میں ہر سال اپنی جامعہ کے شعبۂ ابلاغِ عامہ میں نئے آنے والے طلبہ کو ایک کورس پڑھاتی ہوں۔ میں کورس کے پہلے دن ان سے پوچھتی ہوں کہ ان میں سے کتنے لوگ صحافی بننا چاہتے ہیں؟
اس سوال کے بعد کلاس میں ایک دم خاموشی چھا جاتی ہے۔ پھر کسی کونے میں ایک ہاتھ کھڑا ہوتا ہے اور کچھ سیکنڈ بعد وہ بھی نیچے ہو جاتا ہے۔ ہر کلاس میں چار پانچ ایسے طلبہ بھی ہوتے ہیں جو پہلے ہی سوشل میڈیا پر بطور انفلوئنسر مقبول ہوتے ہیں۔ ان کے فالورز کی تعداد ہزاروں سے لاکھوں میں ہوتی ہے ان کے لیے یہ ڈگری اپنے ڈیجیٹل کیریئر کو مزید مضبوط بنانے کی ایک سیڑھی ہوتی ہے۔
لیکن ہم انفلوئنسر نہیں بناتے۔ ہم صحافی بناتے ہیں، تعلقاتِ عامہ کے ماہر بناتے ہیں، اشتہار ساز و فلم ساز بناتے ہیں، دستاویزی فلمیں تخلیق کرنے والے بناتے ہیں، ڈیجیٹل میڈیا پروڈیوسرز بناتے ہیں اور ابلاغ کے دیگر پیشہ ور بناتے ہیں۔
تاہم، حال ہی میں میرے ڈیپارٹمنٹ میں ایک نئے بیچلر پروگرام کی تجویز دی گئی جس کا مقصد طلبہ کو کانٹینٹ کرئیٹر بنانا تھا۔ کچھ پروفیسر اسے ابلاغِ عامہ کا مستقبل کہہ رہے تھے تو کچھ اس پروگرام کا مستقبل ہی نہیں دیکھ پا رہے تھے۔
اس پروگرام کے حامی پروفیسروں کا مؤقف تھا کہ نئی نسل اب صحافت میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ ان کے مطابق ایک جامعہ کی حیثیت سے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم طلبہ کو وہ پروگرام پیش کریں جن میں وہ داخلہ لینا چاہتے ہیں، جسے وہ اپنی ضرورت سمجھتے ہیں اور جو انہیں مستقبل میں روزگار اور معاشی مواقع فراہم کر سکے۔
صحافت یہ سب کر سکتی ہے لیکن اگر اس میں تیزی سے آنے والی تبدیلیوں کو نہ سمجھا جائے، نہ نصاب کا حصہ بنایا جائے اور نہ ہی طلبہ کو موجود دور کے مطابق صحافت کی نئی مہارتیں سکھائی جائیں تو انہیں اس میں اپنا مستقبل تاریک ہی نظر آئے گا۔
میں دو سال سے ایک عالمی صحافتی نیٹ ورک کے ساتھ وابستہ ہوں۔ یہ نیٹ ورک صحافیوں کو تحقیقاتی صحافت سکھاتا ہے۔ یہ دنیا بھر کے صحافیوں کے تجربات، کامیاب تحقیقات، نئی تکنیکوں اور بدلتے ہوئےصحافتی رجحانات کو ایک جگہ جمع کرتا ہے تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں کام کرنے والے صحافی اور نیوز روم تک پہنچیں اور وہ بھی ان رجحانات، تکنیکوں اور ٹولز کا استعمال کر سکیں جو ایسی رپورٹنگ کرے جو معنی رکھتی ہے۔
آج کے دور میں خبر رساں اداروں کو ایسے ہی صحافی چاہیے جو بنیادی انٹرویو سکلز سے زیادہ مہات رکھتے ہوں۔ آج کی دنیا میں صحافت کا مطلب تحقیق، ٹیکنالوجی، ڈیٹا، بصری کہانی سنانے، پلیٹ فارم کی سمجھ اور بین الاقوامی تعاون کا امتزاج ہے۔
ترکی کا ایک خبر رساں ادارہ ٹک ٹاک پر فیکٹ چیکنگ ویڈیوز بنا رہا ہے۔ ٹک ٹاک کا فارمیٹ فیکٹ چیکنگ ویڈیوز کے لیے بہترین ہے۔ ترکی میں حالیہ زلزلوں کے بعد جب سوشل میڈیا پر گمراہ کن معلومات پھیلنا شروع ہوئیں تو لوگ اسی ادارے کی ٹک ٹاک فیکٹ چیکنگ ویڈیوز شئیر کر رہے تھے۔
ناروے کا ایک تحقیقاتی ادارہ اپنی طویل اور پیچیدہ تحقیقات کو انسٹاگرام کی چند کیروسل پوسٹس میں تبدیل کر رہا ہے تاکہ وہ پلیٹ فارم فیچرز کا استعمال کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ عوام تک پہنچ سکے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
چار سالہ ڈگری کے بعد اگر طلبہ نے کیمرہ اور مائیک پکڑ کر ’ہیلو گائز‘ ہی کرنا ہے تو وہ یہ کام اس ڈگری کے بغیر بھی بہت اچھے سے کر سکتے ہیں۔ ہمیں انہیں ایسا کام کرنے پر آمادہ کرنا ہے جو حقیقی تبدیلی لا سکتا ہو، طاقتوروں کو جواب دہ ٹھہرا سکتا ہو، عوام کے حقوق کا تحفظ کر سکتا ہو اور انہیں ان کے گرد و نواح کے بارے میں آگاہی دے دسکتا ہو۔
صحافت یہ سب کرتی ہے اور اس کی ضرورت ہر دور میں موجود رہی ہے۔ بس آڈئینس روائیتی پلیٹ فارم سے ہٹ چکی ہے۔ انہیں بہت رسمی اور سنجیدہ انداز میں خبریں نہیں چاہیے۔ انہیں وہاں خبریں چاہیے جہاں وہ موجود ہیں اور اس انداز میں چاہیے جس کے وہ عادی ہیں۔
اور ہماری جامعات کے شعبہ ابلاغِ عامہ انہیں یہ والی صحافت سکھانے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ میں نے ایسے کئی اساتذہ حتیٰ کہ شعبہ ہائے ابلاغِ عامہ کے سربراہ دیکھے ہیں جو سوشل میڈیا کو اب بھی محض وقت کا ضیاع یا سطحی سرگرمی سمجھتے ہیں۔
بہت سے لوگ بنیادی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے کام کرنے کے طریقۂ کار سے بھی پوری طرح واقف نہیں ہیں۔ انہوں نے کبھی کسی نئے پلیٹ فارم کو سنجیدگی سے جاننے کی کوشش نہیں کی، کسی پلیٹ فارم کی کمیونٹی گائیڈ لائنز نہیں پڑھیں، کسی وائرل تصویر یا ویڈیو کی تصدیق کا عملی تجربہ نہیں کیا اور نہ ہی اوپن سورس تحقیق، ڈیٹا جرنلزم، صحافت میں اے آئی کا استعمال، صحافت میں کانٹینٹ کری ایشن یا پلیٹ فارم کے فارمیٹ کے مطابق خبروں کو ڈھالنے جیسی مہارتوں کو تدریس کا حصہ بنایا ہے۔
دوسری طرف معاشرے نے کامیابی کا ایک الگ ہی معیار قائم کر دیا ہے، جہاں شہرت، فالوورز اور دولت سب سے نمایاں پیمانے ہیں۔ طلبہ کو اپنے گرد صحافی بھی نظر آتے ہیں اور انفلوئنسرز بھی اور وہ دیکھ سکتے ہیں کہ لوگ انفلوئنسرز کو صحافیوں سے زیادہ کامیاب سمجھتے ہیں۔
صحافی مہینوں ایک تحقیق پر کام کرتے ہیں۔ درجنوں دستاویزات کھنگالتے ہیں، معلومات کی تصدیق کرتے ہیں، قانونی اور پیشہ ورانہ خطرات مول لیتے ہیں اور طاقتور لوگوں سے ایسے سوال پوچھتے ہیں جن کے نتائج کبھی کبھی ان کی اپنی سلامتی تک کو متاثر کر سکتے ہیں۔
دوسری طرف سوشل میڈیا انفلوئنسرز کا کام نسبتاً کم محنت اور کم خطرات والا ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بھی ان کے مواد کو سنجیدہ صحافتی مواد کے مقابلے میں زیادہ نمایاں کرتے ہیں اور زیادہ مالی ریوارڈ دیتے ہیں۔
اس ترجیح کا اثر جامعات میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ میرے اپنے شعبے میں متعدد انفلوئنسر آ کر طلبہ سے اپنے تجربات شیئر کر چکے ہیں۔ لیکن جب کسی تحقیقاتی صحافی کو مدعو کرنے کی بات ہو تو اجازت ناموں اور انتظامی مراحل کا ایسا طویل سلسلہ شروع ہو جاتا ہے کہ بعض اوقات پورا سمسٹر گزر جاتا ہے اور نشست ہو ہی نہیں پاتی۔
ایسے ماحول میں اگر طلبہ جدید تحقیقاتی صحافت کی طرف کم اور انفلوئنسر کلچر کی طرف زیادہ مائل ہوں تو اس پر حیرت نہیں ہونی چاہیے۔
ہمارا مقصد صحافی، فلم ساز، دستاویزی کہانی سنانے والے، تعلقاتِ عامہ کے ماہرین اور ابلاغ کے دیگر پیشہ ور تیار کرنا ہے۔
ہمیں اپنے طالب علموں کو وہ مہارتیں سکھانی ہوں گی جن کی ان شعبہ جات میں آج ضرورت ہے۔ تاہم، یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہم صحافت کو اس کی موجودہ شکل میں سمجھیں، سیکھیں اور پڑھائیں ورنہ اس کے فوائد ہماری نظروں سے ایسے ہی پوشیدہ رہیں گے جیسے اب پوشیدہ ہیں۔
