کیا آپ خود کو تنہا محسوس کرتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو کیا آپ یہ بات کھل کر تسلیم کر سکتے ہیں؟
جب میں اپنی زندگی کے سب سے زیادہ تنہائی بھرے دور سے گزر رہی تھی تو میں ایسا نہیں کر سکتی تھی۔ صرف یہ کہنا کہ ’میں تنہا ہوں‘ میرے لیے بے حد شرمندگی کی بات محسوس ہوتی تھی۔
میں اس وقت عمر کی تیسری دہائی کے آخری برسوں میں تھی اور مجھے لگتا تھا کہ مجھے زندگی کے بہترین دور میں ہونا چاہیے، ایسی زندگی گزارنی چاہیے جس پر مجھ سے بڑی عمر کے لوگ رشک کریں لیکن حقیقت یہ تھی کہ میں اپنے والدین کے دوستوں اور ان کی بھرپور سماجی زندگی سے حسد کرتی تھی۔
اس وقت میں ایک دوراہے پر کھڑی تھی۔ بچپن کے جن دوستوں کے ساتھ میری پرورش ہوئی تھی، اب ان سے میری بہت سی باتیں مشترک نہیں رہی تھیں۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
وہ شادی اور بچوں کی زندگی میں آگے بڑھ رہے تھے اور دلچسپ بات یہ تھی کہ وہ سب ایک دوسرے کے بہت قریب تھے۔ جتنا زیادہ وقت میں ان کے ساتھ گزارتی، اتنا ہی زیادہ خود کو تنہا محسوس کرتی۔
دفتر میں میری جان پہچان کے کئی ایسے لوگ تھے جو غیر شادی شدہ تھے، لیکن ان میں سے بہت کم ایسے تھے جو قریبی دوست بن سکے۔
اگرچہ ہفتے کے دنوں میں میری ڈائری دوستوں کے ساتھ کھانے پینے اور ملنے جلنے کے پروگراموں سے بھری رہتی تھی، لیکن ان ملاقاتوں سے وہ قربت حاصل نہیں ہوتی تھی، جس کی مجھے شدت سے ضرورت تھی۔
اکثر میں گھر سے نکلنے کے مقابلے میں واپس آتے وقت خود کو زیادہ تنہا محسوس کرتی تھی۔
معلوم ہوا کہ اس مسئلے سے دوچار میں اکیلی نہیں تھی۔ ایک نئی تحقیق کے مطابق برطانیہ کے نوجوان تیزی سے ’سب سے زیادہ تنہا نسل‘ بنتے جا رہے ہیں۔ ان میں 10 سال پہلے کے مقابلے میں قریبی دوست نہ ہونے کا امکان پانچ گنا زیادہ ہو گیا ہے۔
ایک ایسی دنیا میں جہاں زندگی تیزی سے ڈیجیٹل ہو چکی ہے اور جو کرونا وبا اور معاشی مشکلات سے بھی متاثر ہوئی ہے، نوجوان اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں اور ایک دوسرے سے کہیں زیادہ دور ہو گئے ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ فار پبلک پالیسی ریسرچ کی ایک رپورٹ کے مطابق انگلینڈ میں اب ہر 20 میں سے ایک نوجوان کا کہنا ہے کہ اس کا کوئی قریبی دوست نہیں جبکہ 2014 میں یہ تعداد ہر 100 میں سے ایک تھی۔
16 سے 21 سال کی عمر کے ان نوجوانوں میں بھی نمایاں کمی آئی ہے، جن کے کم از کم تین قریبی دوست ہیں۔ دوستیوں کا معیار بھی متاثر ہوا ہے اور 14 اور 15 سال کی عمر کے پہلے کے مقابلے میں کم نوجوان اب اپنی دوستیوں سے خوش ہیں۔
کتاب ’لیٹس ٹاک اباؤٹ لونلی نیس‘ کی مصنفہ سیمون ہینگ کے مطابق تنہائی دراصل اس فرق کا نام ہے جو انسان جتنی اور جس نوعیت کی قربت چاہتا ہے اور اسے جتنی اور جس نوعیت کی قربت مل رہی ہوتی ہے، ان دونوں کے درمیان موجود ہوتا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ جس شخص یا لوگوں سے آپ کو مطلوبہ قربت نہیں مل رہی، ان کے سامنے اس بارے میں بات کرنا مشکل ہو سکتا ہے، کیونکہ وہ اسے برا سمجھ سکتے ہیں اور نتیجتاً آپ مزید سماجی طور پر الگ تھلگ ہو سکتے ہیں، جو اس وقت آپ کی ضرورت کے بالکل برعکس ہے۔
وہ مزید کہتی ہیں کہ ’تنہائی کے ساتھ سماجی بدنامی کا تصور بھی جڑا ہوا ہے۔ ہم نے جرائم پر مبنی پروگراموں میں اکثر دیکھا ہے کہ معاشرے سے کٹے ہوئے اور تنہا لوگ بعض اوقات جرائم کی طرف جاتے ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ ہمیں بھی ایسے لوگوں میں شمار کیا جائے۔ ہمیں خدشہ ہوتا ہے کہ اگر ہم کہیں کہ ہم تنہا ہیں تو ہم خود کو معاشرے کے حاشیے پر موجود لوگوں کے قریب لے جا رہے ہیں۔‘
تنہائی سے متعلق یہ تصورات آج بھی موجود ہیں اور یہی وجہ تھی کہ مجھے بھی اپنی تنہائی تسلیم کرنے میں بہت وقت لگا۔ مجھے یہ خیال ہی برا لگتا تھا کہ میں خود کو تنہا کہوں۔ یہ میرے لیے شرمندگی اور کمزوری کی علامت محسوس ہوتی تھی۔
کتاب ’دا لونلی سٹی‘ کی مصنفہ اولیویا لائنگ نے حال ہی میں لکھا کہ تنہا لوگ بھی اکثر یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ان کی تنہائی ان کی اپنی غلطی ہے اور ان کی شخصیت میں ہی کوئی ایسی خرابی ہے جو دوسروں کو ناپسند ہے۔
آخرکار ایک ہفتے کی رات میں نے اپنی تنہائی کو تسلیم کر لیا۔ میں گھر میں اکیلی تھی، پاجامہ پہنے پیزا کھاتے ہوئے فلمیں دیکھ رہی تھی اور مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے کسی فلم کی تنہا ہیروئن ہوں۔ اسی وقت مجھے احساس ہوا کہ اب میں خود سے یہ حقیقت چھپا نہیں سکتی: میں واقعی تنہا تھی۔
جتنی شرمندگی محسوس ہو رہی تھی، اتنا ہی ضروری تھا کہ میں یہ دکھاوا کرنا بند کر دوں کہ سب کچھ ٹھیک ہے اور تسلیم کروں کہ میں اداس اور تنہا ہوں۔
پیچھے مڑ کر دیکھوں تو وہ رات میری تنہائی کا مسئلہ حل کرنے میں انتہائی اہم ثابت ہوئی۔
میں اپنی دوستیوں اور اپنی محبت کی زندگی کی حالت پر رو رہی تھی، لیکن اس دوران میں نے پہلی بار اپنے جذبات کو محسوس کرنے کی اجازت دی۔ میں تکلیف اور شرمندگی سے بھاگنے، زیادہ سے زیادہ مصروف رہنے یا سوشل میڈیا پر سکرول کرکے خود کو بہلانے کے بجائے پہلی بار اس دکھ کو محسوس کرنے اور اسے قبول کرنے لگی۔
سیمون ہینگ کے مطابق خود سے دوبارہ جڑنے کا یہ لمحہ انتہائی اہم ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ زیادہ تر تنہا لوگوں کو یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ تنہائی کا شکار ہیں، جب تک کہ ان کا رشتہ ختم نہ ہو جائے یا وہ کسی عزیز کو کھو نہ دیں۔
اپنی تنہائی کو پہچاننے کے لیے انسان کا خود سے مضبوط تعلق ہونا ضروری ہے، کیونکہ تنہائی کا شکار ذہن ہمیشہ منطقی انداز میں کام نہیں کرتا اور بعض اوقات انسان کو اپنی کیفیت کو غلط سمجھنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
ان کے مطابق ہم اتنے مصروف رہتے ہیں کہ اپنے ساتھ بیٹھ کر یہ محسوس کرنے کا وقت ہی نہیں ملتا کہ ہم تنہا ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ فون ایک طرف رکھیں اور خود سے یہ پوچھیں کہ آپ واقعی کیسا محسوس کر رہے ہیں۔
شاید یہی وجہ ہے کہ مسلسل تنہائی کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ مسلسل آن لائن رہنے والے نوجوانوں میں تنہائی کی شرح بھی زیادہ ہے۔
یہاں تک کہ ’تنہائی کے انفلوئنسرز‘ کا ایک نیا رجحان بھی سامنے آیا ہے۔ ان میں 24 سالہ سولو انفلوئنسر لانا سولو لائف بھی شامل ہیں، جو ایسی ریلز پوسٹ کرتی ہیں جن میں ایک ایسی لڑکی کی زندگی دکھائی جاتی ہے جو اکیلی رہتی ہے، اس کا کوئی دوست نہیں اور وہ رات 10 بج کر 4 منٹ پر سودا سلف لینے جاتی ہے۔
ہینگ ان انفلوئنسرز کے بارے میں خبردار کرتی ہیں کہ سوشل میڈیا پر زیادہ ویوز حاصل کرنے کے لیے لوگوں کی کمزوریوں اور جذبات کو استعمال کرنے کے رجحان پر نظر رکھنا ضروری ہے۔
ان کے مطابق تنہائی کا شکار لوگوں کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ وہ دوسروں کے ساتھ اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں ضرورت سے زیادہ باتیں کرنے لگتے ہیں۔
جب ذہن کو تعلق اور قربت کی شدید ضرورت محسوس ہوتی ہے تو وہ سوچتا ہے کہ ’میں انہیں اپنی پوری زندگی کے بارے میں بتا دیتا ہوں۔‘ اگر ایسا کرنے کے لیے آپ کے پاس کوئی دوسرا شخص نہیں تو انٹرنیٹ اور ٹک ٹاک موجود ہیں۔
مجھے بھی اپنی تنہائی تسلیم کرنے میں شرمندگی محسوس ہوتی تھی، اس لیے میں نے کبھی اسے آن لائن بیان نہیں کیا۔
لیکن اس رات خود سے دوبارہ جڑنے کے بعد چیزیں بدلنے لگیں۔ میں دوسروں سے تعلق بنانے پر اتنی توجہ مرکوز کیے ہوئے تھی کہ اپنے ساتھ اپنے تعلق کو بھول گئی تھی۔
اپنی موجودہ حالت کو قبول کرنے سے مجھے خود سے زیادہ جڑنے کا موقع ملا۔ مجھے معلوم تھا کہ نئے دوست بنانے میں وقت لگے گا، اس لیے اس دوران میری توجہ خود کے ساتھ وقت گزارنے پر ہونی چاہیے۔
کتاب ’نیویگیٹنگ لونلی نیس: ہاؤ ٹو کونیکٹ ود یورسیلف اینڈ ادرز‘ کی مصنفہ چیرل رک مین بھی اس کی اہمیت پر زور دیتی ہیں۔
ان کے مطابق تنہائی میں ملنے والے وقت کو خود کو سمجھنے اور اپنی ذات سے واقف ہونے کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔
ان کے بقول: ’خود سے مضبوط تعلق دوسروں سے بہتر تعلق بنانے کی بنیاد بنتا ہے، کیونکہ ہم اپنی ذات کے ساتھ جتنا بہتر محسوس کرتے ہیں، دوسروں کے ساتھ رہنے میں بھی اتنے ہی بہتر ہوتے ہیں۔‘
نئے دوستوں کی تلاش میں گھر سے نکلنے سے پہلے میں نے ایک ایسا کام کیا، جو ہینگ اور رک مین دونوں تجویز کرتی ہیں: میں نے رضاکارانہ کام شروع کر دیا۔
میں نے اپنے علاقے کے ایج یو کے مرکز میں ایک نیل بار قائم کی، جہاں میں اکثر ان عمر رسیدہ خواتین کے ہاتھوں کے ناخن سنوارتی تھی جو مجھ سے کہیں زیادہ تنہائی کا شکار تھیں۔ اس تجربے نے مجھے اپنی زندگی سے باہر دیکھنے اور ایسے لوگوں سے تعلق بنانے میں مدد دی جن سے شاید میری کبھی ملاقات نہ ہوتی۔
جب میری زندگی میں ایک انتہائی تکلیف دہ رشتہ ختم ہوا تو ان خواتین نے اپنے زندگی کے تجربات کی روشنی میں مجھے تسلی دی اور یاد دلایا کہ زندگی صرف ایک شخص کے گرد نہیں گھومتی بلکہ اس سے کہیں بڑی ہے۔
اس تجربے نے مجھے یہ یقین چھوڑنے میں بھی مدد دی کہ بڑی عمر میں دوست بنانا ناممکن ہے۔ چنانچہ میں نے آہستہ آہستہ نئے دوست بنانے کی کوشش شروع کر دی۔
میں نے ابھی ایک بڑی میڈیا کمپنی کے لیے فری لانس کام شروع کیا تھا، جہاں میری عمر کے بہت سے لوگ کام کرتے تھے۔ اس لیے اکیلے سینڈوچ کھانے کے لیے باہر جانے کے بجائے میں نے اپنے ساتھیوں کو ساتھ کھانے کی دعوت دینا شروع کی۔
لیکن صرف ساتھ کھانا کافی نہیں تھا کہ جان پہچان دوستی میں بدل جائے۔ مجھے کام کے علاوہ بھی ملنے کے منصوبے بنانے پڑے۔
مثلاً جمعرات کی شام تھیٹر میں ڈراما دیکھنے کی دعوت دینا اور جب مجھے کچھ زیادہ ہمت ہوئی، تو ہفتے کی صبح برنچ پر بلانا۔
آج آٹھ سال بعد میری قریبی دوستوں میں شامل ایک خاتون مجھے بتاتی ہیں کہ انہیں اب بھی یاد ہے کہ جب میں نے انہیں ایک تقریب میں مدعو کیا تھا تو انہیں یہ عجیب لگا تھا، کیونکہ اس وقت وہ مجھے بمشکل جانتی تھیں۔ لیکن وہ کہتی ہیں کہ انہیں بہت خوشی ہے کہ میں نے ایسا کیا۔
آخرکار مجھے احساس ہوا کہ نئے لوگوں سے رابطہ کرنے میں تھوڑا ’عجیب‘ محسوس ہونا اور لندن کے عام رویے کے برعکس اجنبی لوگوں سے خود بات شروع کرنا حقیقی دوستی بنانے کے لیے ضروری تھا۔
پروفیسر اور محقق برینی براؤن کے مطابق حقیقی تعلق اسی وقت قائم ہوتا ہے جب انسان اپنی کمزوریوں اور جذبات کو دوسروں کے سامنے ظاہر کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔
میں نے بھی خود کو اس عمل کے لیے تیار کیا۔ یوگا کلاس ختم ہونے کے بعد میں جان بوجھ کر کچھ دیر وہاں رکتی اور دوسرے لوگوں سے بات کرتی، پھر آہستہ آہستہ انہیں کافی پر ملنے کی دعوت دینے لگی۔
یہ خود اپنے لیے کافی خوفناک تھا، لیکن کافی پر ملاقات کے دوران مجھے خود کو حقیقی انداز میں پیش کرنا اور اپنے بارے میں کھل کر بات کرنا بھی سیکھنا پڑا، ساتھ ہی یہ خیال بھی رکھنا پڑتا تھا کہ ضرورت سے زیادہ ذاتی باتیں کرکے سامنے والے کو دور نہ کر دوں۔
یہ طریقہ ہر بار کامیاب نہیں ہوا اور ہر جان پہچان دوستی میں تبدیل نہیں ہوئی، لیکن جن مواقع پر ایسا ہوا، انہوں نے مجھے آگے بڑھتے رہنے کا حوصلہ دیا۔
مجھے احساس ہوا کہ اکثر جب میں نے اپنی کمزوری ظاہر کی تو سامنے والے نے بھی اسی طرح اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ اجنبی لوگوں کے ساتھ ہونے والی عجیب و غریب گفتگو کا خوف کم ہوتا گیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس کے بجائے میں نے خود کو ایسے حالات میں پایا کہ ایک شادی میں میرے ساتھ بیٹھنے والی ایک دوست کی دوست کے ساتھ ہفتے کے آخر میں کوٹس وولڈز میں قیام کا منصوبہ بنا رہی تھی جبکہ ایک راک کلائمبنگ کورس میں ملنے والی دو امریکی خواتین کے ساتھ گرینڈ کینین میں کرسمس گزار رہی تھی۔
سیمون ہینگ تنہائی سے نکلنے کے لیے اپنی اہم تجاویز میں کہتی ہیں کہ شہر میں موجود ہوں تو شور روکنے والے ہیڈفون اتار دیں، کیونکہ ان کی وجہ سے دوسروں سے تعلق بنانے کے مواقع ختم ہو جاتے ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ اگر ممکن ہو تو دوسروں کے کام آئیں اور ایسے گروہوں کا حصہ بنیں جہاں آپ کی دلچسپی دوسروں سے ملتی ہو۔
مثلاً اگر آپ دوڑنے یا پینٹ اینڈ سپِپ جیسی کسی سرگرمی میں حصہ لیتے ہیں تو اس سے خاموشی کے ان لمحات کو گزارنا آسان ہوتا ہے، جو اجنبی لوگوں کے ساتھ گفتگو کے دوران آتے ہیں اور آپ کے پاس بات کرنے کے لیے ایک مشترکہ موضوع بھی ہوتا ہے۔
میرے لیے تنہائی سے نکلنے میں صرف ایک چیز نے مدد نہیں کی بلکہ اپنے جذبات کو قبول کرنا، تنہائی میں بھی اپنی ذات سے لطف اندوز ہونا، دوسروں کے کام آنا اور آخرکار ایسے نئے دوست بنانا جن کے ساتھ میری حقیقی مشترکہ دلچسپیاں تھیں، ان سب نے مل کر مجھے وہ تعلق فراہم کیا جس کی مجھے شدید ضرورت تھی۔
میرے ان تمام دوستوں میں سے ہر کوئی اب بھی میری زندگی میں موجود نہیں، خصوصاً اب جب میں عمر کی تیسری دہائی کے وسط میں ہوں۔
لیکن حیرت انگیز طور پر بہت سے دوست آج بھی میرے ساتھ ہیں اور میں ان میں سے ہر ایک کی قدر کرتی ہوں کہ وہ اس وقت میرے ساتھ تھے جب مجھے ان کی ضرورت تھی۔
جو دوست وقت کے ساتھ مجھ سے دور ہو گئے، ان سے بھی میں نے یہ سیکھا کہ زندگی کے کسی بھی مرحلے پر نئی دوستیاں بنائی جا سکتی ہیں۔
اسی لیے اب مجھے تنہائی محسوس ہونے سے خوف نہیں آتا۔ مجھے اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے کسی دوست یا رشتے سے چمٹے رہنے کی ضرورت نہیں۔ میں ہمیشہ نئے رشتے اور دوست بنا سکتی ہوں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ میں خود بھی اپنی دوست بن سکتی ہوں۔
© The Independent