عالمی اعزاز جیتنے والی پاکستانی طالبہ علشبا وزیر مستقبل میں کیا کرنا چاہتی ہیں؟

چین میں منعقدہ ہارورڈ ماڈل یونائیٹڈ نیشنز چائنہ 2026 میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی گریڈ 11 کی طالبہ علشبا وزیر نے ’ممتاز سفارت کار‘ کا اعزاز حاصل کیا۔

چین میں منعقدہ ہارورڈ ماڈل یونائیٹڈ نیشنز چائنہ 2026 میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی گریڈ 11 کی طالبہ علشبا وزیر نے ’ممتاز سفارت کار‘ کا اعزاز حاصل کیا ہے جب کہ پاکستانی طلبہ کی ٹیم نے ’ممتاز مختصر وفد‘ ایوارڈ بھی اپنے نام کیا۔

سندھ کے گاؤں نصیر آباد سے تعلق رکھنے والی علشبا ان دنوں کراچی میں زیر تعلیم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ان کے علاقے کی ایک لڑکی عالمی فورم پر پاکستان کی نمائندگی کرکے کامیابی حاصل کرسکتی ہے تو وہاں کے دیگر بچے بھی آگے بڑھنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

ہارورڈ ماڈل یونائیٹڈ نیشنز چائنہ کا 16واں سیشن 15 سے 18 اگست 2026 تک چین کے شہر گوانگژو میں منعقد ہوا۔ منتظمین کے مطابق اس عالمی کانفرنس میں 20 سے زائد ممالک کے ہائی سکول طلبہ نے شرکت کی اور 14 کمیٹیاں قائم کی گئی تھیں۔

یہ کانفرنس دنیا بھر کے ہائی سکول طلبہ کو مختلف ممالک کے مندوبین کا کردار ادا کرتے ہوئے عالمی مسائل پر بحث، مذاکرات اور سفارتی مشاورت کے ذریعے ممکنہ حل پیش کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

علیشبا وزیر کو سماجی، انسانی اور ثقافتی امور کی کمیٹی ’سوکم‘ میں تیونس کی نمائندگی سونپی گئی تھی۔ کمیٹی کا موضوع غیر ملکی امداد کا مستقبل تھا۔ اگرچہ وہ پاکستان کی جانب سے کانفرنس میں شریک ہوئی تھیں، تاہم  اقوام متحدہ کے طریقہ کار کے تحت انہیں تیونس کے قومی مفادات اور پالیسیوں کے مطابق مؤقف پیش کرنا تھا۔

کمیٹی میں بحث، مذاکرات، سفارتی حکمت عملی اور باہمی تعاون میں نمایاں کارکردگی پر علیشبا کو ’ممتاز سفارت کار‘ قرار دیا گیا۔ ان کی روم میٹ سالکہ مرتضیٰ نے بھی سماجی ترقی کے کمیشن میں سفارت کاری کے اعتراف میں اعزاز حاصل کیا، جب کہ پاکستانی ٹیم کے دیگر طلبہ نے اپنی کمیٹیوں میں نمایاں کارکردگی دکھائی۔ ٹیم کو مجموعی طور پر ’ممتاز مختصر وفد‘ کا ایوارڈ ملا۔

’میرے علاقے کے ہر بچے میں آگے بڑھنے کی صلاحیت ہے‘

علیشبا وزیر کے لیے یہ کامیابی محض ایک مقابلے میں اعزاز حاصل کرنے تک محدود نہیں۔ وہ مستقبل میں اپنے آبائی علاقے کے ان بچوں کے لیے کام کرنا چاہتی ہیں جنہیں اب بھی بنیادی تعلیم کے مناسب مواقع میسر نہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے کہا: ’میرے علاقے میں ہزاروں بچے ایسے ہیں جنہیں پرائمری یا ہائر سیکنڈری سکول تک جانے کی سہولت حاصل نہیں۔‘

علیشبا وزیر کا کہنا تھا کہ مستقبل میں موقع ملنے پر وہ اپنے علاقے میں سکول قائم کرنے اور طلبہ و اساتذہ کی حوصلہ افزائی کے لیے کام کریں گی۔

انہوں نے کہا: ’اگر میں ایک دن ایسے مقام پر پہنچی تو انشااللہ ان بچوں کے لیے سکول بنوانے کی کوشش کروں گی اور طلبہ اور اساتذہ کی حوصلہ افزائی کروں گی تاکہ بچوں کو تعلیم مل سکے۔‘

علیشبا وزیر اپنی کامیابی کو علاقے کے دوسرے بچوں کے لیے امید کی علامت سمجھتی ہیں۔

ان کے بقول: ’اگر میرے علاقے سے آنے والی ایک لڑکی ہارورڈ کے فورم پر جیت سکتی ہے تو وہاں کے دوسرے بچوں میں بھی آگے بڑھنے، پاکستان کا نام روشن کرنے اور اپنے لیے باعث فخر بننے کی صلاحیت موجود ہے۔‘

اپنے تجربے کے بارے میں انہوں نے کہا: ’ہونا یا نہ ہونا کبھی اصل سوال نہیں تھا، اصل اہمیت زندگی گزارنے اور تجربات حاصل کرنے کی تھی۔‘

ان کے مطابق کانفرنس نے انہیں ایوارڈ کے ساتھ مختلف ممالک کے طلبہ سے بات چیت، مذاکرات اور سفارت کاری کو عملی طور پر سمجھنے کا موقع بھی دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

علیشبا اپنی کامیابی کا کریڈٹ والدین اور اساتذہ کو دیتی ہیں۔ ان کے مطابق والدین نے انہیں آگے بڑھنے، مباحثوں میں حصہ لینے اور نئے تجربات حاصل کرنے کی آزادی دی، جبکہ اساتذہ نے ماڈل اقوام متحدہ اور دیگر مباحثوں کی تیاری میں ان کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کی۔

’میری بچی اپنے علاقے کے بچوں کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہے‘

علیشبا کے والد وزیر کھوسو اس کامیابی سے زیادہ اپنی بیٹی کے مستقبل کے مقاصد کو اہم سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق علیشبا گھر میں اکثر اپنے گاؤں اور وہاں بچوں کو درپیش تعلیمی مسائل کا ذکر کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا: ’وہ کہتی ہے کہ ہمارے گاؤں میں آج تک بنیادی سہولیات موجود نہیں اور بعض مقامات پر پرائمری سکول بھی نہیں۔ وہ ان علاقوں کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہے۔‘

وزیر کھوسو کے مطابق علیشبا اپنے علاقے کو محض پسماندہ نہیں سمجھتیں بلکہ اسے ایک ایسا خطہ قرار دیتی ہیں جسے طویل عرصے سے نظر انداز کیا گیا۔

 وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد سی ایس ایس یا کسی ایسے شعبے میں جانا چاہتی ہیں جہاں سے عالمی سطح پر پاکستان، بالخصوص سندھ کے بچوں کے تعلیمی مسائل اجاگر کرسکیں۔

ان کا کہنا تھا: ’میری بچی سی ایس ایس یا ایسی تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہے جس کے ذریعے اقوام متحدہ میں آواز اٹھا سکے کہ پاکستان، خاص طور پر سندھ میں بچوں کے لیے تعلیم کا معیار کمزور ہے اور اسے بہتر کرکے کم از کم برابر کی سطح پر لانا ضروری ہے۔‘

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی نئی نسل