ماؤنٹ ایورسٹ پر ایک ہفتہ قبل لاپتہ ہونے والے نیپالی شرپا زندہ مل گئے ہیں جو خوراک اور آکسیجن کے بغیر اکیلے رینگتے ہوئے تقریباً مکمل طور پر بیس کیمپ تک واپس پہنچ گئے۔
52 سالہ ہلیری ڈاوا شرپا جمعرات کی صبح اس وقت زندہ پائے گئے جب وہ دنیا کی بلند ترین چوٹی کے بالائی حصے سے لاپتہ ہو گئے تھے۔ یہ واقعہ 2026 کے کوہ پیمائی سیزن کے آخری گھنٹوں میں پیش آیا۔
ہلیری ڈاوا ایک پولش کوہ پیما کے ساتھ واپس آ رہے تھے جب وہ 8,849 میٹر بلند چوٹی سر کرنے میں ناکام رہے۔ وہ کیمپ تھری اور کیمپفور کے درمیان لاپتہ ہو گئے۔
کیمپ فور تقریباً 8,000 میٹر کی بلندی پر واقع ہے، جسے ’ڈیتھ زون‘ کہا جاتا ہے کیوں کہ وہاں آکسیجن کی سطح انسانی زندگی کے لیے بہت کم ہوتی ہے۔
ریسکیو کارروائی کی نگرانی کرنے والے پمبا شرپا نے اے ایف پی کو بتایا کہ تجربہ کار کوہ پیما ہلیری ڈاوا کو ریسکیو ٹیم نے بیس کیمپ کے قریب رینگتے ہوئے نیچے آتے ہوئے پایا۔ ان کے جسم پر کچھ حد تک فروسٹ بائٹ (سردی سے ہونے والا نقصان) تھا، تاہم مجموعی طور پر ان کی حالت بہتر تھی
ہلیری ڈاوا کی اہلیہ نے کہا کہ خاندان ان کی واپسی پر بہت خوش ہے کیوں کہ انہوں نے پہلے ہی ان کے لیے آخری رسومات شروع کر دی تھیں۔
کوہ پیمائی کی جیکٹ پہنے ہلیری ڈاوا کو ہیلی پیڈ سے ہسپتال تک ٹرالی پر منتقل کیا گیا۔ ان کے خاندان کے مطابق وہ خیریت سے ہیں اور ان کا ہسپتال میں فروسٹ بائٹ سمیت دیگر پیچیدگیوں کا علاج جاری ہے۔
ان کی بیٹی منڈو لہامو شرپا نے بتایا: ’انہوں نے مجھے پہچان لیا، وہ ٹھیک ہیں اور بات کر رہے ہیں ہم خوش ہیں۔‘
ان کے خاندان نے ’آؤٹ سائیڈ‘ ویب سائٹ کو بتایا کہ ڈاوا، جن کا نام مشہور کوہ پیما ایڈمنڈ ہلیری کے نام پر رکھا گیا تھا، کئی سالوں سے ایورسٹ پر شرپا کا کام اور گائیڈنگ کر رہے تھے۔ یہ سیزنل کام ان کی اہلیہ اور نوعمر بیٹی کے لیے آمدنی کا اہم ذریعہ تھا۔
ایک اور نیپالی کوہ پیما پاسنگ ڈاوا شرپا نے فیس بک پر ان کی تصاویر شیئر کیں جن میں وہ ابھی بھی کوہ پیمائی کا لباس پہنے ہوئے کھانا کھا رہے تھے اور آرام کر رہے تھے، جبکہ ان کے ہاتھوں پر فروسٹ بائٹ کے آثار تھے۔
دی ہمالین ٹائمز کے مطابق ڈاوا سات دن تک بغیر خوراک، بغیر آکسیجن سلنڈر اور بغیر کسی ریسکیو ٹیم کے رہے۔ وہ اس سیزن کے آخری کوہ پیماؤں میں شامل تھے، جو گذشتہ ماہ کے آخر میں ختم ہوا۔
ایس پی سی سی ریسکیو اہلکار درگا رائے نے کہا: ’ڈاوا نے آئس فال کے حصے میں گہری دراڑ (کریواس) کو بغیر سیڑھیوں کے کیسے عبور کیا، یہ بات خوفناک بھی ہے اور حیران کن بھی۔‘
سابق برطانوی رائل میرین کرس تھرل، جو اس سے قبل آخری شخص تھے جنہوں نے ڈاوا کو زندہ دیکھا تھا، نے کہا کہ وہ 29 مئی کو ان کے ساتھ کامیابی سے چوٹی تک پہنچے تھے۔
ڈاوا کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے، کرس تھرل نے انہیں ایک ’انتہائی نرم مزاج اور حقیقی پہاڑوں کا شیر‘ قرار دیا۔
انہوں نے بتایا کہ 30 مئی کو جب وہ کیمپ فور سے نیچے اترنے لگے تو ڈاوا نے ’آرام‘ کے لیے رکنے کو کہا اور انہیں آگے جانے پر اصرار کیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
واپسی کے دوران کرس تھرل کو ایک پولش کوہ پیما ملا جو فروسٹ بائٹ کا شکار تھا اور اس کی آکسیجن ختم ہو چکی تھی۔
پولش کوہ پیما اور ڈاوا کی طرف واپس جانے کے درمیان الجھن میں، کرس تھرل نے اپنا آکسیجن سلنڈر اس پولش کوہ پیما کے ساتھ شیئر کیا اور وہ 11 گھنٹے میں کیمپ تھری تک پہنچے جبکہ یہ سفر عام طور پر صرف دو گھنٹے کا ہوتا ہے۔
ریسکیو ٹیموں نے ڈاوا کی تلاش شروع کی لیکن وہ دوبارہ نظر نہ آئے، یہاں تک کہ آج صبح وہ زندہ حالت میں نیچے آتے ہوئے مل گئے۔
ان کے رشتہ دار کنگا شرپا نے بتایا کہ وہ ریسکیو آپریشن کے انتظام پر مایوس تھے اور کہا کہ کمپنی نے ان کی تلاش میں تاخیر کی۔
ان کے مطابق کمپنی کے ڈائریکٹر نے کہا تھا کہ انشورنس کمپنی ریسکیو اور بحالی کے عمل پر جواب نہیں دے رہی۔
اس سیزن میں ایک ہزار سے زائد کوہ پیماؤں اور گائیڈز نے ایورسٹ سر کیا جبکہ نیپالی حکومت نے 494 پرمٹ جاری کیے۔ اس دوران کم از کم پانچ افراد جان سے گئے، جن میں دو انڈین اور تین نیپالی کوہ پیما شامل تھے۔
اپریل میں برفانی تودہ گرنے کے باعث راستہ کھلنے میں تاخیر ہوئی، جس کی وجہ سے کئی کوہ پیما بیس کیمپ پر پھنس گئے تھے۔
© The Independent