ہمیں طلبہ یونینز سے پابندی ہٹا کر طلبہ کو ایک ایسی صحت مند سیاست کی طرف راغب کرنا چاہیے جو انہیں سیاسی جماعتوں کے آلہ کار بننے کی بجائے اپنے ہی حقوق کا نمائندہ بنائے۔
پروفیسر طلبہ سے کام کروائیں تو وہ انہیں برا فیڈ بیک دیتے ہیں۔ فیڈبیک برا ہو تو پروفیسر طالب علموں کے لیے مشکل پیپر بناتے ہیں اور اس کی سخت چیکنگ کرتے ہیں اور جب اس مقابلے سے تھک جاتے ہیں تو اس معاہدے پر کارآمد ہوتے ہوئے طلبہ کو’تنگ کرنا‘ بند کر دیتے ہیں۔