بیٹی میں تھیلیسیما کا سن کر ’قدموں کے نیچے سے زمین نکل گئی‘

کراچی کی نسیم امجد کہتی ہیں کہ ’ایک طرف اپنی ننھی بچی کی تکلیف اور دوسری طرف یہ احساس کہ وہ خود اور ان کے شوہر بھی تھیلیسیمیا مائنر ہیں۔‘

تھیلیسیمیا کا عالمی دن صرف ایک دن نہیں بلکہ ان ہزاروں خاندانوں کی جدوجہد کو یاد کرنے کا موقع بھی ہے جن کی زندگیاں تھیلیسیمیا جیسے موروثی مرض کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔

تھیلیسیمیا کیا ہے؟ 

تھیلیسیمیا خون کی ایک موروثی بیماری ہے جس میں جسم ہیموگلوبن درست مقدار میں نہیں بنا پاتا۔ اس کےنتیجے میں جسم میں آکسیجن کی کمی ہو جاتی ہے، جس سے مریض کمزوری، تھکن اور نشوونما کے مسائل کا شکارہو سکتا ہے۔

اس کی دو اہم اقسام ہیں۔ ایک مائنر، جس میں علامات معمولی ہوتی ہیں، اور دوسری میجر، جس میں مریض کو زندہ رہنے کےلیے باقاعدگی سے خون لگوانا پڑتا ہے۔ یہ بیماری والدین سے بچوں میں منتقل ہوتی ہے، خاص طور پر جب دونوں والدین کیریئر ہوں۔

تھیلیسیمیا سے جڑی کہانیاں

 جب تھیلیسیمیا سے جڑی کہانیاں بیان کی جاتی ہیں تو ان میں صرف ایک بیماری کا ذکر نہیں ہوتا، بلکہ ان بے شمار جذبات، آزمائشوں اور امیدوں کا بھی تذکرہ ہوتا ہے جن کے سہارے کئی خاندان اپنی زندگی گزارتے ہیں۔ کراچی کی نسیم امجد اور ان کے شوہر بھی انہی خاندانوں میں  شامل ہیں۔ 

دونوں بظاہر بالکل صحت مند زندگی گزار رہے تھے اور انہیں کبھی یہ احساس نہیں ہوا کہ وہ تھیلیسیمیا مائنر ہیں۔ زندگی معمول کے مطابق چل رہی تھی، خواب تھے، خوشیاں تھیں اور ان کی پہلی بیٹی ایشا امجد کی آمد نے ان خوشیوں کو مزید بڑھا دیا تھا۔

لیکن یہ خوشیاں اس وقت ایک کڑے امتحان میں بدل گئیں جب ایشا صرف چھ ماہ کی تھیں۔ بار بار طبیعت خراب ہونے اور کمزوری کے بعد ہونے والے ٹیسٹوں نے والدین کو ایک ایسے سچ کے سامنے لا کھڑا کیا جس کے لیے وہ کبھی تیار نہیں تھے۔ ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ ان کی بیٹی تھیلیسیمیا کی مریضہ ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں نسیم امجد بتاتی ہیں کہ 'اس لمحے یوں محسوس ہوا جیسے قدموں تلے زمین کھسک گئی ہو۔ ایک طرف اپنی ننھی بچی کی تکلیف، اور دوسری طرف یہ احساس کہ وہ خود اور ان کے شوہر بھی تھیلیسیمیا مائنر ہیں۔

’اور پھر وقت کے ساتھ انہیں اندازہ ہوا کہ صرف خون لگوانا ہی اس بیماری کا سب سے بڑا مسئلہ نہیں بلکہ اس کےساتھ جڑی کئی دوسری پیچیدگیاں بھی مریض اور خاندان دونوں کو مسلسل آزمائش میں رکھتی ہیں۔‘

مرض کے بارے میں غلط فہمیاں

نسیم امجد کے مطابق: ’ہمارے معاشرے میں تھیلیسیمیا کے حوالے سے کئی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ کچھ لوگ اسے صرف کزن میرج سے جوڑتے ہیں اور کچھ سمجھتے ہیں کہ خاندان سے باہر شادی کرنے سے یہ مسئلہ نہیں ہوگا،حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ اگر دونوں میاں بیوی تھیلیسیمیا مائنر ہوں تو ان کے بچوں میں تھیلیسیمیا میجر ہونے کےامکانات بڑھ جاتے ہیں۔‘

اسی لیے وہ والدین اور نوجوانوں سے اپیل کرتی ہیں کہ 'شادی سے پہلے تھیلیسیمیا سکریننگ، خصوصا الیکٹروفوریسس ٹیسٹ ضرور کرائیں تاکہ مستقبل میں بچوں کو اس تکلیف سے بچایا جا سکے۔ بچے جگر کا ٹکڑا ہوتے ہیں۔ ان کی تکلیف والدین کے لیے سب سے بڑا درد بن جاتی ہے۔‘

تکلیف دہ رویے

نسیم امجد یہ بھی بتاتی ہیں کہ بیماری کے دوران انہیں صرف طبی مشکلات کا ہی سامنا نہیں کرنا پڑا بلکہ معاشرتی رویوں نے بھی کئی بار دل دکھایا۔ بعض لوگوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ ایسے بچوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ یا ان کے شوہر کو دوسری شادی کر لینی چاہیے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’کوئی بھی والدین جان بوجھ کر اپنے بچے کے لیے ایسی زندگی نہیں چاہتے۔ یہ سب قسمت اورآزمائش کا حصہ ہوتا ہے۔ ’مشکل وقت میں ڈاکٹروں کے تعاون اور خود ایشا کے حوصلے نے ان کی امید قائمرکھی۔‘

مرض کو قبول کرنے کا حوصلہ

نویں جماعت کی طالبہ ایشا امجد جب اپنی زندگی پر نظر ڈالتی ہیں تو ان کے لہجے میں ایک ایسی پختگی محسوس ہوتی ہے جو شاید مسلسل آزمائشوں سے گزرنے کے بعد ہی پیدا ہوتی ہے۔

ایشا بتاتی ہیں کہ انہیں بچپن میں ہی تھیلیسیمیا کی تشخیص ہو گئی تھی۔ کم عمری سے ہی خون کی منتقلی انکی زندگی کا حصہ بن گئی۔ اسی لیے ان کے والدین نے شروع سے انہیں اس حقیقت کو سمجھنے اور قبول کرنے کاحوصلہ دیا۔ 

وہ کہتی ہیں کہ ان کے والدین ہمیشہ انہیں ہمت دیتے رہے تاکہ وہ خود کو دوسروں سے کم محسوس نہ کریں۔ ایشا امجد کا کہنا ہے کہ ’معاشرے میں تھیلیسیمیا کے شکار بچوں کو اکثر ایسے رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جوانہیں ہر لمحہ احساسِ محرومی میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ 

مجھے بھی بچپن میں خون لگواتے وقت شدید خوف محسوس ہوتا تھا۔ میں بہت روتی تھیں، اور مسلسل رونے کی وجہ سے مجھے بخار ہو جاتا، جس سے طبیعت مزیدخراب ہو جاتی تھی۔‘

لیکن وقت کے ساتھ انہوں نے اپنے اندر ایک نئی سوچ پیدا کی۔ ایشا کہتی ہیں کہ ایک دن انہوں نے خود کو سمجھایا کہ اگر یہ آزمائش اللہ کی طرف سے ہے تو اس میں گھبرانے کی بجائے حوصلے کے ساتھ جینا چاہیے۔ ان کے بقول: ’یہ علاج ہنس کر بھی کرانا ہے اور رو کر بھی، تو پھر کیوں نہ ہمت دکھائی جائے۔‘

ایشا تھیلیسیمیا کے دوسرے مریضوں کو بھی یہی پیغام دیتی ہیں کہ اپنی ادویات اور علاج میں کبھی غفلت نہ کریں۔ خاص طور پر آئرن کم کرنے والی دوائیں وقت پر لینا بہت ضروری ہے کیوں کہ مسلسل خون لگنے سے جسم میں آئرن کی مقدار بڑھ جاتی ہے، جو مزید پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے۔

موروثی امراض کا چیلنج

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کی جینیٹک کاؤنسلر ماہ رخ ناصر خبردار کرتی ہیں کہ ’پاکستان میں موروثی بیماریوں کے بڑھتے کیسز اب محض طبی رپورٹوں تک محدود نہیں رہے بلکہ یہ ایک بڑے سماجی اور صحت عامہ کے چیلنج کی شکل اختیار کر چکے ہیں جس کی جڑوں میں خاندانوں کے اندر شادیوں کا وہ مسلسل رجحان ہے جو جینیاتی خطرات کو بڑھا دیتا ہے۔‘

برطانیہ کے برٹش میڈیکل جرنل میں 2024 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے وہ بتاتی ہیں کہ ’پاکستان میں 65 فیصد سے زائد شادیاں کزنز  میں ہوتی ہیں، اور یہی شرح موروثی بیماریوں کے بڑھتے کیسز کیایک بڑی وجہ بن رہی ہے۔

 ’اسی پس منظر میں تھیلیسیمیا سمیت ہزاروں جینیاتی امراض اب زیادہ عامہوتے جا رہے ہیں، جن میں سے دنیا بھر میں سات ہزار سے زیادہ بیماریوں کی نشاندہی ہو چکی ہے۔‘

طبی شعبے میں سامنے آنے والی منفرد مثالیں اس مسئلے کی سنگینی کو مزید واضح کرتی ہوئے وہ بتاتی ہیں کہ'حال ہی میں پاکستان میں ایک بچے میں ایک ایسا جینیاتی مرض تشخیص ہوا جس کے دنیا بھر میں صرف پانچ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مقامی سطح پر جینیاتی تنوع محدود ہونے کے اثرات بڑھرہے ہیں۔ یہ ایک انتہائی پیچیدہ اور کم دیکھی جانے والی موروثی بیماری ہے، جس میں جسم کے مختلف نظام ایک ساتھ متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس بیماری کی عمومی خصوصیات کو یوں سمجھا جا سکتا ہے۔

متاثرہ بچوں میں بینائی اور سماعت کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

جلد کی ساخت اور صحت بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

وقت کے ساتھ جسمانی نشوونما اور موٹر اسکلز میں رکاوٹ آ سکتی ہے۔

بعض کیسز میں بیماری بڑھنے کے ساتھ چلنے پھرنے کی صلاحیت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

یہ بیماری جینیاتی تبدیلی (genetic mutation) کے باعث نسل در نسل منتقل ہو سکتی ہے۔

اس کا علاج محدود اور زیادہ تر امدادی (supportive) ہوتا ہے، جب کہ مخصوص جینی تھراپی صرف چند ممالک میں دستیاب ہے۔

ماہ رخ ناصر تھیلیسیمیا کی مثال دیتے ہوئے وہ واضح کرتی ہیں کہ ’اگر دونوں والدین اس بیماری کے کیریئر ہوں توہر حمل میں 25 فیصد امکان ہوتا ہے کہ بچہ تھیلیسیمیا میجر کے ساتھ پیدا ہو۔

’یہ وہ حقیقت ہے جو اکثر شادی سےپہلے نظرانداز ہو جاتی ہے لیکن بعد میں پورے خاندان کی زندگی بدل دیتی ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ فرسٹ کزن میرج میں تقریباً 12 فیصد جینیاتی مواد مشترک ہوتا ہے، جو موروثی بیماریوں کے خطراتکو نمایاں کرتا ہے۔

تھیلیسیمیا کے ساتھ ساتھ دیگر پیچیدہ امراض کا ذکر کرتے ہوئے وہ نشاندہی کرتی ہیں کہ سپائنل مسکولرایٹروفی، مسکولر ڈسٹروفی اور بینائی و جلد سے متعلق کئی بیماریاں بھی اسی جینیاتی نظام سے جڑی ہوئی ہیں، جن میں بچے وقت کے ساتھ اپنی بنیادی جسمانی صلاحیتیں کھو سکتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جینیاتی سکریننگ کی ضرورت

جدید طبی ٹیکنالوجی کا ذکر کرتے ہوئے وہ بتاتی ہیں کہ اب شادی سے پہلے جینیٹک سکریننگ کے ذریعے کیریئر سٹیٹس معلوم کیا جا سکتا ہے، جب کہ دوران حمل بھی مخصوص ٹیسٹوں سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بچہ کسی موروثی بیماری سے متاثر ہے یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ دوران حمل کیے جانے والے مخصوص جینیاتی ٹیسٹ، جیسے کہ ایمنیوسینٹیسس یا پلیسنٹا بائیوپسی کے نتائج اگر کسی پیچیدہ یا نایاب جینیاتی بیماری کی تصدیق کے لیے بیرون ملک بھیجے جائیں تو ان کی لاگت کروڑوں روپے تک پہنچجاتی ہے۔ 

پاکستان میں زیادہ تر ان مخصوص جینیاتی امراض کے لیے مکمل لیب سہولیات موجود نہیں ہیں، اس لیے نمونے اکثر بیرونی لیبارٹریز کو بھیجنے پڑتے ہیں۔

تاہم وہ آخر میں اس حقیقت پر زور دیتی ہیں کہ چوں کہ کئی جینیاتی امراض کا علاج یا تو انتہائی مہنگا ہے یا پاکستان میں دستیاب ہی نہیں، اس لیے اصل راستہ علاج کے بجائے آگاہی، بروقت اسکریننگ اور سوچ سمجھ کر کیے گئے فیصلوں سے ہی ممکن ہے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی صحت