جب عید خوشیوں کے بجائے فکر لے کر آتی ہے

ہر بچہ عید کے دن نئے کپڑوں اور مٹھائی کے خواب دیکھتا ہے، لیکن کچھ بچوں کے خواب ان کے والدین کی محدود آمدنی میں دب جاتے ہیں۔

22  مارچ 2026 کو کوئٹہ کے مضافات میں عید الفطر کی خوشیوں کے دوران بچے جھولے پر کھیل رہے ہیں (تصویر: بنارس خان / اے ایف پی)

شہر کی فصیلوں پر ہر سال جب عید کا چاند نمودار ہوتا ہے تو بلند و بالا عمارتوں کی کھڑکیوں سے جھانکتی روشنیوں میں ایک عجیب سی کھلبلی مچ جاتی ہے۔ خواتین اور بچوں کا بازاروں میں شاپنگ کے لیے رش معمول سے زیادہ نظر آتا ہے اور اس سال کی عید پر بھی یہی ہوا۔ رمضان کے آغاز سے ہی ہر مشہور برینڈ پر سیل کے نام پر نمایاں ڈیزائنز کے ملبوسات کی بھرمار رہی، اور خواتین سے تمام بازار بھر گئے، جیسے کہ عید کے کپڑوں اور لوازمات پر سیل نہیں بلکہ مفت میں مل رہے ہوں۔

ہر سال سیلز کی دکانوں پر بھگڈر بھی مچ جاتی ہے، لیکن اس سال خدا کے فضل سے خواتین ایک دوسرے سے کپڑے کے ایک جوڑے پر لڑنے جھگڑنے سے باز رہیں۔ البتہ سوشل میڈیا کا ایک وائرل کانٹینٹ مسنگ رہا۔ البتہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں چھت گرنے کی وجہ سے چالیس کے قریب خواتین چل بسیں، کیونکہ کمزور چھت چالیس خواتین کا بوجھ برداشت نہ کر سکی۔

ہر عید پر ہر خاندان یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنے بچوں اور خاندان کے لیے بہترین کپڑے، جوتے اور کھانے پینے کی اشیاء فراہم کرے تاکہ ان کے چہروں پر خوشیاں سجیں۔ ہمارے گھروں میں بھی یہی ہوتا ہے، لیکن اسی شہر کی ایک تنگ و تاریک گلی کے آخری سرے پر واقع ایک بوسیدہ سے کمرے میں بیٹھی زہرا کے لیے یہ چاند خوشی سے زیادہ فکر کا پیغام لاتا ہے۔

زہرا، جو صبح کا سورج نکلنے سے پہلے ہی بیدار ہو کر تین مختلف گھروں میں صفائی ستھرائی اور برتنوں کے انبار سے نبرد آزما ہوتی ہے، اس کے لیے عید محض ایک روایتی تہوار نہیں بلکہ ایک سنگین معاشی چیلنج ہے۔ اس کی زندگی کا پہیہ ان چند ہزار روپوں کے گرد گھومتا ہے جو اسے مہینے کے آخر میں ملتے ہیں، اور موجودہ دور کی کمر توڑ مہنگائی نے ان روپوں کی وقعت کو کسی سوکھے پتے کی مانند کر دیا ہے جو ذرا سی معاشی ہوا چلنے پر اڑ جاتے ہیں۔

زہرا کی کل جمع پونجی 35 سے 45 ہزار روپے کے درمیان رہتی ہے، جو بظاہر ایک رقم لگتی ہے، مگر جب اسے کرایہ، بجلی کے بھاری بل، گیس اور بچوں کے پیٹ کی آگ بجھانے کے ترازو میں تولا جاتا ہے تو پلڑا ہمیشہ ضرورتوں کا ہی بھاری رہتا ہے۔

پاکستان جیسے ملک میں جہاں متوسط طبقہ بھی اب سانس لینے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے، زہرا جیسے نچلے درجے کے محنت کش طبقے کے لیے عید کی تیاری کسی جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ آٹے کا تھیلہ ہو یا گھی کا ڈبہ، ہر چیز کی قیمت اب اس کی پہنچ سے کوسوں دور جا چکی ہے۔ جب وہ دکاندار سے چینی یا دالوں کا بھاؤ پوچھتی ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے جیسے مہنگائی کی تپش اس کے چہرے کو جھلسا رہی ہو۔

اس کے تین بچے ہیں، جن کی معصوم آنکھوں میں عید کے سپنے تو ہیں، مگر ان سپنوں کی تعبیر زہرا کے خالی پرس میں کہیں گم ہو گئی ہے۔ سرکاری اسکول میں پڑھنے کے باوجود بچوں کی کاپیاں، کتابیں اور یونیفارم کے اخراجات اس کے بجٹ پر ایک ایسا بوجھ ہیں جسے وہ سال بھر ڈھوتی رہتی ہے۔ اگر کبھی کسی بچے کو بخار ہو جائے تو نجی کلینک کی فیس اور ادویات کے دام اس کے پورے مہینے کے حساب کتاب کو درہم برہم کر دیتے ہیں، اور وہ کئی راتیں صرف یہ سوچ کر جاگتی رہتی ہے کہ اگلے دن کا راشن کیسے پورا ہوگا۔

رہائش کی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں۔ ایک ایسے مکان میں رہنا جہاں کی دیواریں نمی سے بھری ہوں اور چھت سے پلستر گرتا ہو، اس کے لیے اسے اپنی آدھی سے زیادہ آمدنی صرف کرائے کی مد میں دینی پڑتی ہے۔ اس پر مستزاد بجلی اور گیس کے وہ بل ہیں جو کسی ناگہانی آفت کی طرح ہر ماہ اس کے دروازے پر دستک دیتے ہیں۔ گرمیوں کی تپتی دوپہروں میں پنکھے کی معمولی ہوا ہو یا سردیوں کی ٹھٹھرتی راتوں میں چولہے کی ہلکی سی آنچ، ہر سہولت کے بدلے اسے اپنی بنیادی ضرورتوں میں کٹوتی کرنی پڑتی ہے۔

ایسے کٹھن حالات میں جب عید دستک دیتی ہے تو زہرا کے سامنے ایک پہاڑ جیسا سوال کھڑا ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی چھوٹی چھوٹی خواہشات کو کیسے پورا کرے۔ بازار میں ایک عام سے بچے کا جوڑا بھی اب اس کی دسترس سے باہر ہے، اور جب وہ تینوں بچوں کے لیے کپڑوں اور جوتوں کا حساب لگاتی ہے تو وہ رقم اس کی ماہانہ آمدنی کا ایک بڑا حصہ نگل جاتی ہے۔

عید کے دن دسترخوان پر کچھ اچھا پکانا ہر ماں کی خواہش ہوتی ہے، لیکن گوشت کی قیمتیں تو اب غریب کے لیے ایک خواب بن چکی ہیں۔ وہ گوشت جو کبھی عام دنوں میں مہینے میں ایک بار نصیب ہو جاتا تھا، اب عید کے موقع پر بھی ایک عیاشی معلوم ہوتا ہے۔ چینی، سویاں اور خشک میوہ جات کی قیمتیں سن کر وہ چپکے سے دکان سے باہر نکل آتی ہے کہ کہیں بچوں کی فرمائشیں اسے معاشی طور پر مزید کھوکھلا نہ کر دیں۔

اس کی آمدنی کے ذرائع محدود ہیں اور جن گھروں میں وہ کام کرتی ہے، وہاں تنخواہ میں اضافہ مہنگائی کی رفتار کا مقابلہ نہیں کر پاتا۔ وہ عید سے قبل کچھ اضافی گھروں میں کام پکڑنے کی کوشش کرتی ہے، اپنی تھکی ہوئی ہڈیوں اور نڈھال جسم کو مزید مشقت میں ڈالتی ہے تاکہ چند سو روپے مزید کما سکے، مگر جسمانی توانائی کی بھی ایک حد ہوتی ہے جو اکثر جواب دے جاتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

زہرا کے پاس نہ کوئی بینک بیلنس ہے اور نہ ہی کوئی ایسی بچت جو کسی ہنگامی ضرورت میں کام آ سکے۔ اس کی زندگی میں "سوشل سکیورٹی" جیسے الفاظ کا کوئی وجود نہیں۔ اگر کسی دن طبیعت ناسازی کی وجہ سے وہ کام پر نہ جا سکے تو اس دن کی اجرت کٹ جانے کا خوف اسے بستر سے اٹھنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ وہ اکثر مجھے کہتی ہے: "باجی، کیا خوشیاں منانا صرف صاحبِ ثروت لوگوں کا حق ہے؟ کیا میرے بچوں کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ بھی نئے کپڑوں کی خوشبو محسوس کریں اور عید کی صبح قہقہے لگائیں؟"

میں سالوں سے یہ دیکھ رہی ہوں کہ کس طرح یہ کشمکش اسے ہر لمحہ بے چین رکھتی ہے، جہاں اسے ترجیحات کا تعین کرنا پڑتا ہے کہ وہ بچوں کی بھوک مٹائے یا ان کی خوشیوں کی تسکین کے لیے انہیں نئے کپڑے پہنائے۔ یہ تلخ حقیقت صرف زہرا کی نہیں بلکہ پاکستان کے گلی کوچوں میں بسنے والی ان لاکھوں خواتین کی ہے جو خاموشی سے معاشی جنگ لڑ رہی ہیں۔

ہم اپنے اردگرد موجود ان کرداروں کو صرف "ماسی" یا ملازمہ نہ سمجھیں بلکہ انہیں اپنے معاشرے کا ایک جیتا جاگتا اور حساس حصہ تسلیم کریں۔ عید کی اصل روح مٹھائیوں یا نئے لباس میں نہیں، بلکہ اس احساس میں ہے جو ہم دوسروں کے لیے اپنے دل میں پیدا کرتے ہیں۔ جب ہم اپنے گھر کے ملازمین کی تنخواہیں وقت سے پہلے ادا کرتے ہیں یا ان کے بچوں کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق چھوٹے چھوٹے تحائف خریدتے ہیں، تو دراصل ہم ان کے کندھوں سے اس معاشی بوجھ کو تھوڑا کم کر رہے ہوتے ہیں جو انہیں سجدہِ شکر بجا لانے سے روک رہا ہوتا ہے۔

ان کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کا انتظام کرنا ہی وہ اصل نیکی ہے جو ایک منقسم معاشرے میں توازن پیدا کر سکتی ہے۔ زہرا جیسے لوگوں کے لیے عید تبھی عید بنتی ہے جب ان کے بچوں کی آنکھوں میں محرومی کے بجائے اطمینان کی جھلک نظر آئے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک خوشحال معاشرہ وہ نہیں جہاں صرف چند لوگ جشن منائیں، بلکہ وہ ہے جہاں ہر ماں یہ کہہ سکے کہ اس کے بچوں کی مسکراہٹ ہی اس کی عید ہے۔ ایسی عیدیں ہی درحقیقت برکتوں کا باعث بنتی ہیں اور انسانیت کے وقار کو بلند کرتی ہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ