آسٹریلیا نے ہانتا وائرس کے پھیلاؤ کے مرکز بننے والے ڈچ پرچم بردار لگژری کروز شپ کے نصف درجن مسافروں کو قرنطینہ (علیحدگی) میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ احتیاط سے منظم انخلا کا عمل شروع ہو چکا ہے۔
حکومت نے ان اقدامات کو ’احتیاطی حکمتِ عملی‘ قرار دیا ہے تاکہ پیر کے روز پرتھ پہنچنے والے پانچ آسٹریلوی اور ایک نیوزی لینڈ کے شہری کے بعد عوام کو محفوظ رکھا جا سکے۔
مسافروں کو ایم وی ہونڈیئس سے نکالا جا رہا تھا، جو اتوار کے روز سپین کے جزیرے ٹینیرائف کے قریب پورٹ آف گریناڈیلا پہنچا تھا اور اس میں 147 افراد سوار تھے۔
جہاز پر کم از کم تین اموات کا تعلق ہانتا وائرس سے جوڑا گیا ہے، جو ایک نئی بیماری ہے اور چوہوں یا ان کے پیشاب، تھوک یا فضلے کے رابطے سے پھیلتی ہے۔ جہاز سے وابستہ آٹھ بیمار افراد میں سے چھ میں ہانتا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔
آسٹریلیا کے وزیرِ صحت مارک بٹلر نے کہا کہ حکومت نے ’قومی قرنطینہ انتظامات‘ نافذ کیے ہیں تاکہ قرنطینہ اور وطن واپسی کے معاملات کو ریاستوں کے بجائے وفاقی سطح پر سنبھالا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ پرتھ پہنچنے کے بعد ان مسافروں کو ویسٹرن آسٹریلیا میں فضائیہ کے اڈے پیئرس کے قریب واقع بلز بروک مرکز میں قرنطینہ کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا: ’میں اس بات پر زور دینا چاہتا ہوں کہ بطور حکومت ہماری پہلی ذمہ داری اپنی عوام کو محفوظ اور صحت مند رکھنا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’لیکن ہماری یہ ذمہ داری بھی ہے کہ ان مسافروں کو وطن واپس لایا جائے اور انہیں وائرس منتقل کرنے کے کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچایا جائے، چاہے وہ خطرہ کتنا ہی کم کیوں نہ ہو۔‘
مارک بٹلر نے کہا کہ اس وقت کسی بھی آسٹریلوی مسافر میں ہانتا وائرس کی علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔
انہوں نے مزید کہا: ’آسٹریلیا کے لیے ایک خاص پہلو یہ ہے کہ ان مسافروں کو ٹینیرائف سے کافی طویل پرواز کر کے واپس آنا ہوگا، برطانیہ کی طرح مختصر سفر نہیں ہوگا، اور ممکنہ طور پر نسبتاً چھوٹے طیارے میں سفر کے دوران وائرس کی منتقلی کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے۔‘
تاہم انہوں نے کہا کہ وائرس کے 42 دن کے انکیوبیشن پیریڈ کے باعث قرنطینہ تین ہفتوں سے زیادہ بھی ہو سکتا ہے۔
واپسی کے بعد مسافروں کو مرکز منتقل کیا جائے گا جہاں ان کے ٹیسٹ کیے جائیں گے، اور نمونے تجزیے کے لیے میلبورن کے ڈوہرٹی انسٹیٹیوٹ بھیجے جائیں گے۔
اگرچہ اس وبا کا موازنہ کووڈ وبا سے کیا جا رہا ہے، مارک بٹلر نے کہا کہ اس وائرس میں ’عالمی وبا بننے کی صلاحیت‘ نہیں ہے، لیکن صورتحال پھر بھی سنگین ہے۔
عالمی ادارہ صحت، ڈبلیو ایچ او، کے سربراہ ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے کہا کہ اس وبا کا خطرہ کم ہے کیونکہ یہ کورونا وائرس جیسی صورتحال نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم بار بار یہی بات دہرا رہے ہیں۔ یہ کوئی نیا کووڈ نہیں ہے۔ عوام کے لیے خطرہ کم ہے، اس لیے لوگوں کو خوفزدہ یا گھبرانے کی ضرورت نہیں۔‘
امریکہ، سپین، فرانس، کینیڈا، آئرلینڈ اور نیدرلینڈز سمیت کئی ممالک نے جہاز سے اپنے شہریوں کے انخلا کا عمل شروع کر دیا ہے۔
برطانیہ 20 برطانوی مسافروں کو واپس لا چکا ہے، جنہیں پرواز میں سوار ہونے سے پہلے ہنٹا وائرس کے ٹیسٹ سے گزارا گیا، اور بعد میں انہیں برطانیہ کے ابتدائی کووڈ قرنطینہ مرکز ایرو پارک ہسپتال، ویرل، مرسی سائیڈ منتقل کیا گیا۔
امریکہ نے 17 امریکی مسافروں کو نکالا ہے۔ محکمہ صحت و انسانی خدمات کے مطابق ان میں سے ایک میں ہانتا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ دوسرے میں ہلکی علامات ظاہر ہوئی ہیں۔
فرانس کے وزیر اعظم سیبسٹین لیکورنو نے کہا کہ ٹینیرائف سے فرانس واپس لائے گئے پانچ فرانسیسی شہریوں میں سے ایک میں پرواز کے دوران ہنٹا وائرس کی علامات ظاہر ہوئیں۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا: ’نتیجتاً، ان پانچوں مسافروں کو اگلے حکم تک سخت تنہائی میں رکھا گیا ہے۔‘