خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں پولیس کے مطابق ہفتے کو ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 8 سے زائد عسکریت پسند مارے گئے اور متعدد زخمی ہوئے جبکہ دو اہلکار جان سے چلے گئے۔
سینٹرل پولیس آفس کے مطابق پولیس اور سی ٹی ڈی کی مشترکہ ٹیموں نے بنوں کی تحصیل میریان کے علاقے برک زئی اخوند خیل میں اس آپریشن میں حصہ لیا۔
پولیس کے مطابق اس دوران 10 کلو دیسی ساختہ بم بھی برآمد کر کے ناکارہ بنا دیا گیا۔
Bannu Police foil major terror plot in PS Merian area.
— KP Police (@KP_Police1) May 23, 2026
8 terrorists killed in operation.
1 official martyred, 1 injured.
IGP Zulfiqar Hameed praises Bannu Police courage. pic.twitter.com/8k5POI7gyV
آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید کے مطابق عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن تاحال جاری ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ جدید آلات کی مدد سے عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا رہی ہے اور مربوط انٹیلی جنس کی بنیاد پر ان کے خلاف کارروائیاں کی جارہی ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بنوں عمومی طور پر خیبر پختونخوا کے شدت پسندی سے متاثرہ اضلاع میں شامل ہے جہاں ماضی میں کئی بڑے حملے ہوئے ہیں جس میں عسکری تنصیبات پر حملے بھی شامل ہیں۔
رواں ماہ نو مئی کی شب بھی فتح خیل چوکی پر ایک حملے میں 1200 سے 1500 کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں 15 پولیس اہلکاروں کی موت ہوئی تھی۔
پولیس کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فتح خیل نامی چوکی کے قریب ایک لوڈر رکشے سے دھماکہ کیا گیا اور بعد میں بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ بھی کی گئی۔
اس سے قبل 2022 میں بنوں کے کینٹ علاقے کے اندر واقع انسداد دہشت گردی کے مرکز میں قید عسکریت پسندوں نے پولیس کو تقریباً 48 گھنٹے یرغمال بنا لیا تھا، جس کے بعد حکومت کے مطابق تمام عسکریت پسندوں کو آپریشن کے دوران مار دیا گیا تھا۔