براڈ پیک پر 10 کوہ پیما لاپتہ: ٹیم لیڈر نرمل پُرجا کی ٹریکنگ ڈیوائس کیا دکھاتی ہے؟

گلگت بلتستان پولیس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ لاپتہ کوہ پیماؤں کے ریسکیو آپریشن کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کام کیا جا رہا ہے۔

گلگت بلتستان پولیس کے مطابق پاکستان اور چین کے درمیان قراقرم پہاڑوں پر 16 ہزار فٹ سے بلند دنیا کی 12ویں بڑی چوٹی براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے کے بعد غیر ملکیوں سمیت 10 لاپتہ کوہ پیماؤں کی ٹیم کے ساتھ گذشتہ دن سے رابطہ منقطع ہے۔

ٹیم کی سربراہی نیپال سے تعلق رکھنے والے معروف کوہ پیما نرمل پرجا کر رہے ہیں جنہوں نے 21 جولائی کو بھی پاکستان میں دنیا کی 13ویں بڑی چوٹی گیشربرم ٹو کو ٹیم سمیت سر کیا تھا۔

پاکستان میں کوہ پیماؤں کو سہولت فراہم کرنے والی تنظیم الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق مہم میں پانچ نیپالی، ہنزہ سے تعلق رکھنے والے سہیل سخی، عمانی خاتون نصیرہ، امریکی میلوری گائس، وانگ نامی چینی سمیت ایک اور کوہ پیما شامل ہے۔

گلگت بلتستان پولیس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ لاپتہ کوہ پیماؤں کے ریسکیو آپریشن کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کام کیا جا رہا ہے۔

نرمل پرجا کی ٹریکنگ ڈیوائس کیا دکھاتی ہے؟

دنیا میں جب بھی کوہ پیما اس طرح کی بڑی چوٹیوں پر جاتے ہیں تو ان کے پاس جی پی ایس ٹریکر موجود ہوتا ہے تاکہ ان کی لوکیشن کا پتہ لگایا جا سکے۔

نرمل پرجا کے پاس گارمن کمپنی کا جی پی ایس ٹریکر موجود ہے اور انڈپینڈنٹ اردو نے اسی ٹریکر کو ٹریک کیا جس سے پتہ لگا کہ ٹریکنگ ڈیوائس آج (31 جولائی کو) صبح پانچ بج کر 33 منٹ پر اپ ڈیٹ ہوئی ہے۔

ٹریکنگ ڈیوائس کے آن لائن نقشے میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نرمل پرجا 30 جولائی کی صبح آٹھ بج کر 53 منٹ پر براڈ پیک کی 6659 میٹر بلندی پر تھے۔

یہ وہی بلندی ہے جہاں گلگت بلتستان پولیس کے مطابق برفانی تودہ گرا اور اس کے بعد کوہ پیماؤں کے ساتھ رابطہ منقطع ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ٹریکر پر دیکھا جا سکتا ہے کہ اس کے بعد نرمل پرجا کی لوکیشن 30 جولائی کو ہی تقریباً 40 منٹ بعد نو بج کر 23 منٹ پر پانچ ہزار 935 میٹر پر ہے اور ٹریکر ڈیوائس کی بیٹری نارمل ہے۔

اسی طرح 30 جولائی کو اس کے 10 منٹ بعد ٹریکر پر لوکیشن پانچ ہزار 891 میٹر کی بلندی پر دکھائی گئی جبکہ اس دوران بھی ٹریکر کی بیٹری نارمل دکھائی گئی ہے۔

جمعے کی لوکیشن کا اگر جائزہ لیا جائے تو 31 جولائی کی رات ایک بج کر 33 منٹ پر لوکیشن پانچ ہزار 874 میٹر بلندی پر ہے اور ٹریکر کی بیٹری کمزور دکھائی گئی ہے جبکہ نرمل پرجا کے ٹریکر کی آخری لوکیشن آج صبح پانچ بج کر 33 منٹ پر پانچ ہزار 878 میٹر کی بلندی پر دکھائی گئی ہے۔

نرمل پرجا نیپال کے ایلیٹ ایکسپیڈ کے شریک بانی ہیں اور اسی کمپنی کے بانی، نرمل پرجا کے پارٹنر اور معروف کوہ پیما منگما ڈیوڈ شرپا نے فیس بک پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ آج صبح نرمل پرجا کا ٹریکر حرکت دکھا رہا ہے۔

منگما نے لکھا: ’ٹریکر کی حرکت سے لگتا ہے کہ نرمل زندہ ہے، ہوش میں ہے اور ریسکیو آپریشن کے لیے انتظار کر رہا ہے۔‘

نرمل پرجا کون ہیں؟

نیپال میں پیدا ہونے والے نرمل پرجا نے برطانیہ کی فوج میں 16 سال گزارنے کے بعد کوہ پیمائی میں قدم رکھا اور دنیا میں اس شعبے میں ایک نام کمایا ہے۔

ایلیٹ ایکسپیڈ پر شائع نرمل پرجا کی پروفائل کے مطابق وہ کم عمر ترین کوہ پیما ہیں جنہوں نے دنیا میں آٹھ ہزار سے بلند 14 چوٹیوں کو سر کیا ہے۔

نرمل کے پاس یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہوں نے سردیوں میں دنیا کی دوسری بڑی چوٹی کے ٹو کو بغیر آکسیجن کے سر کیا جبکہ انہوں نے دنیا کی 14 بڑی چوٹیوں کو چھ ماہ سے کم عرصے میں بغیر آکسیجن کے سر کیا اور اس اعزاز پر نیٹ فلیکس نے ایک ڈاکیومینٹری بھی بنائی ہے۔

براڈ پیک کے اس حالیہ مہم پر جانے سے پہلے انہوں نے فیس بک پر لکھا تھا کہ براڈ پیک ان کے پلان میں شامل نہیں تھا لیکن اسی سوچ پر کہ بغیر آکسیجن کے دوسری بار 14 بڑی چوٹیوں کو سر کرنے کا اعزاز حاصل کر سکوں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان