عیدالاضحیٰ قریب آتے ہی اسلام آباد کی سنگجانی مویشی منڈی میں خریداروں کا رش بڑھ گیا ہے، جہاں لوگ قربانی کے جانور خریدنے کے لیے مختلف سٹالز کا رخ کر رہے ہیں۔
رش اور بھاری رقوم کے لین دین کے باعث شہریوں کو سیکیورٹی سے متعلق خدشات بھی ہیں، کہ آیا منڈی میں نقد رقم ساتھ رکھنا محفوظ ہے یا نہیں۔
منڈی میں آنے والے خریداروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ کچھ لوگ آن لائن ادائیگی کو ترجیح دے رہے ہیں، لیکن اکثریت اب بھی نقد رقم میں لین دین کر رہی ہے۔
منڈی میں آئی ایک خریدار انوشہ نے ریٹس زیادہ ہونے کی شکایت کی اور ساتھ ہی آن لائن ادائیگی کی سہولت محدود ہونے کا بھی اظہار کیا۔
منڈی میں آئے ایک خریدار محمد ابو بکر کا کہنا ہے کہ ’ تقریباً 90 فیصد لین دین کیش میں ہو رہا ہے، صرف 10 فیصد لوگ آن لائن پیمنٹ استعمال کر رہے ہیں۔‘
ان کے مطابق انٹرنیٹ مسائل اور رقم ٹرانسفر میں تاخیر کی وجہ سے لوگ آن لائن ادائیگی سے ہچکچاتے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایک شہری حضرت خان کا کہنا ہے کے ایسے ماحول میں ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے تاکہ شہری زیادہ محفوظ انداز میں خریداری کر سکیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’اس وقت بازار اور منڈیوں میں خریداری کے لیے پیسے لے کر آنا خطرے سے خالی نہیں ہے۔ اس لیے آن لائن کی سہولت موجود ہونی چاہیے۔‘
منڈی میں موجود ایک پرائیویٹ بینک کے ڈیجیٹل بینکنگ نمائندے زین خورشید خان نے منڈی میں ایک آگاہی اور سہولت فراہم کرنے والا کیمپ بھی لگایا ہوا ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ’ہمارا اس کیمپ کو لگانے کا مقصد خریداروں اور بیوپاریوں کو آگاہی فراہم کرنا ہے کہ یہاں لوگ کیش لیس بینکنگ کو استعمال کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر QR کوڈ کے ذریعے آپ لوگ ادائیگیاں کر سکتے ہیں۔