خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں حکام نے منگل کو بتایا کہ کچھ عرصے سے مخدوش صورت حال کے پیش نظر مختلف علاقوں میں گذشتہ پانچ روز سے عسکریت پسندوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن جاری ہے جس کے باعث ضلع بھر میں انٹرنیٹ سروس بند ہے اور بعض علاقوں میں کرفیو نافذ ہے۔
بنوں سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن صوبائی اسمبلی پختون یار خان نے گذشتہ روز اسمبلی اجلاس کے دوران خطاب میں اسمبلی کو بتایا کہ بنوں میں گذشتہ چار روز سے کرفیو نافذ ہے اور انٹرنیٹ سروس معطل ہے۔
انہوں نے اسمبلی کو بتایا کہ وہاں ’انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن‘ ہو رہا ہے تاہم صوبائی حکومت سے سوال کیا کہ کیا حکومت اس پر آن بورڈ ہے یا نہیں۔
پختون یار نے بتایا: ’انٹرنیٹ سروس کی بندش سے میرا اپنے گھر سے بھی رابطہ نہیں ہو رہا۔ گھر سے باہر افراد کو اپنے اہلِ خانہ سے رابطے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ ہم امن خراب کرنے والے تمام عناصر کے خلاف ہیں، لیکن صوبائی حکومت کو اس پر اپنا موقف سامنے رکھنا چاہیے۔‘
اسی معاملے پر پی ٹی آئی کے اپنے اراکین ہی اختلاف کا شکار نظر آئے، اور پختون یار کی تقریر کے جواب میں صوبائی وزیرِ قانون آفتاب عالم نے اسمبلی کو بتایا کہ بنوں میں کوئی کرفیو نافذ نہیں ہے، اور صرف جہاں کارروائی ہو رہی ہے وہاں انٹرنیٹ سروس معطل ہو سکتی ہے۔
اس پر پختون یار نے اسمبلی میں ڈپٹی کمشنر کی جانب سے کرفیو سے متعلق مراسلہ دکھا کر کہا کہ صوبائی وزیرِ قانون ایوان میں غلط بیانی کر رہے ہیں، جبکہ ان کا اپنا گھر بنوں میں ہے جہاں انٹرنیٹ سروس بھی معطل ہے اور کرفیو نافذ ہے۔
ڈپٹی سپیکر ثریا بی بی نے جواب میں کہا کہ اس معاملے کی نشاندہی کر دی گئی ہے اور متعلقہ محکمے اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر سے بات کریں گے۔
بنوں میں اب کیا صورت حال ہے؟
بنوں کے مقامی صحافی فرحت اللہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن بنوں کی بکاخیل اور میریان تحصیلوں کے مختلف علاقوں میں جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ضلع بھر میں موبائل سگنلز، موبائل انٹرنیٹ سمیت براڈ بینڈ انٹرنیٹ سروس بھی معطل ہے، جبکہ ان تحصیلوں کے مختلف علاقوں میں کرفیو بھی نافذ ہے۔
فرحت اللہ نے بتایا: ’بنوں کے مرکزی بازار کے علاقوں میں کرفیو اتنا سخت نہیں ہے، تاہم بازاروں میں رش نہ ہونے کے برابر ہے۔‘
بنوں میں جاری ‘ٹارگٹڈ آپریشن’ کے حوالے سے گذشتہ روز ریجنل پولیس آفیسر بنوں رب نواز کے دفتر سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ میریان اور نورڑ میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کا مشترکہ ٹارگٹڈ آپریشن جاری ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا: ’ریجنل پولیس آفیسر بنوں ریجن رب نواز خان نے میریان اور نورڑ کے علاقوں میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کے جاری ٹارگٹڈ آپریشنز کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر کمانڈر 116 بریگیڈ، ڈی پی او بنوں فرقان بلال اور ڈپٹی کمشنر بنوں محمد فہیم خان بھی ان کے ہمراہ تھے۔‘
دورے کے دوران آر پی او کو جاری آپریشنز کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس پر انہوں نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور مربوط حکمتِ عملی کو سراہا۔
انہوں نے کہا: ’آپریشن عوام کے جان و مال کے تحفظ اور علاقے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ناگزیر ہے۔ یہ مکمل طور پر ٹارگٹڈ آپریشن ہے، جس کا مقصد صرف دہشت گرد عناصر کا خاتمہ ہے، جبکہ عام شہریوں کے جان و مال کا ہر ممکن تحفظ یقینی بنایا جا رہا ہے۔‘
بنوں پولیس کے مطابق منگل کو میریان کے مختلف علاقوں میں آپریشن کیا گیا اور مختلف کارروائیوں کے نتیجے میں 14 افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔
پولیس کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد سے دو کلاشنکوف، ایک ریپیٹر بندوق، چار رائفلیں، متعدد کارتوس اور آٹھ موٹر سائیکلیں برآمد کی گئیں۔
بنوں پولیس کے بیان کے مطابق، ’ممباتی برکزئی اور خنی کلہ کے علاقوں سے چھ دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) بحفاظت ناکارہ بنا دیے گئے، جن میں مجموعی طور پر 120 کلوگرام بارودی مواد نصب تھا۔‘
بنوں میں آپریشن کے حوالے سے صوبائی وزیرِ اطلاعات شفیع جان نے منگل کو پریس کانفرنس میں سوال کے جواب میں کہا کہ وہ بنوں آپریشن کے حوالے سے کچھ نہیں بتا سکتے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ امن و امان کی صورتحال سے متعلق فیصلے بند کمروں میں کیے جاتے ہیں۔