خیبر پختونخوا میں منفرد ’سرکاری‘ ہڑتال، تاریخ کیا بتاتی ہے

ماضی میں ملازمین اپنے محکموں یا حکومت کے خلاف ہڑتال کرتے رہے ہیں لیکن کسی صوبائی حکومت کا خود اپنے محکموں میں ہڑتال کرنے کا شاید یہ پہلا واقعہ ہے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کے دیگر کارکن 30 جنوری، 2026 کو اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کر رہے ہیں(انڈپیںڈنٹ اردو)

خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے آج (بدھ کو) وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی ہدایت پر سرکاری دفاتر میں قلم چھوڑ ہڑتال کی۔

صوبائی حکومت کے مطابق اس ہڑتال کا مقصد وفاقی حکومت کا مبینہ طور پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ جیل میں ناروا سلوک ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں مختلف سرکاری محکموں کے ملازمین نے بتایا کہ وہ آج دفاتر تو گئے لیکن ہڑتال کے اعلان کے باعث کوئی کام نہیں کیا۔

یہ ہڑتال اپنی نوعیت کے اعتبار سے غیر معمولی تھی۔ ماضی میں مزدور یونینز، اساتذہ، ڈاکٹرز اور دیگر پیشہ ورانہ تنظیمیں حکومت کے خلاف قلم چھوڑ ہڑتال کرتی رہی ہیں، لیکن کسی صوبائی حکومت کا خود اپنے سرکاری محکموں میں ہڑتال کا شاید یہ پہلا واقعہ ہے۔

ہڑتال کی بنیادی تعریف یہی ہے کہ ملازمین اپنے ادارے یا آجر کے خلاف حقوق کے حصول کے لیے کام روک دیں جبکہ آج کا منظر اس تعریف سے یکسر مختلف تھا۔

قلم چھوڑ ہڑتال کی تاریخ

مزدوروں اور ملازمین کی ہڑتالوں کی روایت صدیوں پرانی ہے۔ انٹرنیشنل جرنل آف ہیومینیٹیز کے مطابق ’سٹرائک ان ورک‘ کی اصطلاح پہلی بار 17ویں صدی میں اس وقت سامنے آئی جب ملازمین نے اپنے حقوق کے لیے منظم احتجاج شروع کیا۔

انڈیا کی نیشنل لا یونیورسٹی کے ایک تحقیقی مقالے کے مطابق قلم چھوڑ ہڑتال کا تصور برصغیر میں 1930 میں ابھرا، جب ملازمین دفاتر آتے تو تھے لیکن کام کرنے سے گریز کرتے۔

اُس وقت لیبر کمیشن کے سامنے یہ قانونی سوال اٹھا کہ آیا اسے باقاعدہ ہڑتال تسلیم کیا جائے یا بدنظمی شمار کیا جائے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بعد ازاں ہندوستان کی ایک عدالت نے اپنے فیصلے میں قلم چھوڑ ہڑتال کو قانونی طور پر ہڑتال کی تعریف میں شامل کر لیا۔

اپنے مطالبات منوانے میں مؤثر ثابت ہونے کے باعث یہ طریقۂ احتجاج جنوبی ایشیا میں مقبول ہوتا گیا اور تقسیم ہند کے بعد پاکستان اور انڈیا دونوں میں ایک باقاعدہ احتجاجی شکل اختیار کر گیا۔

پاکستان میں قلم چھوڑ ہڑتال

پاکستانی تاریخ میں قلم چھوڑ ہڑتال کی نمایاں مثال 1965 میں سامنے آئی جب نیشنل بینک آف پاکستان کے ملازمین نے بونس کے مطالبے پر کام کرنے سے انکار کر دیا۔

اس کے بعد سے یہ احتجاجی طریقہ مختلف سرکاری محکموں میں وقتاً فوقتاً استعمال ہوتا رہا ہے۔

تاہم موجودہ صوبائی حکومت نے اس روایت میں ایک نئی جہت کا اضافہ کیا ہے: اب حکومت خود بھی اپنے محکموں میں قلم چھوڑ ہڑتال کا اعلان کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی دفتر