کلیان داس مندر: جو آج بھی یاتریوں کی راہ دیکھ رہا ہے

راولپنڈی کے گنجان آباد علاقے کرتار پورہ میں ایک شاندار عمارت ہے جس کی تعمیر کے لیے کبھی ہندوستان بھر سے معمار بلائے گئے تھے، آج خستہ حالی کا نمونہ ہے۔

کلیان داس مندر کبھی امرناتھ یاترا کے لیے جانے والے ہندو یاتریوں کا اہم پڑاؤ ہوا کرتا تھا (سجاد اظہر)

مری روڈ سے ایک سڑک کوہاٹی بازار میں داخل ہوتی ہے جو آگے جا کر بنی چوک سے جا ملتی ہے۔ یہیں کرتار پورہ محلے میں ایک وسیع و عریض حویلی ’سوری مینشن‘ واقع ہے، جہاں کبھی ایک بڑا کاروباری کھتری خاندان رہائش پذیر تھا۔

سوری خاندان یہیں کا مقامی تھا یا کہیں باہر سے ہجرت کر کے آیا تھا، اس بارے میں تو مستند معلومات نہیں ملتیں، لیکن اسی خاندان کے ایک فرد کلیان داس سوری تھے، جنہوں نے کوہاٹی بازار میں 1850 میں ایک نہایت شاندار مندر کی بنیاد رکھی، جو اگلے 30 سالوں میں جا کر مکمل ہوا۔

یہ اپنی طرز کا واحد ہندو مندر ہے جس کے پانچ مینار ہیں، جو ہندو دھرم کے مرکزی دیوی دیوتاؤں اور ان کے عقائد کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہاں گویا ہندوؤں کے تمام فرقوں کو اپنائیت ملتی ہے۔ کلیان داس مندر کی خاصیت کیا ہے؟ اسے بنانے والے کون تھے، اور آج ان کی اولادیں کہاں اور کس حال میں ہیں؟ یہی ہمارا آج کا موضوع ہے۔

کلیان داس مندر اور امرناتھ یاترا کا تعلق

سفید سنگِ مرمر اور دیار کی لکڑی اس مندر کو صرف ایک شاندار کمپلیکس کی شکل ہی نہیں دیتی، بلکہ اسے وہ پائیداری بھی عطا کرتی ہے جو کم و بیش ڈیڑھ صدی گزرنے کے باوجود آج بھی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ قائم ہے۔ اس کی تعمیر کے لیے ہندوستان بھر سے بہترین معمار بلوائے گئے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ سات ایکڑ پر محیط یہ مندر جب مکمل ہوا تو اس کے احاطے میں 100 کمرے بھی تھے جو ایک بڑے تالاب کی جانب کھلتے تھے۔

یوں تو یہاں سارا سال پوجا کرنے والوں کی چہل پہل رہتی، لیکن ہر سال جولائی کے پہلے ہفتے میں رونقیں عروج پر ہوتیں، کیوں کہ امر ناتھ یاترا کے لیے کشمیر جانے والے تمام ہندو یاتری یہاں ایک رات بسر کر کے آگے کا سفر طے کرتے تھے۔ روایت کے مطابق پہلگام کی اسی غار میں بھگوان شیو نے اپنی بیوی پاروتی کو موت و حیات کے اسرار و رموز سے آگاہ کیا تھا۔ نارنجی کپڑوں میں ملبوس یاتریوں کے قافلے جب کلیان داس مندر میں رکتے، تو شہر بھر کے لوگ ان کی خدمت پر مامور ہو جاتے۔ یہ مذہبی یاترا دو مہینوں پر محیط ہوتی تھی، اور بعض یاتری کلیان داس مندر سے امرناتھ کی غار تک ننگے پاؤں جایا کرتے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مندر کے تین احاطے تھے، جبکہ اس کے اندرونی کمرے تک رسائی صرف پروہتوں کو ہی حاصل تھی۔ آج یہاں کسی بھی عام شہری، یاتری یا صحافی کو رسائی حاصل نہیں، بلکہ اس کے لیے ضلعی انتظامیہ سے پیشگی اجازت نامہ حاصل کرنا پڑتا ہے۔

تقسیمِ ہند اور مندر کی ویرانی

تقسیمِ برصغیر نے یاتریوں کو دربدر کر دیا۔ ماتھا ٹیکنے والوں کو اتنا وقت بھی نہ مل سکا کہ وہ اپنے دیوی دیوتاؤں کو آخری پرنام کر سکتے۔ 1956 میں جب اس کا انتظام محکمہ اوقاف نے سنبھالا تو چند ایک بچے کھچے ہندو خاندان یہاں عبادت کے لیے آتے رہے، لیکن 1958 میں مندر کی عمارت قندیل ہائی سکول کے حوالے کر دی گئی، جسے بیگم فاروقی بصارت سے محروم افراد کے لیے چلاتی تھیں۔ 1974 میں جب پنجاب حکومت نے اس کا انتظام سنبھالا تو کچھ سالوں بعد 1980 میں مندر کے ارد گرد کے تاریخی کمرے گرا کر وہاں ہائی سکول کی نئی عمارت بنا دی گئی۔

1992 میں بابری مسجد کے سانحہ کے جواب میں جب مظاہرین نے ملک بھر میں مندروں کو نشانہ بنایا تو کلیان داس مندر بھی زد میں آیا، مگر سکول انتظامیہ کی بروقت اور جرات مندانہ مداخلت کی وجہ سے اسے گرانے سے بچا لیا گیا۔ آج سکول انتظامیہ کا ماننا ہے کہ مندر کی عمارت خستہ حالی کے باعث کسی بھی وقت گر سکتی ہے، اس لیے اسے مسمار کر دیا جائے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو راولپنڈی شہر اپنے ایک نہایت اہم ثقافتی اور تاریخی ورثے سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو جائے گا۔

تمام مسالک کے لیے مندر کیوں مقدس ہے؟

مندر کی دیواروں پر موجود دیوی دیوتاؤں کی تصاویر دہائیوں سے موسموں کے تغیر و تبدل کے نشانے پر ہیں، مگر اس کے باوجود کافی بہتر حالت میں ہیں۔ ایک پینٹنگ میں دیوتا وشنو کثیر سروں والے ناگوں کے اوپر آرام فرما ہیں۔ سانپ کو دنیا کی تخلیق کے ایک لازمی جزو کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو وشنو کی حمد و ثنا بھی کرتا ہے۔ ایک اور پینٹنگ میں وشنو اپنی بیوی لکشمی کے ساتھ سونے کا تاج پہنے ہوئے ہیں اور ان کے ساتھ کنول کا پھول نمایاں ہے۔

اسی طرح ایک اور تصویر میں گنیش کو پیش کیا گیا ہے جس کا سر ہاتھی کا ہے۔ یہ دیوتا جین مت میں بھی مقدس مانا جاتا ہے اور اسے علوم و فنون کا سرپرست تصور کیا جاتا ہے۔ ایک پینٹنگ میں گنیش ایک ہاتھ میں کلہاڑی، دوسرے میں چکر، تیسرے میں جھنڈا اور چوتھے ہاتھ میں پیالہ اٹھائے ہوئے ہیں، جبکہ ان کے سر کے اوپر ایک چھتری ہے جو ہندو اور سکھ روایات میں طاقت اور الوہیت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ گنیش کے تاج میں ایک سانپ بھی لپٹا ہوا ہے۔ اگر ان بچی کھچی پینٹنگز کو بروقت محفوظ نہ بنایا گیا تو یہ بھی عنقریب معدوم ہو جائیں گی۔

پاکستان میں ہندو آثار کے ماہر ہارون سرب دیال نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ کلیان داس مندر پاکستان میں سب سے اچھی حالت میں موجود مندروں میں سے ایک ہے، جس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ یہ ایک عرصے تک بینائی والوں کی دسترس سے دور (نابینا افراد کے سکول میں) رہا۔ مگر جس طرح باقی ہندو تہذیبی ورثہ انہدام کا شکار ہے، یہ مندر بھی اسی تباہی کے عمل سے گزر رہا ہے۔

ان کے مطابق، کلیان داس مندر کا ہندو آرٹ ہمہ گیر ہے جس میں سناتن دھرم کی دس دیشاؤں (سمتوں) کی عکاسی کی گئی ہے۔ اس میں ترمورتی، بھگوان شیو شنکر، بھولے ناتھ، لکشمی نارائن جی، برہما جی، شری رام جی اور شری کرشن کے علاوہ تمام اوتاروں کی تصاویر بھی موجود ہیں جو تمام مسالک اور فرقوں کی یکساں نمائندگی کرتی ہیں۔ راولپنڈی شہر شکتی ماتا سے جڑا ہوا ہے اور ہندو دھرم کے لیے بہت مقدس ہے۔ یہاں پر رام، کرشنا، شیو، نارائن اور ماتا رانی کے مندر موجود ہیں، لیکن کلیان داس مندر دراصل ہندو دھرم کے ایک عجائب خانے کی حیثیت رکھتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کلس کو دیکھ کر لگتا ہے کہ اسے کلیان داس کی پتنی، پتا یا ماتا جی کی جانب سے چڑھایا گیا ہوگا۔ کنول کے پھول کی موجودگی اسے پشکلاوتی طرزِ تعمیر سے جوڑتی ہے۔ کلیان داس چونکہ کشمیر، ایران اور افغانستان سے قیمتی لکڑی کی تجارت کرتے تھے، اس لیے انہوں نے یہاں وہ معیاری لکڑی استعمال کی جس کی نفاست آج بھی قائم ہے۔ جتنی عقیدت اور وسعت سے اسے تعمیر کیا گیا ہے، اس سے قرین قیاس ہے کہ یہاں اس سے قبل بھی کوئی قدیم استھان موجود رہا ہوگا۔

کلیان داس سوری کون تھے؟

راولپنڈی شہر کی تاریخ میں جو اہمیت سوجان سنگھ کے خاندان کو دی جاتی ہے، وہ کسی دوسرے کے حصے میں نہیں آ سکی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ سوجان سنگھ کی فیاضی اور تمام طبقات کے لیے ان کی قبولیت تھی۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ شہر میں امارت کے لحاظ سے ان کے ہم پلہ خاندان موجود نہیں تھے۔ کلیان داس کی مثال لے لیں، جو کھتری کمیونٹی کی ایک نہایت بڑی کاروباری شخصیت تھے۔ درحقیقت پنڈی کے مہاجر خاندانوں میں سوری خاندان کو انڈیا جا کر جو مقام و مرتبہ ملا، وہ کسی دوسرے خاندان کے حصے میں نہیں آ سکا۔

اس حوالے سے میرا رابطہ منموہن سوری سے ہوا جو کلیان داس کی نسل سے ہیں اور آج کل ملبورن، آسٹریلیا میں رہائش پذیر ہیں۔ انہوں نے بتایا: ’میرے والد ہرگوبند سوری (جنہیں دُگل جی کہا جاتا تھا) کے ذریعے ہم تک جو معلومات پہنچی ہیں، ان کے مطابق دو سو سال پہلے راولپنڈی میں لالہ جی رام شاہ سوری ہمارے خاندان کے سربراہ تھے۔ ان کے تین بیٹے تھے، جن میں سب سے بڑے بدھ راج سوری، ان سے چھوٹے رام چند سوری اور سب سے چھوٹے کلیان داس سوری تھے، جو رشتے میں میرے لکڑ دادا لگتے ہیں۔‘

ان کے مطابق، کلیان داس سوری کے کاروبار کی وسعت پنجاب سے سندھ تک پھیلی ہوئی تھی اور مختلف اضلاع میں ان کی زرعی زمینیں بھی تھیں۔ منموہن سوری مزید بتاتے ہیں: ’کرتار پورہ، راولپنڈی میں ہماری بہت بڑی حویلی تھی جس میں سرونٹ کوارٹرز اور موٹر گیراج بھی موجود تھے۔ حویلی کا مرکزی دروازہ سرکلر روڈ کی جانب کھلتا تھا۔ اس کے علاوہ ہماری دوسری حویلیاں بھی تھیں جن میں نانی والی حویلی اور سوری گلی میں کلیان نواس حویلی شامل تھیں۔ میرے والد، جن کا انتقال 1995 میں ہوا، بتایا کرتے تھے کہ گرمیوں میں ہمارا پورا خاندان مری منتقل ہو جاتا تھا جہاں سوری خاندان کے بڑے بڑے گھر تھے۔ ان میں کوٹھی رچ ولا، کوٹھی کلیان کاٹیج، رچ ولا کاٹیج اور بے ہائیو کاٹیج شامل تھے۔ مری میں بس اڈے کے ساتھ ہمارا چیمبر ہوٹل بھی تھا۔‘

تقسیم کے بعد سوری خاندان ڈیرہ دون، دہلی اور انڈیا کے پنجاب میں منتقل ہو گیا۔ منموہن کی والدہ کا تعلق لاہور کی ایک بااثر فیملی سے تھا۔ ان کے والد رائے بہادر لال گوپال وہرہ تقسیم کے وقت لندن منتقل ہو گئے تھے۔ منموہن نے بتایا کہ ان کے ایک چچا ساگر سوری نے دہلی میں آٹو موبائلز اور شراب کا بزنس شروع کیا تھا، اور آج ان کی اولاد انڈیا کے سب سے بڑے فائیو سٹار ہوٹلوں کی مالک ہے۔

سوری فیملی کے للت سوری، جن کی پیدائش کرتار پورہ محلے، راولپنڈی میں 1946 میں ہوئی، وہ انڈیا جا کر چوٹی کے کاروباری بنے اور انڈین پارلیمان کے ایوانِ بالا (راجیہ سبھا) کے ممبر بھی منتخب ہوئے۔ وہ ’انڈیا ہوٹلز‘ کے چیئرمین بھی تھے جسے اب ’للت ہوٹلز‘ کہا جاتا ہے اور جو انڈیا کی سب سے بڑی فائیو سٹار ہوٹلوں کی چین ہے۔ اپنے انتقال سے ایک سال قبل وہ پاکستان آئے تو راولپنڈی میں اپنی حویلی کے علاوہ کلیان داس مندر بھی گئے۔ اس دورے میں انہوں نے لاہور میں ایک گرینڈ ہوٹل بنانے کا اعلان بھی کیا تھا لیکن زندگی نے انہیں مہلت نہیں دی اور 2006 میں لندن میں دل کے دورے کے باعث وہ چل بسے۔

راولپنڈی کے بزرگ شہری بابو اشفاق نے بتایا کہ للت سوری کے بڑے بھائی گنگا ساگر سوری کی شادی انڈیا میں دیو راج آنند کی بیٹی سے ہوئی تھی، جو راولپنڈی میونسپل کمیٹی کے صدر بھی رہے تھے۔ بابو اشفاق نے 1982 میں انڈیا یاترا کے دوران گنگا ساگر سوری سے ملاقات بھی کی تھی۔ راجہ بشارت کے بھانجے، ساجد مہدی راجہ نے بتایا کہ وہ دہلی میں واقع ’سوری اپارٹمنٹس‘ میں جنرل شاہ نواز کی بیگم سے ملنے گئے تھے، جو جنرل صاحب کی وفات کے بعد وہاں رہائش پذیر تھیں۔ سوری فیملی کے جنرل شاہ نواز سے انتہائی قریبی تعلقات تھے۔

کلیان داس مندر کی گھنٹیاں آج خاموش ہیں، مگر یہ مندر اپنے بنانے والوں اور یاتریوں کی یادوں سے ابھی محو نہیں ہوا۔ اگر پنجاب حکومت کی ایک نظرِ التفات اس پر پڑ جائے تو یہ ثقافتی ورثہ نہ صرف پھر سے زندہ ہو جائے گا بلکہ ممکنہ طور پر دونوں ملکوں کے عوام کو قریب لانے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ