’آپریشن سندور‘ کو ختم ہوئے تقریبا دو ماہ گزر چکے تھے کہ علی اصغر انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے نکل کر مجھے یورپ کے ایک خوبصورت شہر وینس میں ایک سیمنار میں شرکت کے دوران ملے۔
آپریشن سندور سے نہ صرف علی کی سوچ بدل گئی تھی بلکہ اس کی اونچی آواز میں بات کرنا بھی بند ہوگیا تھا جس پر ہمیشہ پہلے اسے ٹوکا جاتا تھا۔ وہ دھیمی آواز میں نہیں بلکہ سرگوشی میں بات کرنے لگ گیا تھے۔
علی کا خاندان ہمیشہ سے انڈیا نواز رہا ہے البتہ آپریشن سندور کے بعد وہ بظاہر کچھ 'بہکی بہکی'سوچ میں مبتلا ہوچکا تھا۔
گذشتہ برس سات اور آٹھ مئی کو وہ اس وقت کشتواڑ میں تھا جب انڈیا اور پاکستان کے بیچ فضائی تصادم شروع ہوا۔ اس سے چند روز قبل ہی وادی کے سرحدی علاقوں میں سے شہریوں کو زیر زمین بنکروں میں جانے کا اعلان ہوا تھا یا انہیں وہاں سے دوسری جگہوں پر منتقل کیا جا رہا تھا۔
اس ایک ہفتے میں علی کی آواز جیسے حلق میں بند ہوگئی اور وہ سرگوشی یا اشاروں میں بات کرنے کا قائل ہوگیا۔
میں نے وینس میں جب اسے للکارا کہ اس شہر میں بات کرنے پر کوئی پابندی نہیں آزادی اظہار ہے اور سرگوشی میں بات کرنا چھوڑ دو تو وہ بہت دیر تک مجھے تکتا رہا۔
ایک لمبے تامل کے بعد اس نے پہلے آس پاس نظریں دوڑائیں جو ہر کشمیری کی عادت ہے تاکہ جاسوسوں کی غیر موجودگی کی یقین دہانی کے بعد ہی بات کرنے کی ہمت کرسکے۔
وہ کہنے لگے: ’میں نے ایسی دہشت کا سامنا کیا ہے کہ میں کئی ہفتوں تک پہلے آواز سے ہی محروم ہوگیا تھا۔ دو ملکوں کی افواج کے بیچ میں جنگ جاری تھی لیکن اس کا سارا ملبہ کشمیریوں پر گر رہا تھا، خاص طور پر سرحدی علاقوں کے مکینوں کو جو دونوں طرف کے گولوں کی زد میں تھے۔
’گو کہ میرے والدین اور میں نے اس سرحدی گاؤں سے نکل کر ایک سکول میں پناہ لی تھی لیکن جن خشم زدہ نگاہوں اور نفرت کا ہمیں سامنا کرنا پڑ رہا تھا وہ آج بھی یا د کر کے میری نیند اڑ جاتی ہے۔
’یوں محسوس ہوتا کہ ہم یہاں کے شہری نہیں بلکہ درانداز یا دہشت گرد ہیں۔ گولے سرحد پار سے گر رہے تھے لیکن مجرم ہمیں مانا جاتا، یقین کریں جنگ ختم ہونے کے بعد بھی میں بات کرنے سے گھبراتا رہا۔ سکیورٹی کی گھورتی آنکھیں جیسے میرا تعاقب کر رہی تھیں۔‘
یہ کیفیت محض علی کی نہیں بلکہ جموں و کشمیر کے تقریبا ہر اس شہری کی ہے جو جنگ کے خوف یا پھر آس پاس کے دہشت زدہ ماحول سے گھبرا کر زبان بندی پر آمادہ ہوگیا ہے۔
وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ آپریشن سندور سے کیا حاصل ہوا ہے یا پھر کیا دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتی نفرت کے نتیجے میں ترقی کی رفتار تیز ہوگئی ہے۔ روزگار کے وسائل بڑھ گئے ہیں، منشیات کی روک تھام ہوگئی ہے۔
کم از کم جموں و کشمیر کی حد تک کچھ نہیں بدلا۔ حالات میں ایسی بہتری نہیں کہ لوگ کھل کر بات کر سکیں، ویسے بھی انڈیا میں محال ہی کوئی جنگ پر اپنی رائے دے سکا کیونکہ اس کو اکثر دیش مخالف سوچ سے تعبیر کیا جاتا رہا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
آپریشن سندور کی کامیابی یا ناکامی پر امریکی صدر ٹرمپ سے لے کر یورپی رہنماوں، میڈیا اداروں یا بیرونی ملکوں کے کروڑوں افراد نے تنقید یا تعریف کی ماسوائے کشمیریوں کے کہ جن پر غیر اعلان شدہ پابندی ہے اور وہ ٹرمپ کے رفال جہاز گرانے کی بار بار گنتی بدلنے پر نہ ہنس سکتے ہیں اور نہ رو سکتے ہیں۔
لوگ یہ اعتراض نہیں کرسکتے ہیں کہ جنگ بندی کے بعد سرحدی علاقوں میں مسلسل اضافی فوج یا سازو سامان پہنچانے کے لیے قومی شاہراوں پر مقامی لوگوں کی نقل و حمل آج بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ وہ گھنٹوں ملٹری قافلوں کے گزرنے کے انتظار میں اپنی غلاموں جیسی زندگی کو کوس رہے ہوتے ہیں۔
یا وہ یہ سوال پوچھنے کی جرات نہیں کر سکتے کہ کیا آپریشن سندور جاری ہے یا ختم ہوگ یا ہے؟ جیسا کہ سرحدی علاقوں میں سماں دکھ رہا ہے۔
ٹرمپ نے کئی بار جنگ بند کروانے کا سہرا اپنے سر لے کر پاکستان سے سرٹیفیکیٹ حاصل کیا ہے اور نوبیل انعام کے لیے نامزد کرنے پر شکریہ بھی ادا کیا ہے لیکن انڈیا کی طرف سے نہ ان کے کلام کی تائید یا تردید ہی کی جا رہی ہے، تاکہ سب کی تسلی ہوتی کہ ٹرمپ کو تنبیہ کرنے کا دم ہم بھی رکھتے ہیں۔
ایک سال گزرنے کے باوجود کشمیری مخمصے میں ہیں کہ وہ کس کی بات پر یقین کریں، ٹرمپ کی جنگ بندی کرانے پر، پاکستان کی فضائی بالادستی پر یا پھر انڈیا کی مسلسل خاموشی پر؟ جھٹلانے کی نہ وہ ہمت کرسکتے ہیں اور نہ ان کی تعریف دل سے نکلی ہوئی تعریف تصور کی جاتی ہے، علحیدگی پسندی کا لیبل ابھی تک دُھلا نہیں۔
کشمیری بھی انسان ہیں، جسم میں دل ہے اور دل میں ہزاروں خواہشیں۔۔ وہ بھی دوسرے شہریوں کی طرح کسی پر تنقید تو کسی پر تعریف کرنے کے لیے تڑپ رہے ہیں مگر ان کے سروں پر سخت قوانین کی تلوار ہمیشہ لٹکتی رہتی ہے۔
اب بےچارے کشمیریوں نے اس کمی کو پورا کرنے کے لیے ایران اور امریکہ اسرائیل جنگ کا سہارا لیا ہے، حالانکہ وہ جنگ کے کبھی حامی نہیں رہے ہیں۔
جب کشمیریوں نے امریکیوں کے چند قیمتی جہاز گرتے دیکھے یا خلیج میں اس کے اڈودں پر ایرانی میزائل کی بھرمار دیکھی تو بڑے تاو میں آکر کہنے لگے کہ ایران میں دم ہے۔
کشمیری، سینوں میں ابلے لاوے کو باہر پھینکنے کے لیے سڑکوں پر دیوانہ وار نکلے، ایران کے ساتھ جذبہ یک جہتی میں مرثیہ کرنے لگے، ڈرون اور میزائل پر قصیدے لکھنے لگے، ایرانی بچوں اور عورتوں کی موت پر واویلا کرتے رہے۔
یہ کافی برسوں کے بعد پہلا موقعہ تھا جب جذبات کا لاوا باہر آرہا تھا اور جسے دیکھ کر انتظامیہ کو بھی حساسیت سے کام لینا پڑا۔ وہ غزہ کے بچوں اور عورتوں کے لیے بھی ماتم کرنا چاہتے تھے لیکن اس کی اجازت کہاں ملتی یا پھر ہمت ہی نہیں کر پائے البتہ ایران کے میزائلوں کو دیکھ کر آپریشن سندور کو بہت یاد کر رہے تھے۔
عوام نے ایک بار اس سرگوشی کا سینہ چیرنا چاہا جو کئی برسوں سے ناسور کی شکل اختیار کرچکا ہے، سڑکوں پر آکر اس نے اپنی خاموشی پر عائد پابندی کو تار تار کر دیا جس نے ایک بڑی آبادی کو گونگا بنا دیا ہے، لیکن پھر گوشہ نہاں میں چلے گئے۔
نہ جانے ایران سے اظہار یک جہتی کے جلسوں کے بعد لوگوں کی اندر کی آگ کچھ کم ہوئی ہے اور آپریشن سندور کے ایک سال بعد وہ خود کو بے اختیار، بے آواز اور بے آسرا سمجھنے سے باز آگئے ہیں؟ مجھے اس کا بالکل علم نہیں۔ ہاں اس کی ضمانت وہ دے سکتے ہیں جو نمائندے لال بتی والی قیمتی گاڑیوں میں آج کل سیر کرتے دیکھے جاتے ہیں، مگر سنا ہے وہ پھر سودائی بنے بیٹھے ہیں۔
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔