خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ جین زی کی آخری لہر سادہ زبان میں لکھا ہوا ایک صفحہ پڑھنے کی بھی اہلیت نہیں رکھتی۔ دنیا بھر میں تعلیمی ادارے ان کا حال دیکھتے ہوئے اپنے تعلیمی معیارات اور ان طالب علموں سے اپنی توقعات کم کر رہے ہیں۔
وہ ان کی نا اہلی کو ایک کاروباری موقع دیکھتے ہوئے ان کے لیے ایسے بنیادی کورسز متعارف کروا رہے ہیں جو انہیں سکولوں یا کالجوں میں پڑھنے چاہیے تھے اور انہیں اضافی مطالعہ یا اسائنمنٹس دے کر پریشان نہیں کر رہے۔
یہ ایک لمحہ فکریہ ہے اور طویل مدت میں پوری دنیا کے لیے کافی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
تعلیمی ادارے جین زی کے خوف میں مبتلا ہیں۔ یہ نسل اپنے سے پہلی نسلوں کی طرح لحاظ میں نہیں رہتی۔ ان کے دل میں جو ہوتا ہے یہ اسے اپنی زبان پر لانے میں تھوڑا سا بھی نہیں ہچکچاتے۔
چونکہ تعلیمی ادارے اپنے کاروبار کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے، وہ اپنا نظام اس نسل کے آرام کے گرد تشکیل دے رہے ہیں اور انہیں پڑھانے والے میلینئیل اور بے بی بومرز اپنی نوکریاں بچانے کی خاطر انہیں پڑھنے کی تکلیف سے احتراز برت رہے ہیں۔
میں یہاں جین زی کی تنقیدی سوچ کی بات نہیں کر رہی۔ وہ تو بہت بعد کی بات ہے۔ میں ان کی پڑھنے کی بنیادی مہارت کی بات کر رہی ہوں۔ انہیں پڑھنا ہی نہیں آتا۔ تیزی سے ڈیجیٹل ہوتی ہوئی دنیا کی وجہ سے مطالعہ ویسے ہی ہماری زندگی سے نکل چکا ہے۔
تاہم، پہلے طالب علموں کو اپنی ڈگری کے لیے جو مطالعہ کرنا ہوتا تھا جین زی اسے بھی کرنے میں مشکل محسوس کر رہی ہے۔
جین زی کی آخری لہر کرونا وائرس کی وبا سے خاص متاثر ہوئی ہے۔ اس وبا نے انہیں سکول اور کالج کا وہ تجربہ نہیں دیا جو اس سے پہلے کی نسلوں کو ملا تھا۔ عالمی جنوب میں تعلیمی نظام پہلے ہی بحران کا شکار تھا۔ کرونا کی وبا نے اس کا مزید حال خراب کر دیا۔ بقیہ کسر اس جدید دنیا کے آڈیو ویژول کے نئے رجحان نے پوری کی ہے۔
مختصر ویڈیو فارمیٹ پر مبنی مواد دیکھنے کی وجہ سے اب یہ نسل چند سیکنڈ سے زیادہ کسی چیز پر اپنی توجہ مرکوز نہیں کر سکتی۔
جنریٹو اے آئی ان کا سیکھنے کا تجربہ مزید خراب کر رہا ہے۔ طالب علم جنریٹو اے آئی کو وَن سٹاپ سولیوشن سمجھتے ہوئے سب کچھ اسی سے سیکھ رہے ہیں اور معاف کیجیے گا جنریٹو اے آئی سیکھنے کا جامع وسیلہ نہیں ہے۔
ہر سمسٹر پیپر چیک کرتے ہوئے خواہش ہی رہ جاتی ہے کہ کسی طالب علم نے میری بتائی ہوئی مثالوں کے علاوہ کوئی مثال دی ہو پر ہمیشہ افسوس ہی ہوتا ہے۔ وہ میری بتائی گئی مثالوں کو بھی صحیح سے نہیں بتا پاتے۔ اگر انہیں کوئی کتاب پڑھنے کا کہہ دیا جائے تو یہ ناراض ہو جاتے ہیں۔ انہیں بنے بنائے نوٹس چاہیے۔ یہ انہیں بھی جنریٹو اے آئی کے حوالے کر دیتے ہیں اور ان کا خلاصہ تیار کرنے کا کہتے ہیں۔
میں نے پچھلے سمسٹر انٹروڈکشن ٹو ماس کمیونیکیشن کی کلاس میں طلبہ کو ایک سماجی موضوع پر بنی ہوئی دو فلمیں دیکھ کر آنے کا کہا۔ میں نے انہیں کہا کہ بچپن میں والدین جن کاموں سے روکتے تھے آج وہی ہمارا کام بن چکے ہیں۔ مجھے لگا تھا کہ اگلی کلاس میں بچے دونوں نہیں تو ایک فلم تو ضرور دیکھ کر آئیں گے تاہم مجھے اس وقت حیرانی ہوئی جب 50 سے زائد بچوں کی کلاس میں صرف تین طلبہ نے کہا کہ انہوں نے وہ فلمیں دیکھی تھیں۔ بقیہ طلبہ کے لیے فلمیں دیکھنا بھی مشکل تھا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اب ان طلبہ کو کوئی کتاب یا تحقیق پڑھ کر آنے کا کہیں۔ وہ ایسا کبھی نہیں کر سکیں گے اور الٹا پروفیسر کے فیڈ بیک میں انہیں سب سے برا اور نا اہل پروفیسر کہیں گے۔
طلبہ کا کلاس میں بغیر کچھ پڑھے آنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ قریباً ہر نسل میں طالب علموں کا یہی رویہ رہا ہے لیکن جین زی کے سامنے ہار مانتے ہوئے تعلیمی نظام نے ان سے اپنی توقعات کم کر لی ہیں۔
اب تعلیمی نظام اس نسل کے مطابق خود کو ڈھال رہا ہے۔ جامعات جین زی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے بنیادی کورسز متعارف کروا رہی ہیں تاکہ وہ اپنے شعبے سے متعلقہ نظریات، تھیوری اور پریکٹس کو سمجھ سکیں۔
ہارورڈ نے پچھلے سال ریاضی کا ایک بنیادی کورس ایسے طالب علموں کے لیے متعارف کروایا جو انہیں الجبرا اور جیومیٹری کے بنیادی نظریات سمجھنے میں مدد دے گا۔ ہارورڈ دنیا کی بہترین جامعات میں سے ایک ہے۔ وہاں طالب علموں کو سخت مقابلے کے بعد داخلہ ملتا ہے۔
توقع کی جاتی ہے کہ اس سخت مقابلے کے بعد آنے والے طالب علم بہت قابل ہوں گے لیکن اگر انہیں بھی بنیادی چیزیں نہیں آتیں جو انہیں سکول یا کالج کی سطح پر سکھائی جانی چاہیے تھیں تو ہمیں سمجھنا چاہیے کہ یہ کوئی چھوٹا موٹا مسئلہ نہیں بلکہ کافی گھمبیر مسئلہ ہے۔
اسی طرح بہت سی دیگر جامعات میں طلبہ کو گرامر کے بنیادی قوانین، جملے بنانا اور پیراگراف لکھنا تک سکھایا جا رہا ہے۔ ان تبدیلیوں کا جواز تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا اور اس سے متاثر ہونے والی اس نسل کو ٹھہرایا جاتا ہے لیکن ان طلبہ کی طرف ہمدردی، ان کی حد سے زیادہ مدد کرنے کی نیت تعلیمی بددیانتی کو فروغ دے رہی ہے۔
ان بچوں کو گھروں میں بھی پلکوں پر بٹھایا جاتا ہے، تعلیمی ادارے بھی انہیں وہ ماحول اور تجربہ نہیں دے پا رہے جو وہ ماضی میں دیتے رہے ہیں، یہ طالب علم ان اداروں سے نکل کر کیا کریں گے؟
انہیں ہر جگہ رعایت نہیں ملے گی۔ انہیں مقابلہ کرنا ہوگا، اپنی مہارتیں دکھانی ہوں گی اور اگر ان کی مہارت صرف مصنوعی ذہانت کھول کر اس سے سوال پوچھنے تک محدود ہے تو معاف کیجیے گا یہ مہارت آج کل دنیا میں بہت سے لوگوں کے پاس ہے۔ اور یہ مہارت ہمارے مسائل حل کرنے کی بجائے انہیں مزید بڑھا رہی ہے۔
تعلیمی اداروں کو جین زی کی مدد کرنی چاہیے لیکن وہ مدد انہیں بہتر بنانے کے لیے ہو نہ کہ انہیں مزید کاہل بنانے کے لیے۔ اس کے لیے انہیں اپنے معیارات کم کرنے کی نہیں بلکہ بڑھانے کی ضرورت ہے۔
طلبہ کو پڑھنے کی عادت ڈالیں،انہیں بنیادی ڈیٹا کی طرف جانے پر مجبور کریں تاکہ وہ انسانوں کا تخلیق کردہ علم پڑھیں، اس بارے سوچیں اور جدید دنیا میں اس علم کو لاگو کرنے کے طریقے سوچیں اور وہ علم پرانا محسوس ہو تو نیا علم تخلیق کر سکیں۔
اگر ہمارے تعلیمی ادارے ایسا نہیں کریں گے تو وہ دنیا کو ایک ایسی نسل دیں گے جو اس دنیا کی کوئی مدد نہیں کر سکے گی۔
نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔