قلم چھوڑ ہڑتال: اضطراری کیفیت یا ٹھوس حکمت عملی؟

یہ خیبرپختونخوا حکومت کی میانہ روی ہے کہ وہ اس پر زیادہ فخر نہیں کر رہی، ورنہ اس حسن کارکردگی پر ٹرمپ سے پہلے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا نوبیل انعام بنتا ہے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی 6 مئی 2026 کو مانسہرہ میں ایک جلسے میں شرکت کے موقعے پر (سہیل آفریدی فیس بک اکاؤنٹ)

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے خیبرپختونخوا میں قلم چھوڑ ہڑتال کا فیصلہ کیا تو دریچہِ دل پر اس سوال نے دستک دی کہ اگر ملا نصیر الدین حیات ہوتے تو اس طرز حکومت  کا کیسا سہرا کہتے؟
 
ابھی چند دن پہلے کی بات ہے، اسمبلی کی شان دار عمارت کے ہوتے ہوئے اسمبلی کا اجلاس ایک سٹیڈیم میں منعقد کیا گیا اور ابھی اس فیصلے میں پوشیدہ حکمت لوگوں پر پوری طرح آشکار نہیں ہوئی تھی کہ حکومت نے قلم چھوڑ ہڑتال کا اعلان فرما کر سب کو حیران کر دیا ۔ 

’بغض‘ کے ماروں اور ’ان پڑھ‘ لوگوں کی بات الگ ہے، وہ یقیناً اس قلم چھوڑ ہڑتال کے اچھوتے اور انقلابی تصور پر بھی تنقید کریں گے، لیکن علم و حکمت والے لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ پارلیمانی جمہوریت کی معلوم انسانی تاریخ میں ایسی شاندار حکمرانی کی مثال تلاش کرنا ممکن نہیں۔

یہ خیبرپختونخوا حکومت کی میانہ روی ہے کہ وہ اس پر زیادہ فخر نہیں کر رہی، ورنہ اس حسن کارکردگی پر ٹرمپ سے پہلے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا نوبیل انعام بنتا ہے۔

حکومت اور سیاسی جماعت میں فرق ہوتا ہے۔ آپ کی وابستگی کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو، جب آپ حکومتی منصب پر فائز ہو جاتے ہیں تو آپ کی ذمہ داری ایک سیاسی جماعت تک نہیں رہتی، آپ پورے صوبے کے معاملات کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سیاسی امور کو دیکھنے کے لیے سیاسی تنظیم اسی لیے الگ سے موجود ہوتی ہے۔ احتجاج کرنا ہو تو یہ حکومت کا نہیں اس سیاسی تنظیم کا کام ہوتا ہے۔

 یہ رسم مگر ہم پہلی بار دیکھ رہے ہیں کہ وزیراعلیٰ اپنے صوبے پر توجہ دینے کی بجائے سرکاری وسائل اور سرکاری پروٹوکول میں کبھی پنجاب میں احتجاجی تحریک منظم کرنے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔

کبھی کراچی جا پہنچتے ہیں، کبھی لاہور میں جلوہ افروز ہوتے ہیں، گاہے بگاہے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں شعلہ بیانی فرما رہے ہوتے ہیں اور کبھی اسلام آباد پر یلغار کا اعلان کر رہے ہوتے ہیں۔

اور جب ان غیر ضروری دورں سے واپس تشریف لاتے ہیں تو کبھی سٹیڈیم میں اجلاس منعقد فرما لیتے ہیں اور کبھی قلم چھوڑ ہڑتال کا اعلان کر کے ایک دن ضائع کر دیتے ہیں۔ 

یہ جماعت شاید بنی ہی احتجاج کے لیے ہے۔ تعمیر کا بھاری پتھر اٹھانا اس کے بس کی بات ہی نہیں۔ یہ صرف احتجاج ہی کر سکتی ہے۔ حکومت میں ہو یا اپوزیشن میں احتجاج کی کیفیت اس پر ٹھہر سی گئی ہے۔  

میرے جیسے لوگ سمجھتے تھے کہ موروثی سیاست سے نجات ضروری ہے۔ میدانِ سیاست میں اب جو غیر موروثی نونہال آئے ہیں، انہوں نے ہر چیز بازیچہ اطفال بنا دی ہے۔ 

اس کھلنڈرے پن اور غیر سنجیدگی کو دیکھ کر اب احساس ہو رہا ہے کہ وہ موروثی سیاست ہی بھلی تھی۔

خیبر پختونخوا کا طرزِ حکومت دیکھ کر آدمی فیصلہ نہیں کر پاتا، رشک کرے یا صبر کرے۔ پنجاب میں آئے روز کوئی نیا پراجیکٹ آ رہا ہوتا ہے لیکن خیبر پختونخوا میں حکومت کی کیا کارکردگی ہے؟

روز ایک مشاعرہ ہوتا ہے، طرزِ مصرعہ ایک ہی ہے کہ عشق عمران میں مارا جاؤں گا۔ کارکردگی نہ نظر آ رہی ہے، نہ کوئی اس کا سوال پوچھتا ہے۔ 

تعمیر ایک مشکل کام ہے۔ ہیجان اور نفرت آسان ہے۔ محسوس یہ ہوتا ہے کہ تحریک انصاف نے نفرت اور ہیجان کو ایک حکمت عملی کے طور پر اختیار کیا ہوا ہے اور نوجوانوں میں ایسی نفرت اور اشتعال بھر رکھا ہے کہ وہ اسی کیفیت میں خوش ہیں۔

یہ انسانی تاریخ کی واحد حکومت ہے جس پر کارکردگی کے حوالے سے کوئی دباؤ ہی نہیں ہے۔ سوال ہو تو وزرائے کرام مزے سے کہہ دیتے ہیں کہ ہمیں کام کرنے کے لیے تو ووٹ ہی نہیں ملا۔ یہ دو چار جذباتی نعرے لگا کر سرخرو ہیں۔

بڑی مہارت سے ایسا ماحول بنا دیا گیا ہے کہ ان کا جذباتی ووٹر کارکردگی نہیں مانگتا، وہ صرف اپنی جذباتی اور نفسیاتی تسکین چاہتا ہے۔ بلند بانگ دعوے، بڑھکیں، دوسروں کی تضحیک، شور و غل، وہ اسی سے خوش ہے۔

 سیاست اس سے پہلے ایسی آسان کبھی نہ تھی۔

 طرزِ حکومت کے اس ماڈل کے بعد اب یہ ایک سنجیدہ سوال ہے کہ کیا موجودہ سیاست میں کارکردگی اور گڈ گورننس کی کوئی افادیت باقی رہ گئی ہے۔

ہمارے ہاں سماجیات کو سنجیدہ نہیں لیا جاتا، ورنہ اب قومی سیاست میں یہ سوال ایک مستقل موضوع ہونا چاہیے تھا کہ کیا ہماری سیاست میں کسی حکومت کو کارکردگی دکھانی چاہیے یا نفرت، ہیجان اور اشتعال جیسے جذبات کو فروغ دے کر سیاست کرنا زیادہ آسان اور زیادہ فائدہ مند رہتا ہے۔

تحریک انصاف کی پالیسی جہاں بھی سٹریٹجائز ہو رہی ہے اس کی کامیابی دیکھیے، کہیں یہ سوال زیر بحث ہی نہیں کہ عثمان بزدار، علی امین گنڈا پور، سہیل آفریدی اور خود عمران خان کی کارکردگی کیا رہی۔

انہوں نے کامیابی سے بحث کو اس طرف جانے ہی نہیں دیا۔

نفرت، اشتعال اور سوشل میڈیا کی ہنرکاری سے ایسا ماحول بنا دیا گیا کہ سطحی اور جذباتی باتوں سے یہ سرخرو اور کامیاب ہیں۔ کچھ کر کے دکھانا نہ ان کا مسئلہ ہے، نہ کوئی ان سے اس کا مطالبہ کرتا ہے۔ 

تحریک انصاف کے ان اقدامات کی ایک توجیہ یہ ہو سکتی ہے کہ اس کا قائد جیل میں ہے اور وہ عمران خان کے بغیر اضطراری کیفیت سے دوچار ہے۔ یہ بات کسی حد تک قابل فہم بھی ہے لیکن جواز کے درجے میں نہیں۔

خود عمران خان کے لیے کے پی حکومت کی سب سےبڑی خیرخواہی یہ ہی ہو سکتی ہے کہ کارکردگی دکھا کر انہیں خود کو اور پارٹی کو سرخرو کریں۔

اضطراری کیفیت تمام ہو گی تو یہ سوال سب سے پہلے دامن گیر ہو گا کہ حکومت کی کارکردگی کیا تھی۔

یہ سوال کسی دن خود عمران خان بھی پوچھ سکتے ہیں۔ سہیل آفریدی کے پاس کیا جواب ہو گا؟

ویسے قلم چھوڑ ہڑتال کی کامیابی کے بعد اب کیا بھوک ہڑتال کی جائے گی؟

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر