اضافہ کرنے اور انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری پر زور دیا گیا ہے۔ یہی وہ اصلاحات ہیں جنہیں ماضی کے استحکامی ادوار بار بار مؤخر کرتے رہے۔

جغرافیائی سیاسی آمدنیاں غیر یقینی ہوتی ہیں۔ ترسیلات زر نہایت اہم ہیں، لیکن وہ آمدنی کی منتقلی ہیں، مسابقتی برآمدات کا متبادل نہیں۔ قرض لے کر اصلاحات کو مؤخر کیا جا سکتا ہے لیکن اس سے پیداواری صلاحیت پیدا نہیں کی جا سکتی۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کو ایک ایسے مسئلے کا سامنا ہے جو ایک اور ادائیگیوں کے توازن کے بحران سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔ یہ محض تکرار کا معاملہ نہیں۔ ہر چکر ایک فوری رکاوٹ کو دور کرتا ہے، لیکن معیشت کو پہلے سے کم مسابقتی، کم پیداوار اور بیرونی مدد کے اگلے ذریعے پر زیادہ منحصر چھوڑ جاتا ہے۔ آئی ایم ایف مالی معاونت فراہم کر سکتا ہے، لیکن وہ وہ سیاسی اتحاد پیدا نہیں کر سکتا جو دیرپا تبدیلی کے لیے ضروری ہوتا ہے۔

پاکستان ایک بار پھر جغرافیائی سیاسی طور پر اہم ہو گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ اس اہمیت کے ساتھ کیا کرتا ہے۔

وہ اس موقعے کو ایک اور عارضی آمدنی میں بدل سکتا ہے: بیرونی سرمایہ کاری، ذخائر، معاہدے، ترسیلات زر اور مزید مہلت یا پھر وہ آخرکار وہ کام کر سکتا ہے جس سے ماضی کے ادوار بچتے رہے، یعنی انسانی سرمائے کی تعمیر، ٹیکس نیٹ کی توسیع، کاروباری اداروں کو مسابقت کا سامنا کروانا، تعلقات کے بجائے برآمدات کو انعام دینا اور ان صلاحیتوں میں سرمایہ کاری کرنا جو معیشت کو پیداواری بناتی ہیں۔

پاکستان نے کئی دہائیاں اپنے آپ کو تزویراتی طور پر اہم بنانے میں صرف کی ہیں، لیکن اس نے اپنے آپ کو معاشی طور پر مسابقتی بنانے پر بہت کم وقت صرف کیا ہے۔

یہی وہ تبدیلی ہے جو کبھی عمل میں نہیں آ سکی۔

جاوید حسن پاکستان اور بین الاقوامی سطح پر منافع بخش اور غیر منافع بخش دونوں شعبوں میں اعلیٰ انتظامی عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ شنگھائی کی فودان یونیورسٹی میں سینیئر وزٹنگ فیلو بھی رہ چکے ہیں۔ یہ تحریر ان کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ تحریر اس سے قبل عرب نیوز پر شائع ہوچکی ہے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ