ایران اور امریکہ کے درمیان مجوزہ ’مفاہمت کی یادداشت‘ یا ’فریم ورک معاہدے‘ میں متعدد اہم وعدے شامل ہیں، جو مستقبل میں بڑی جغرافیائی و سیاسی تبدیلیوں کی بنیاد بن سکتے ہیں، تاہم یہ معاہدہ تمام مسائل، خصوصاً ایران کے جوہری پروگرام کا احاطہ نہیں کرے گا۔
لیک ہونے والی معلومات کے مطابق معاہدے کی شقوں میں ایک اہم شق باہمی علاقائی عدم جارحیت کے معاہدے سے متعلق ہے۔ اس کے تحت خطے کو دو کیمپوں میں تقسیم کیا جائے گا اور ہر کیمپ کے ممالک دوسرے کیمپ کے ممالک پر حملہ نہ کرنے کے پابند ہوں گے۔ اگر یہ درست ہے تو اسے مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ میں ایک غیرمعمولی علاقائی امن منصوبہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
یہ مفروضاتی شق نہایت اہم ہے، اگرچہ ابھی تک اس کی تصدیق نہیں ہو سکی اور ممکن ہے کہ حتمی معاہدے میں اس کی شکل مختلف ہو۔ اس کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ خطے میں جنگ اور امن دونوں کے روایتی تصورات کو بدل سکتی ہے۔
اس شق کے مطابق ایران اور اس کے اتحادی امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر حملہ نہیں کریں گے، جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادی بھی ایران اور اس کے اتحادیوں پر حملہ نہیں کریں گے۔ تاہم یہ ایک مبہم شق ہے جس کے لیے مزید تجزیے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ ’اتحادی‘ کون ہیں؟
لبنان کی حزب اللہ اور یمن کی حوثی تحریک کو ایران کے اتحادی تصور کیا جاتا ہے، جبکہ عراق اور ایران نواز عراقی ملیشیاؤں کی حیثیت ابھی واضح نہیں۔ دوسری جانب فلسطینی تنظیم حماس اس کا حصہ نہیں سمجھی جا رہی۔ امریکہ کے اتحادیوں میں اسرائیل، خلیجی ریاستیں اور اردن شامل ہیں۔
اس تناظر میں پہلا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اگر ایران ایسے کسی معاہدے پر دستخط کرتا ہے، خواہ وہ فریم ورک معاہدہ ہو یا حتمی سمجھوتہ، تو عملاً یہ اسرائیل کے ساتھ گذشتہ 40 برس سے جاری محاذ آرائی کے خاتمے کے مترادف ہوگا اور یہ واحد حیران کن پہلو نہیں۔
دوسرا نتیجہ یہ ہے کہ یہ مفروضاتی شق حزب اللہ کو ایک تسلیم شدہ اور محفوظ فریق بنا سکتی ہے، جس سے لبنانی ریاست کی جانب سے اس کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی غیرمعمولی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔ یہی صورت حال حوثیوں کے حوالے سے بھی پیدا ہوگی، جنہیں یمن کی قانونی حکومت اور دیگر یمنی قوتیں صنعا سے بے دخل کرنے اور ان کا خاتمہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات کاروں کی توجہ اس وسیع جنگ کو دوبارہ بھڑکنے سے روکنے پر مرکوز تھی جو فروری میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان لڑائی شروع ہونے کے بعد خطے میں پھیل گئی تھی۔ یہ جنگ ابتدا میں تین فریقوں تک محدود تھی، لیکن بعد ازاں ایک وسیع علاقائی تنازع میں تبدیل ہوگئی۔
جنگ کا آغاز امریکہ اور اسرائیل کے حملے سے ہوا، جس کے جواب میں ایران نے جوابی کارروائی کی اور کویت، بحرین، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عمان اور اردن پر حملے کیے۔ اس کے بعد سعودی اور اماراتی افواج نے ایران کے خلاف جوابی کارروائیاں کیں۔
ایران نواز عراقی گروہوں نے خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا، حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جبکہ بعد میں حوثیوں نے اسرائیل اور بحری جہاز رانی کے خلاف ڈرون حملوں کے ذریعے اس تنازع میں شمولیت اختیار کی۔
ممکن ہے امریکی مذاکرات کاروں کا مقصد محض کشیدگی کم کرنا اور وقت حاصل کرنا ہو، اس امید کے ساتھ کہ مستقبل میں ایران تبدیل ہو جائے گا۔ ایسی صورت میں یہ مجوزہ معاہدہ صرف آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ متعدد تنازعات کے حل اور ایک وسیع تر امن کی راہ ہموار کرے گا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تاہم یہ سوال برقرار ہے کہ کیا واقعی امریکی اور ایرانی مذاکرات کار اتنی وسیع اور مبہم نوعیت کی ذمہ داریوں پر متفق ہونا چاہتے تھے؟
مجھے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک بیان یاد آتا ہے، جو ان کے مسلسل تبصروں کے درمیان زیادہ توجہ حاصل نہ کر سکا۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ معاہدہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں امن کا باعث بنے گا۔ اس وقت بہت کم لوگوں نے اس بیان کو سنجیدگی سے لیا، کیونکہ ایران کے ساتھ محدود تنازع کا حل بھی ابھی سامنے نہیں آیا تھا، حتیٰ کہ آبنائے ہرمز کی بحالی بھی نہیں ہوئی تھی۔ ایسے میں پورے خطے میں امن کی بات کرنا غیر حقیقی محسوس ہوتا تھا۔
ابھی تک سامنے آنے والی معلومات سے یہ واضح نہیں کہ مذاکرات کار عارضی امن چاہتے ہیں یا ایک بڑے علاقائی منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔ البتہ معلوم ہے کہ معاہدے کی تفصیلات طے کرنے کے لیے 60 روزہ مذاکرات ہوں گے، جو ممکنہ طور پر مزید بڑھ بھی سکتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یادداشتِ مفاہمت اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے اور اس معاہدے سے وابستہ فریقین کی تعداد تقریباً 13 تک پہنچ جاتی ہے، جن میں ریاستیں اور تنظیمیں دونوں شامل ہیں۔
ثالثی اور معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے بھی درجنوں سوالات اور ممکنہ منظرنامے سامنے آتے ہیں۔
مثال کے طور پر، کیا ایران کو حزب اللہ کو ہتھیار فراہم کرنے سے روکا جا سکے گا؟ اور اگر اسرائیل حزب اللہ کی طاقت بڑھنے سے روکنے کے لیے اس پر حملہ کرے تو کیا اسے معاہدے کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا؟
اگر حوثی اپنی موجودہ حدود سے باہر یمنی علاقوں پر قبضے کے لیے حملہ کریں تو کیا وہ جارحیت کے مرتکب نہیں ہوں گے؟ اور کیا اس سے باقی یمن اور پڑوسی سعودی عرب کے لیے خطرہ پیدا نہیں ہوگا؟
اسی طرح اگر حوثی کسی ایسے تجارتی جہاز پر حملہ کریں جو معاہدے میں شامل 13 فریقوں میں سے کسی کا نہ ہو، مثلاً پاناما کے پرچم بردار جہاز پر، تو ایسی صورت حال سے کیسے نمٹا جائے گا؟
مزید تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ یہ غیر مصدقہ شق، تنازع ختم کرنے کے نام پر، مسلح ملیشیاؤں کو قانونی حیثیت فراہم کر سکتی ہے۔ حزب اللہ ایک ایسی مسلح قوت ہے جو لبنانی ریاست کے اختیار سے باہر کام کرتی ہے اور جسے لبنانی، عرب اور مغربی حلقوں کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے۔
ایسی صورت میں یہ معاہدہ حزب اللہ کو ایک جائز علاقائی کردار کے طور پر امریکی سطح پر بالواسطہ تسلیم کرنے کے مترادف ہوگا، جس کے بعد اسے غیرقانونی قرار دینے یا اس کے ہتھیار ختم کروانے کی کوششیں کہیں زیادہ مشکل ہو جائیں گی۔
اس سے لبنان اور یمن میں ’ریاست کے اندر ریاست‘ کے رجحان کو مزید تقویت مل سکتی ہے، جبکہ اگر عراق بھی معاہدے کا حصہ بنا تو وہاں بھی اسی نوعیت کے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔
مجھے واشنگٹن کی اس صلاحیت پر بھی شدید شبہ ہے کہ وہ اسرائیل کو روک سکے گا۔ اسرائیل غالباً لبنان میں حزب اللہ اور خطے میں ایرانی اثر و رسوخ کے خلاف اپنی کارروائیاں ’پیشگی دفاع‘ کے نام پر جاری رکھے گا۔ ایسا معلوم نہیں ہوتا کہ کوئی امریکی ضامن اسرائیل کو مؤثر طور پر روک سکے گا۔
لیک ہونے والے معاہدے میں 1975 کے ہیلسنکی معاہدے کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے، جو شاید اس کا قریب ترین تاریخی تقابل ہے۔ اس معاہدے کا مقصد مغربی اور سوویت بلاکس کے درمیان تصادم کو روکنا تھا۔ عملی طور پر مغرب نے مشرقی یورپ کو سوویت اثر و رسوخ کے دائرے میں تسلیم کر لیا تھا۔
موجودہ معاہدے میں بھی ایران کے حلیف گروہوں کو جغرافیائی اور سیاسی طور پر ایک حد تک تسلیم کیے جانے کا پہلو نظر آتا ہے۔
ممکن ہے امریکی مذاکرات کاروں کا اصل مقصد وقتی سکون پیدا کرنا اور وقت خریدنا ہو، اس امید کے ساتھ کہ ایران وقت کے ساتھ تبدیل ہو جائے گا۔ اگر ایسا ہوا تو یہ معاہدہ صرف آبنائے ہرمز کھلوانے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ خطے کے متعدد تنازعات کے حل کی بنیاد بن سکتا ہے۔
تاہم مجھے یقین نہیں کہ ایسی تبدیلی جلد وقوع پذیر ہوگی، کیونکہ ایران کا سیاسی نظام انتہائی مضبوط اور گہرے طور پر جڑا ہوا ہے اور حقیقی تبدیلی کے آثار ظاہر ہونے میں وقت لگے گا۔
عبدالرحمن الراشد سعودی صحافی اور دانشور ہیں۔ یہ تحریر اس سے قبل الشرق الاوسط میں شائع ہوئی تھی۔
