امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کے 14نکات کیا ہیں؟

اس مفاہمت میں جنگ کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ امریکہ کی جانب سے بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور اردگرد کے علاقوں سے اپنی افواج واپس بلانے کی شقیں بھی شامل ہیں۔

11 اپریل 2026 کو وزیر اعظم شہباز شریف امریکہ-ایران امن مذاکرات سے قبل ملاقات کے دوران ایرانی وفد کا استقبال کر رہے ہیں (وزیر اعظم آفس)

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط جعمے کو متوقع ہیں، جس کے نتیجے میں ایک نئے 60 روزہ مذاکراتی عمل کا آغاز ہوگا۔

خبررساں ادارے بلوم برگ کے مطابق ان مذاکرات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان جاری جنگ کا مستقل خاتمہ اور ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل کا حتمی فیصلہ کرنا ہوگا۔

اس مفاہمت میں جنگ کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ امریکہ کی جانب سے بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور اردگرد کے علاقوں سے اپنی افواج واپس بلانے کی شقیں بھی شامل ہیں۔

معاہدے میں یہ وعدہ بھی کیا گیا ہے کہ امریکہ ایران پر عائد پابندیوں کا خاتمہ کرے گا، اس کی اقتصادی ترقی کے لیے مالی وسائل فراہم کرے گا اور ایرانی معیشت کی بحالی کے لیے ایک جامع منصوبہ تشکیل دے گا۔

14 نکاتی مسودے کا مکمل اردو ترجمہ پیش ہے:

1۔ اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ، موجودہ جنگ میں شامل اپنے اتحادیوں کے ساتھ، اس مفاہمت کی یادداشتِ پر دستخط کے ساتھ ہی تمام محاذوں بشمول لبنان میں جنگ کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کرتے ہیں۔ فریقین اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ آئندہ ایک دوسرے کے خلاف کوئی جارحانہ کارروائی نہیں کریں گے اور نہ ہی ایک دوسرے کے خلاف طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی کا سہارا لیں گے۔ حتمی معاہدہ اس شق اور دیگر تمام شقوں کی توثیق کرے گا۔

2۔ ایران اور امریکہ ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنے اور ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں مداخلت سے گریز کرنے کا عہد کرتے ہیں۔

3۔ ایران اور امریکہ اس بات پر متفق ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ 60 دن کے اندر مذاکرات مکمل کرکے ایک حتمی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کریں گے۔ یہ مدت باہمی رضامندی سے بڑھائی جا سکتی ہے۔

4۔ اس یادداشت پر دستخط ہوتے ہی امریکہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی ختم کرے گا اور ایران کی نقل و حرکت میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا مداخلت کو روکے گا۔ 30 دن کے اندر بحری آمدورفت کو مکمل طور پر بحال کیا جائے گا۔ ایران سے متعلق جہاز رانی کی سرگرمیاں جنگ سے پہلے کی سطح کے مطابق بحال ہوں گی۔

امریکہ اس بات کا بھی پابند ہوگا کہ حتمی معاہدے کے بعد 30 دن کے اندر اردگرد کے علاقوں سے اپنی افواج واپس بلا لے۔

5۔ اس مفاہمت پر دستخط کے بعد ایران فوری اقدامات کرے گا تاکہ خلیج عرب سے بحیرہ عمان اور بحیرہ عمان سے خلیج عرب تک تجارتی جہازوں کی آمدورفت 30 دن کے اندر جنگ سے پہلے والی سطح پر بحال ہو سکے۔ اس عمل میں تکنیکی رکاوٹوں کے خاتمے اور ایران کی جانب سے بارودی سرنگوں کی صفائی کو مدنظر رکھا جائے گا۔

6۔ امریکہ اپنے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایک جامع منصوبہ تشکیل دے گا جس پر فریقین متفق ہوں گے اور جس کا مقصد ایران کی اقتصادی بحالی اور ترقی ہوگا۔ اس منصوبے کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کی مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔

اس منصوبے پر عمل درآمد کا طریقۂ کار حتمی معاہدے کے تحت 60 دن کے اندر تیار کیا جائے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

7۔ امریکہ اس بات کا عہد کرتا ہے کہ حتمی معاہدے کے تحت طے شدہ شیڈول کے مطابق ایران پر عائد تمام قسم کی پابندیوں کا خاتمہ کیا جائے گا۔ ان پابندیوں میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے بورڈ آف گورنرز کے اقدامات اور امریکہ کی تمام یکطرفہ بنیادی اور ثانوی پابندیاں شامل ہوں گی۔

8۔ ایران ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا۔

ایران اور امریکہ اس بات پر متفق ہیں کہ افزودہ جوہری مواد  کے مستقبل اور دیگر تمام جوہری معاملات، بشمول ایران کی جوہری ضروریات، کو حتمی معاہدے میں مناسب انداز سے حل کیا جائے گا۔ حتمی معاہدہ اس شق کی بھی توثیق کرے گا۔

9۔ ایران اور امریکہ اس بات پر متفق ہیں کہ حتمی معاہدے تک موجودہ صورت حال برقرار رکھی جائے گی۔

اس دوران:

 ایران اپنے جوہری پروگرام کی موجودہ حیثیت برقرار رکھے گا۔

امریکہ ایران پر نئی پابندیاں عائد نہیں کرے گا۔

امریکہ خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ نہیں کرے گا۔

 

10۔ امریکہ اس بات کا عہد کرتا ہے کہ اس مفاہمت پر دستخط کے فوراً بعد اور پابندیوں کے خاتمے تک امریکی محکمہ خزانہ ایران کے خام تیل، پیٹروکیمیکل مصنوعات اور ان سے متعلقہ مصنوعات کی برآمدات کے لیے خصوصی اجازت نامے  جاری کرے گا۔

ان اجازت ناموں میں بینکاری، انشورنس، نقل و حمل اور دیگر متعلقہ خدمات بھی شامل ہوں گی۔

11۔ امریکہ اس بات کا عہد کرتا ہے کہ جیسے جیسے حتمی معاہدے کی جانب مذاکرات میں پیش رفت ہوگی، ایران کے منجمد یا محدود مالی اثاثے اور فنڈز جاری کیے جائیں گے اور ایران کو ان تک مکمل رسائی حاصل ہوگی۔

یہ فنڈز، خواہ مرکزی اکاؤنٹس میں موجود ہوں یا منتقل کیے جا چکے ہوں، ایران کے مرکزی بینک کی ہدایات کے مطابق استعمال کیے جا سکیں گے۔

امریکہ اس مقصد کے لیے تمام ضروری اجازت نامے اور لائسنس جاری کرے گا۔

12۔ ایران اور امریکہ اس بات پر متفق ہیں کہ حتمی معاہدے کے کامیاب نفاذ اور مستقبل میں اس کی پاسداری کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی طریقۂ کار قائم کیا جائے گا۔

13۔ اس مفاہمت پر دستخط کے بعد اور شق 4، 5، 10 اور 11 پر عمل درآمد شروع ہونے کی ضمانت ملنے اور ان اقدامات کے تسلسل کی یقین دہانی کے بعد، ایران اور امریکہ باقی ماندہ شقوں کے بارے میں حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات شروع کریں گے۔

14۔ حتمی معاہدے کی منظوری اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک پابند قرارداد کے ذریعے دی جائے گی، جس کے بعد یہ بین الاقوامی قانونی حیثیت حاصل کر لے گا۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی