زرِ مبادلہ ذخائر بڑھانے کے لیے پاکستان کی امریکہ سے 10 ارب ڈالر کی درخواست: رپورٹ

زرِ مبادلہ کے استحکام کی سہولیات امریکی محکمۂ خزانہ کی جانب سے شاذ و نادر فراہم کی جانے والی حفاظتی مالی سہولیات ہوتی ہیں، تاکہ زرِ مبادلہ کے ذخائر کو سہارا دیا جا سکے اور کرنسی کو مستحکم رکھا جا سکے۔

22 جولائی 2026 کو پاکستانی وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کی گئی اس تصویر میں وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگ زیب کو واشنگٹن میں امریکی ہم منصب سکاٹ بیسنٹ سے ملاقات کے موقعے پر مصافحہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے (وزارت خزانہ فیس بک اکاؤنٹ)

خبر رساں ادارے روئٹرز نے معاملے سے باخبر ایک ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان نے امریکہ سے 10 ارب ڈالر کی زرِ مبادلہ کے استحکام کی سہولت (Exchange Stabilization  Facility)  کی درخواست کی ہے، جس کی منظوری کی صورت میں ملک کی معیشت کو بڑا سہارا مل سکتا ہے۔

روئٹرز کے مطابق اس درخواست کی خبر پہلی بار سامنے آئی ہے۔ یہ اقدام ایران جنگ سے متعلق مذاکرات میں پاکستان کے بطور ثالث کردار کے بعد کیا گیا، جس سے اسلام آباد کی سفارتی اہمیت میں اضافہ ہوا۔

امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ کو بھیجی گئی درخواست میں اسلام آباد نے امریکہ اور حکومتِ پاکستان کے درمیان دوطرفہ زرِ مبادلہ کے استحکام اور معاونتی سہولت (Bilateral Exchange Stabilization Support Facility) کے قیام کی درخواست کی ہے، جس کا حجم 10 ارب ڈالر اور مدت زیادہ سے زیادہ پانچ سال ہوگی۔

اگر اس سہولت کی منظوری مل جاتی ہے تو اس سے پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر مضبوط ہوں گے، روپے پر دباؤ کم ہوگا اور کثیرالجہتی مالی معاونت پر انحصار میں کمی آئے گی، جبکہ اسلام آباد آئی ایم ایف پروگرام کے تحت سخت مالیاتی اور زری پالیسیوں پر عمل جاری رکھے گا۔

امریکی محکمۂ خزانہ نے اس درخواست پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

دوسری جانب پاکستان کی وزارتِ خزانہ نے کاروباری اوقات ختم ہونے کے بعد روئٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست پر فوری ردِعمل نہیں دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستانی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے منگل کو واشنگٹن میں سکاٹ بیسنٹ سے ملاقات کی۔ وزارتِ خزانہ کے بیان کے مطابق انہوں نے خطے میں جغرافیائی سیاسی صورت حال کے باعث ملکی معیشت کو درپیش کمزوریوں کا معاملہ اٹھایا، تاہم بیان میں 10 ارب ڈالر کی اس درخواست کا ذکر نہیں کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ ’سینیٹر محمد اورنگزیب نے پاکستان کی منڈی پر مبنی معیشت کی جانب پیش رفت کے لیے امریکہ سے مزید تعاون کی درخواست کی، جس کی بنیاد بین الاقوامی سرمایہ منڈیوں تک بہتر رسائی، زیادہ زرِ مبادلہ ذخائر اور خودمختار قرضہ جاتی درجہ بندی میں بہتری پر ہو۔‘

بیان کے مطابق دونوں فریقوں نے دوطرفہ معاشی تعاون کو مزید گہرا کرنے، پاکستان میں امریکی سرمایہ کاری بڑھانے اور سٹریٹجک منصوبوں کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت ہے، جس کے باعث حکومت کو سیاسی طور پر غیر مقبول ٹیکسوں میں اضافے، اخراجات میں کمی اور معاشی اصلاحات نافذ کرنا پڑی ہیں۔

زرِ مبادلہ کے استحکام کی سہولیات امریکی محکمۂ خزانہ کی جانب سے شاذ و نادر فراہم کی جانے والی حفاظتی مالی سہولیات ہوتی ہیں، جو عموماً ایکسچینج سٹیبلائزیشن فنڈ کے ذریعے دی جاتی ہیں اور ان کے تحت ڈالر، کرنسی تبادلے (سواپ) یا ضمانتیں فراہم کی جاتی ہیں تاکہ زرِ مبادلہ کے ذخائر کو سہارا دیا جا سکے اور کرنسی کو مستحکم رکھا جا سکے۔

یہ سہولیات امریکی فیڈرل ریزرو کی بعض بڑے مرکزی بینکوں کے ساتھ موجود مستقل ڈالر سواپ لائنوں سے مختلف ہوتی ہیں، جو عالمی مالیاتی استحکام برقرار رکھنے کے لیے امریکی ڈالر کی فراہمی کا ذریعہ بنتی ہیں۔

2025 میں ارجنٹائن کے لیے منظور کیا گیا پیکیج، 2002 میں یوراگوئے کے بعد کسی غیر ملکی حکومت کے لیے پہلی نئی زرِ مبادلہ استحکام سہولت تھی، جبکہ میکسیکو کے ساتھ 1940 کی دہائی سے قائم مستقل سواپ لائن کا حجم اس وقت 9 ارب ڈالر ہے۔

پاکستان نے 2023 میں آئی ایم ایف کے 3 ارب ڈالر کے سٹینڈ بائی معاہدے کی بدولت دیوالیہ ہونے سے بمشکل بچاؤ کیا۔ بعد ازاں اسے 7 ارب ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت اور موسمیاتی تبدیلی و قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے الگ سے 1.3 ارب ڈالر کا قرض بھی ملا۔

اس کے باوجود پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر اب بھی سرکاری مالی معاونت، قرضوں کی تجدید اور چین و سعودی عرب کے جمع کروائے گئے فنڈز پر منحصر ہیں۔

اس صورت حال کے باعث اسلام آباد دوطرفہ مالی تعاون میں تبدیلی یا آئی ایم ایف کی قسطوں میں تاخیر سے متاثر ہو سکتا ہے۔ اپریل میں اس کمزوری کی مثال اس وقت سامنے آئی جب پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو تقریباً 3.5 ارب ڈالر واپس کیے، جو اس وقت اس کے کل ذخائر کا تقریباً پانچواں حصہ تھے، جبکہ سعودی عرب نے 3 ارب ڈالر کی نئی مالی معاونت فراہم کی۔

پاکستان کے مرکزی بینک نے جنوری میں کہا تھا کہ زرِ مبادلہ کے ذخائر 2026 کے اختتام تک بڑھ کر تقریباً 20 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں، جو 2021 کی ریکارڈ سطح کے قریب ہوگا۔

واشنگٹن کے ساتھ تعلقات کی نئی تشکیل

امریکہ کی جانب سے زرِ مبادلہ استحکام سہولت نہ صرف مالی وسائل کے لیے حفاظتی سہارا ثابت ہوگی بلکہ ایک اہم سیاسی اشارہ بھی سمجھی جائے گی، جس سے ذخائر اور پاکستانی روپے پر دباؤ کم ہوگا اور ملک کا آئی ایم ایف کی قسطوں اور ہنگامی مالی امداد پر انحصار بھی گھٹے گا۔

آئی ایم ایف کی معاونت سے کی گئی اصلاحات نے معیشت کو استحکام تو دیا ہے، لیکن اس کی سیاسی قیمت بھی ادا کرنا پڑی، جس میں ٹیکسوں میں اضافہ، سرکاری اخراجات میں کمی اور ترقیاتی و سماجی بہبود کے اخراجات کے لیے محدود گنجائش شامل ہے۔

 

درجہ بندی کرنے والے ادارے فچ نے اپریل میں کہا تھا کہ پاکستان کی جانب سے آئی ایم ایف پروگرام پر عملدرآمد نے ملک کی مالی وسائل حاصل کرنے کی صلاحیت کو سہارا دیا ہے، جبکہ زرِ مبادلہ کے دوبارہ تعمیر کیے گئے ذخائر مشرقِ وسطیٰ کے تنازع سے پیدا ہونے والے معاشی جھٹکوں کے خلاف ایک حفاظتی ڈھال فراہم کرتے ہیں۔

تاہم فچ نے خبردار کیا کہ بڑھتی ہوئی توانائی کی قیمتیں اور رسد میں ممکنہ رکاوٹیں پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر کو تیزی سے کم کر سکتی ہیں۔

پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری بدستور محدود رہی ہے کیونکہ بیرونی مالی بحرانوں کی تکرار، پالیسیوں میں غیر یقینی صورت حال، سکیورٹی خدشات، ماضی میں منافع بیرونِ ملک منتقل کرنے پر پابندیاں، محدود برآمدی بنیاد اور کمزور قرضہ جاتی درجہ بندی سرمایہ کاروں کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ اس وجہ سے قرض لینے کی لاگت زیادہ اور عالمی مالیاتی منڈیوں تک رسائی محدود ہے۔

پاکستان نے ان مسائل کے حل کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ تعلقات کو استعمال کرنے کی کوشش کی ہے اور اب تک دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون کرپٹو کرنسی، جائیداد اور معدنیات کے شعبوں تک پھیل چکا ہے۔

پاکستان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خاندان کے مرکزی کرپٹو کاروبار ورلڈ لبرٹی فنانشل سے وابستہ ایک ادارے کے ساتھ سرحد پار ادائیگیوں کے لیے بھی سٹیبل کوائن معاہدہ کیا ہے۔

اس کے علاوہ پاکستان نے نیویارک میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی ملکیت میں موجود بند روزویلٹ ہوٹل کی دوبارہ ترقی کے لیے امریکی حکومت کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر پیش رفت کی ہے، جبکہ ریکوڈک سمیت معدنی منصوبوں میں امریکی سرمایہ کاری کی بھی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے، جہاں امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک پہلے ہی 1.25 ارب ڈالر کی مالی معاونت کا اعلان کر چکا ہے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت