چکنے، نئے ہیئر کٹ، فیشن ایبل چشمے، صحت مند رنگت اور بظاہر سب کو ساتھ لے کر چلنے والی قوسِ قزح نما ٹائی والے شخص سے ملیے: یہ ہیں... نائجل فراج، ایک ایسے انداز میں جسے آپ نے انہیں پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔
ریفارم یو کے کے رہنما کی یہ نمایاں ’گلو اَپ‘ جسے میں ایک حصہ ٹونی بلیئر اور تین حصے آسٹن پاورز کہوں گی کوئی اتفاق نہیں، یقین مانیے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہم جان لیں کہ وہ سنجیدہ ہیں۔ ایک دن وہ اس ملک کی قیادت بھی کر سکتے ہیں، اندھیروں کی طرف… اور ہمیں اس خیال کا عادی ہو جانا چاہیے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کبھی بورس جانسن کو ’برطانیہ کا ٹرمپ‘ کہا تھا۔ اب ایک اور آ رہا ہے۔
ریفارم یو کے پہلے ہی ٹرمپ کی حکمت عملی کی کئی نقلیں اپنا چکی ہے، مثلاً کونسل اخراجات کا جائزہ لینے کے لیے ڈوج طرز کی سکیمیں متعارف کرانے کی کوششیں (اگرچہ ایلون مسک کے ڈوج کی ریفارم والی شکل حسبِ توقع کچھ حاصل نہ کر سکی)۔ فراج، جو ہمیشہ سے ٹرمپ کے مداح رہے ہیں، نے تنوع، مساوات اور شمولیت (ڈی ای آئی) پالیسیوں کے خلاف جنگ چھیڑنے میں بھی ان کی نقل کی ہے، اور کہا ہے کہ ریفارم کے زیرِ انتظام کونسلوں میں کام کرنے والے ملازمین ’بہتر ہوگا کہ بہت جلد متبادل کیریئر تلاش کرنا شروع کر دیں۔‘
انہوں نے بینک آف انگلینڈ سے کرپٹو کو ’اپنانے‘ کا مطالبہ بھی کیا ہے، جو ایک اور $TRUMP طرز کی بات ہے۔ فراج بی بی سی لائسنس فیس ختم کرنا بھی چاہتے ہیں عین اسی وقت جب ٹرمپ ہتکِ عزت کے ایک مقدمے میں بی بی سی پر 10 ارب ڈالر کا دعویٰ کر رہے ہیں، جو ممکنہ طور پر ادارے کو دیوالیہ بھی کر سکتا ہے۔
فہرست ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ یہ بات دہرانے کی ضرورت ہے، خاص طور پر اس لیے کہ برطانیہ کا آدھا حصہ چاہتا ہے کہ نائجل فراج اگلے وزیرِ اعظم بنیں، جبکہ باقی آدھا ابھی اس حقیقت سے بیدار ہو رہا ہے کہ شاید وہ واقعی بن جائیں۔
اور غالب امکان یہی ہے کہ جیسے ٹرمپ اپنی ایران مخالف غیر مقبول اور تقسیم پیدا کرنے والی کارروائیوں سے اپنے میگا حامیوں کو دور کر رہے ہیں، ویسے ہی اقتدار میں آنے کے بعد ریفارم پارٹی بھی بدصورت اندرونی لڑائیوں میں الجھ جائے گی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں کہ روپرٹ لو جیسے سابق نمایاں رہنما پارٹی سے الگ ہو کر اپنی جماعت بنا چکے ہیں، پارٹی چیئرمین کو دھمکانے اور بدسلوکی کے الزامات کے بعد جن کی وہ تردید کرتے ہیں۔ (لو کا دعویٰ ہے کہ انہیں اس لیے ’نکال دیا گیا‘ کیونکہ وہ ایک ’نمایاں شخصیت‘ تھے جو فراج کے لیے براہِ راست خطرہ بن رہے تھے۔)
حتیٰ کہ پارٹی کے باقی اراکین بھی اہم نظریاتی معاملات پر متفق نہیں۔ ’30پی لی‘ اینڈرسن سزائے موت کی بحالی کے حامی ہیں، اور موجودہ پارٹی چیئرمین ڈیوڈ بل بھی ’انتہائی سنگین معاملات‘ میں اس کی حمایت کرتے ہیں، لیکن فراج واضح کر چکے ہیں کہ یہ سرکاری پارٹی پالیسی نہیں ہوگی۔ اور یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہتا ہے۔
کیا کسی کو معلوم ہے کہ ایک ’ریفارم شدہ‘ برطانیہ کیسا نظر آئے گا؟ یہی تو مسئلہ ہے، ریفارم محض بلند بانگ دعوؤں کا جیتا جاگتا نمونہ ہے۔ تمام ڈاگ وِسل سیاست کے باوجود، اصل مواد بہت کم ہے۔ نہ کوئی سنجیدہ خاکہ کہ یہ سب کیسے چلے گا، نہ یہ کہ اس کی مالی معاونت کیسے ہوگی، نہ یہ کہ وہ ایک بھی وعدہ کیسے پورا کریں گے۔
اور یہی چیز انہیں اتنا خطرناک بناتی ہے۔ اگر برطانیہ پہلے ہی بحران اور زوال کے دہانے پر پہنچ چکا ہے، تو ذرا تصور کریں کہ چند برس بعد ریفارم کے اقتدار میں آنے پر کیا حال ہوگا۔ فراج نے وعدہ کیا ہے کہ برطانیہ میں صحت کی سہولیات ’فراہم کرتے وقت مفت‘ رہیں گی… لیکن ساتھ ہی وہ این ایچ ایس کی فنڈنگ کے لیے انشورنس پر مبنی نظام بھی چاہتے ہیں۔ الجھن میں ہیں؟ میں بھی۔
شاید ہم ٹوری حکومت کے ناکام روانڈا منصوبے کی مہنگی بحالی دیکھیں اور ممکنہ طور پر برطانیہ میں ٹرمپ کے آئی سی ای پروگرام جیسی کسی چیز کا نفاذ بھی۔
آخرکار، ہم فراج کے بڑے پیمانے پر ملک بدری کے خوفناک منصوبے اور ایسے ’حراستی مراکز‘ بنانے کے ارادوں کے بارے میں سن ہی چکے ہیں جو ’کنسنٹریشن کیمپ‘ جیسے ہوں، خاص طور پر ان علاقوں میں جو ریفارم کے کنٹرول میں نہیں۔
لیکن امیگریشن کے خلاف اپنے تمام شور شرابے کے باوجود جو اس ہفتے انہیں طاقت دلانے والا بنیادی مسئلہ بنا عملی صورتِ حال دھندلی ہے۔ ریفارم کے پاس تعداد میں واقعی خاطر خواہ کمی لانے کا کوئی امکان نہیں، اور شاید نیت بھی نہیں۔ وہ صرف پیمانے بدلنا چاہتے ہیں (یا کم از کم ایسا دکھانا چاہتے ہیں)۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کی طاقت اپنے حامیوں کو ایک مشترکہ دشمن یعنی پناہ گزینوں کے خلاف متحد رکھنے میں ہے۔
ریفارم کا ہر وعدہ ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے کسی سرکس کے بھول بھلیاں نما گھر میں غلط موڑ لے لیا ہو، یا کوئی ڈگمگاتا قدم جو اچانک جال نما دروازہ ثابت ہو۔ مثال کے طور پر ان کا جرم آدھا کرنے اور ’قیدیوں کے لیے سخت سزائیں‘ متعارف کرانے کا وعدہ۔ پارٹی نے 30 ہزار نئی جیلوں کی جگہیں بنانے کا وعدہ کیا ہے — لیکن یہ نہیں بتایا کہ اس کے اخراجات کیسے پورے ہوں گے، نہ ہی جیلوں میں گنجائش کی کمی اور عدالتی نظام میں مقدمات کے انبار جیسے مسائل کا حل پیش کیا ہے۔
اس کے باوجود، اگر ریفارم کی مقبولیت اسی طرح بڑھتی رہی تو برطانیہ یقیناً ٹرمپ 2.0 — یا یوں کہیے ٹرمپ 1.75 — کی طرف بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔ اس ہفتے سکاٹش گرینز کے شریک رہنما راس گریر نے کہا کہ ریفارم اپنی انتخابی حکمتِ عملی ’براہِ راست ڈونلڈ ٹرمپ کی کتاب سے‘ لے رہی ہے۔ اور ہماری موجودہ تنہائی اس صورتِ حال کو مزید خراب کرتی ہے: ہم پہلے ہی یورپ سے کٹ چکے ہیں، اور بریگزٹ کے مرکزی معمار — اور جھوٹے — فراج پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور ہو چکے ہیں۔
یہ سب نہایت افسردہ کرنے والا ہے۔ جیسے جیسے ریفارم ہماری کھوئی ہوئی اور بکھری ہوئی قوم پر چھاتی جا رہی ہے، اور مقامی کونسلیں سرخ اور نیلے کے درمیان جھول رہی ہیں، اصل فاتح رنگ صرف فیروزی نہیں، بلکہ نارنجی بنتا جا رہا ہے۔
© The Independent
