پاکستان کے وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ گذشتہ سال میں مون سون بارشوں، اندرونی اور بیرونی چیلینجز اور مشرق وسطیٰ بحران کے باوجود پاکستانی معیشت نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے جمعرات کو بجٹ سے قبل ہونے والی پریس کانفرنس میں مالی سال 2025-26 کے اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اندرونی و بیرونی چیلنجز، عالمی غیر یقینی صورت حال، مون سون بارشوں اور مشرق وسطی کے بحران کے باوجود پاکستانی معیشت نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور معاشی ترقی کی شرح 3.7 فیصد رہی۔
انہوں نے بتایا کہ مارچ تک کے نو ماہ میں بڑے پیمانے کی صنعت میں 6.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ مالی سال 2026 میں زرعی شعبے کی نمو 2.89 فیصد رہی، جو مالی سال 2025 میں 1.53 فیصد تھی۔ جبکہ مالی سال کے پہلے نو ماہ میں مالیاتی خسارہ 0.7 فیصد رہا۔
وزیر خزانہ کے مطابق توقع ہے کہ جون کے اختتام تک زرمبادلہ کے ذخائر درآمدات کے تین ماہ کے اخراجات کے برابر ہو جائیں گے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ مالی سال کے آغاز میں امریکہ کی جانب سے مختلف ممالک پر ٹیرف کے نفاذ کے باعث غیر یقینی صورت حال پیدا ہوئی، جبکہ مون سون بارشوں نے بھی معیشت کو متاثر کیا۔
قومی اقتصادی سروے کے مطابق ملک کی مجموعی افرادی قوت (لیبر فورس) آٹھ کروڑ 31 لاکھ 40 ہزار افراد پر مشتمل ہے، جن میں سے سات کروڑ 72 لاکھ افراد برسر روزگار ہیں، جبکہ 59 لاکھ افراد بے روزگار ہیں۔ اس طرح بیروزگاری کی شرح میں 7.1 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستانی معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے جبکہ زرعی شعبے کی شرح نمو 2.89 فیصد رہی۔
ان کے مطابق ڈیری اور لائیو سٹاک کا زرعی معیشت میں 60 فیصد حصہ ہے۔ جبکہ بڑی صنعتوں کی شرح نمو 6.1 فیصد رہی اور مینوفیکچرنگ کے 22 میں سے 16 شعبوں میں بہتری دیکھی گئی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
محمد اورنگزیب کے مطابق شرح خواندگی میں 63 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ جبکہ سپورٹس مصنوعات کی برآمدات تین ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں اور آئیندہ فیفا ورلڈ کپ میں پاکستان میں تیار کردہ فٹ بال استعمال کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ فری لانسرز کا حصہ ایک ارب ڈالر تک پہنچ رہا ہے جبکہ ملک میں رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد تین لاکھ تک پہنچ چکی ہے اور رواں سال 39 ہزار نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں۔
اقتصادی سروے کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہو کر 252 ملین ڈالررہ گیا ہے جبکہ زرعی قرضوں میں 15 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ملک میں شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ چکی ہے
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان نے پانڈا بانڈ کا کامیاب اجرا کیا ہے۔
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ ملک میں 39 ہزار سے زائد نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔ اس سے قبل گذشتہ روز پارلیمان میں جمع کروائے گئے جواب میں وزارت تجارت نے بتایا تھا کہ گذشتہ تین برس میں کوئی بین الاقوامی کمپنی ملک چھوڑ کر نہیں گئی۔