آسٹریلیا کی 125 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک خاتون فوج کی کمان سنبھالیں گی۔ یہ اعلان وزیر دفاع رچرڈ مارلس نے پیر کو کیا۔
لیفٹیننٹ جنرل سوزن کوائل کو آسٹریلین فوج کی سربراہ نامزد کیا گیا ہے، جنہوں نے اپنے 30 سالہ کیریئر کے دوران افغانستان اور مشرق وسطیٰ میں خدمات انجام دیں۔
مارلس نے صحافیوں سے کہا ’ان کی کامیابی کا مطلب یہ ہے کہ وہ آسٹریلوی تاریخ میں کسی سروس کی کمان کرنے والی پہلی خاتون ہوں گی۔‘
’اور یہ ایک تاریخی لمحہ ہے۔ جیسا کہ سوزن نے مجھ سے کہا، آپ وہ نہیں بن سکتے جو آپ دیکھ نہیں سکتے۔‘
آسٹریلیا کی فوج آج کل ایک بڑی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہی ہے، جو خود کو طویل فاصلے کی ہتھیاروں، ڈرونز اور دیگر جدید جنگی آلات سے لیس کر رہی ہے۔
کائل سائبر جنگ جیسے شعبوں میں تجربہ رکھتی ہیں۔
انہوں نے کہا ’یہ تجربے کی وسعت کمان کی ذمہ داریوں اور مجھ پر اعتماد کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
آسٹریلین نیوز چینل اے بی سی کے مطابق اس کے علاوہ آسٹریلیا کے وزیر اعظم نے نیوی چیف وائس ایڈمرل مارک ہیمنڈ کو آسٹریلین ڈیفنس فورس کا نیا چیف مقرر کر دیا ہے۔
وائس ایڈمرل ہیمنڈ نے نیوی میں 40 سال گزارے ہیں، جن میں سب میرین کمانڈر کے طور پر بھی وقت شامل ہے اور وہ جولائی میں ریٹائر ہونے پر موجودہ دفاعی فورس چیف ڈیوڈ جانسٹن کی جگہ لیں گے۔
کہا جاتا ہے کہ انہوں نے انتھونی البانیز اور وزیر دفاع رچرڈ مارلس کے ساتھ مضبوط ورکنگ ریلیشن شپ قائم کی، جو نیوکلیئر پاورڈ آبدوزیں حاصل کرنے کے انتہائی پرعزم منصوبے کے ’بالکل مرکز‘ میں تھے۔
حکومت کا کہنا ہے ’سوزن کی کامیابی آج آسٹریلین ڈیفنس فورس میں خدمات انجام دینے والی خواتین اور مستقبل میں آسٹریلین ڈیفنس فورس میں خدمات کے بارے میں سوچ رہی خواتین کے لیے بہت اہم ہوگی۔‘
سوزن کوائل کی تقرری نہ صرف آسٹریلیا کے لیے بلکہ دنیا بھر میں خواتین کے لیے ایک تحریک کا باعث ہے، خاص طور پر ان کا یہ قول کہ ’آپ وہ نہیں بن سکتے جو آپ نہیں دیکھ سکتے‘ اس بات پر زور دیتا ہے کہ خواتین کو اعلیٰ عہدوں پر دیکھنا دوسروں کے لیے بھی آگے بڑھنے کی ترغیب دیتا ہے۔
ان کی قیادت آسٹریلوی فوج کو جدید چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
آسٹریلیا میں خواتین کو آگے لانے کے لیے بہت کوششیں ہو رہی ہیں۔ ملک کی تاریخ میں پہلی بار گذشتہ برس تک تین اہم معاشی اداروں کی قیادت خواتین کے پاس تھی۔ ان میں میشل بولک (گورنر، ریزرو بینک آف آسٹریلیا)، جینی وِلکنسن (سیکریٹری، آسٹریلین خزانہ) اور ڈینیئل ووڈ (چیئر، پروڈکٹیویٹی کمیشن) شامل تھیں۔
تینوں اعلیٰ معاشی عہدے خواتین کے پاس ہونا آسٹریلیا میں معاشی شعبے میں خواتین کی تاریخ ساز پیش رفت مانا جا رہا تھا۔
جب سوزن کوائل فوج میں شامل ہوئیں تھیں، تو اس وقت سب سے اعلیٰ خاتون فوجی ایک کرنل تھیں۔
میجر جنرل کائل بم ڈسپوزل سوٹ میں ٹیم کے ساتھ، جو افغانستان میں مارے جانے والے فوجیوں کی یاد میں ایک تقریب میں شریک ہیں (فراہم کردہ: آسٹریلوی دفاعی فورس)
وہ اپنے والدین کی دور دراز پوسٹنگ پر شمالی نیو ساوتھ ویلز کے کیوگلے میں پیدا ہوئیں۔
جنرل کوائل کہتی ہیں، ’میرے والد نیو ساؤتھ ویلز حکومت میں واٹر ریسورسز کمیشن کے لیے کام کرتے تھے۔ ہم ایک ڈیم سائٹ سے دوسری ڈیم سائٹ پر منتقل ہوتے تھے اور جب پانی جمع کرنے کے لیے دیوار بن جاتی، تو ہمارا گھر دو ٹرکوں پر لاد دیا جاتا اور ہم اگلی ڈیم سائٹ پر چلے جاتے۔
’ایک شان دار بچپن تھا، بہت سے بہن بھائی تھے۔ ہر جگہ بچے ہی بچے تھے۔‘
یہ شاید ان کے بعد کے انتخاب کی وضاحت کرتا ہے: فوج کے ساتھ 36 سال کے دوران انہوں نے 28 بار جگہ بدلی، اکثر اپنے شوہر مارک کے ساتھ، جو خود بھی فوج میں خدمات انجام دے رہے ہیں، اور ان کے تین بچوں کے ساتھ۔
وہ کہتی ہیں: ’میں اپنے بچوں کے بارے میں بہت باخبر تھی — جب وہ ہائی سکول میں پہنچے، تو ہم نے استحکام حاصل کرنے کی کوشش کی۔ لہذا ہم میں سے ایک کا کانبیرا میں ہونا ضروری تھا، یا اگر ضرورت پیش آئی تو میرا بیٹا دو سال کے لیے بورڈنگ سکول چلا گیا۔`
وہ آسٹریلیا کے ابتدائی خلائی کمان کی بھی سربراہی کر رہی ہیں۔ فوج میں ایک کپتان کی حیثیت سے، انہوں نے امریکہ میں سیٹلائٹس کی نیویگیشن اور کنٹرول کی تربیت حاصل کی۔
’لہذا ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ آسمان میں کیا ہے … کون سے سیٹلائٹس ہمارے یا ہمارے اتحادیوں کے ہیں؟ کون سے تجارتی سیٹلائٹس ہیں جن کی ہمیں حفاظت کرنی ہے، اور وہاں اور کون سے سیٹلائٹس ہیں جن کے بارے میں ہم نہیں جانتے اور جو ممکنہ طور پر دشمن کے سیٹلائٹس ہو سکتے ہیں، اور وہ کیا کر رہے ہیں؟‘ وہ کہتی ہیں۔