اسلام آباد میں ممکنہ شدید ژالہ باری کی خبریں جعلی

محکمہ موسمیات کے چیف میٹرولوجسٹ کے مطابق اسلام آباد اور پوٹھوہار میں بارش سے متعلق تو ایڈوائزری جاری کی گئی ہے لیکن ژالہ باری سے متعلق خبریں درست نہیں۔

ایک شخص 14 جولائی، 2025 کو اسلام آباد میں بارش کے دوران خود کو بچانے کے لیے پلاسٹک کی شیٹ استعمال کر رہا ہے (اے ایف پی)

پاکستان کے محکمہ موسمیات نے رواں ہفتے 10 اور 11 مارچ کو اسلام آباد اور پوٹھوہار میں بارش کی پیشگوئی کی ہے جس کے بعد سوشل میڈیا پر ایسی خبریں گردش کرنے لگیں کہ دارالحکومت میں ایک بار پھر شدید ژالہ باری ہونے والی ہے۔

ان قیاس آرائیوں سے شہری اس لیے بھی پریشان نظر آئے کہ گذشتہ سال اپریل میں اسلام آباد میں تیز ہواؤں کے ساتھ شدید ژالہ باری سے گاڑیوں، سولر پینلز اور دیگر املاک کو غیر معمولی نقصان پہنچا تھا۔

سوشل میڈیا پر اگلے دو روز میں ایسی ہی ژالہ باری کی خبروں کی حقیقت جاننے کے لیے انڈپینڈنٹ اردو نے محکمہ موسمیات کے چیف میٹرولوجسٹ ڈاکٹر افضال سے رابطہ کیا تو انہوں نے واضع کیا کہ بارش سے متعلق تو ایڈوائزری جاری کی گئی ہے لیکن ’ژالہ باری سے متعلق پھیلائی جانے والی خبریں درست نہیں۔‘

محکمہ موسمیات کی پریس ریلیز کے مطابق ’نو سے 11 مارچ کے دوران وقفے وقفے سے جزوی طور پر ابر آلود موسم کے ساتھ چترال، دیر، سوات، کرم، خیبر، مہمند، کوہستان، بونیر، مانسہرہ، ایبٹ آباد، مالاکنڈ اور گلگت بلتستان اور کشمیر میں ہلکی سے درمیانی بارش، آندھی اور گرج چمک کا امکان ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسی طرح 10 اور 11 مارچ کو ’اسلام آباد، پوٹھوہار ریجن، مری، گلیات اور گرد و نواح میں بھی بارش اور گرج چمک کی توقع ہے۔‘

پاکستانی حکام یہ کہتے آئے ہیں کہ اگرچہ ماحولیاتی آلودگی کا سبب بننے والی گیسوں کے اخراج میں پاکستان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے، لیکن عالمی سطح پر رونما ہونے والے ماحولیاتی تبدیلیوں سے پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔

پاکستان قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے (این ڈی ایم اے) نے گذشتہ سال کے اواخر میں خبردار کیا تھا کہ ملک میں آئندہ سال، 2026 میں، مون سون بارشوں کی شدت زیادہ ہو گی اور گذشتہ سال کے مون سون کے مقابلے میں 22 سے 26 فیصد زیادہ شدید ہوگا۔

پاکستان میں گذشتہ سال مون سون بارشوں کے بعد آنے والے سیلاب نے شدید تباہی مچائی تھی جس سے ملک بھر میں ایک ہزار سے زائد اموات ہوئیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات