انڈپینڈنٹ اردو میں ایک کالم لکھا تھا کہ جماعت اسلامی کو چاہیے مولانا فضل الرحمن کو اپنے نصاب میں شامل کر لے کیونکہ وہ مذہبی سیاست کے اکلوتے رہنما ہیں جو اشتعال اور ہیجان کی بجائے تحمل، تدبر اور شائستگی سے بات کرتے ہیں۔ جماعت اسلامی سمیت تمام مذہبی سیاست کو ان سے سیکھنا چاہیے۔
اتفاق دیکھے، صرف دو ماہ بعد ہی مولانا نے ایسا خطاب فرما دیا ہے کہ صبح سے جماعت اسلامی کے دوست پوچھ رہے ہیں کہ مولانا نے تو خود دوسری مذہبی جماعتوں کا نصاب پڑھنا شروع کر دیا ہے، اب ہمارے لیے کیا حکم ہے، اب بھی ںصاب میں مولانا کو شامل کیا جائے یا ہم اپنا نصاب ہی پڑھتے رہیں۔
بے تکلف دوستوں کے تین چار میسج اوپر تلے موصول ہوئے تو مجھے یاد آیا، ایسا ہی ایک مشورہ چند روز پہلے کالم میں میں نے جناب ایمل ولی خان صاحب کو بھی دیا تھا کہ ان کے لہجے میں تلخی بڑھتی جا رہی ہے اس لیے وہ گاہے بگاہے مولانا فضل الرحمن صاحب کے پاس جایا کریں تاکہ ان کے مزاج کی تندی کچھ کم ہو جائے۔
اب بیٹھا سوچ رہا ہوں کہ عوامی نیشنل پارٹی کے دوستوں کے میسج کب آتے ہیں کہ ہمیں مولانا سے مزید کچھ سیکھنا چاہئے یا اپنے لیے ہم خود ہی کافی ہیں نیز یہ کہ ہم ولی باغ میں ہی رکے رہیں یا عبدالخیل کی طرف روانہ ہو جائیں۔
سیاسی کارکنان اور پارٹی رہنما تو اپنے قوال کے ہمنوا ہوتے ہیں، جو تان اٹھا دی اسی میں شامل باجا ہو جاتے ہیں۔ اس لیے جے یو آئی کو باجماعت مولانا کی بات کا دفاع کرتے دیکھ کر کوئی حیرت نہیں ہوئی۔ سیاسی عصبیت اسی کا نام ہے۔
یہی بات اگر کسی اور نے کی ہوتی اور جواب میں مولانا نے اس سے اختلاف کیا ہوتا تو ساری جماعت اور سارے ہمنوا بھی اس بات سے اختلاف کر رہے ہوتے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ مولانا نے غلط بات کی ہے اور غلط اسلوب میں کی ہے۔ مولانا سے خیر خواہی یہ نہیں کہ ان کی ہر بات کا دفاع کیا جائے۔ خیر خواہی یہ ہے کہ جہاں تحسین بنتی ہو تحسین کی جائے اور جہاں نقد بنتا ہو تنقید کی جائے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مولانا کے ہاں اسلوب کا قحط ہے نہ لغت کا۔ وہ کلام کرتے ہیں تو الفاظ ان کی دسترس میں ہوتے ہیں۔ جو بات وہ کر رہے تھے وہ اپنے روایتی اسلوب کی شائستگی کے ساتھ بھی کی جا سکتی تھی۔ اس میں شہدائے وطن پر گرہ لگانا ضروری نہیں تھا۔
ہو سکتا ہے مولانا ان دنوں حکومت یا اسٹیبلشمنٹ سے بہت خفا ہوں لیکن یہ شہدا نہ حکومت کے ہیں نہ ہی اسٹیبلشمنٹ کے۔ یہ مملکت خداداد پاکستان کے ہیں۔ ان پر الفاظ کے نشتر چلانا، نہ کوئی دلاوری ہے نہ ہی درددمندی۔ اس کا نہ کوئی جواز ہے نہ کوئی توجیہ۔
سیاست میں ناراضی بھی ہو جاتی ہے اور پھر راضی نامہ بھی ہوجاتا ہے۔ جلال اور جمال کی یہ کہانیاں ہم نے دیکھ رکھی ہیں۔ آخر یہ ہی متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) نہیں تھی خلق خدا نے جس کے نام ملا ملٹری الائنس کی تہمت رکھی تھی۔ تب کیا تھا؟ اس جلال اور جمال کی کیفیتوں کے اپنے تقاضے ہوں گے لیکن سوال یہ ہے کہ تنخواہوں کے طعنے کیوں؟
اہل سیاست بھی ساون کا موسم ہوتے ہیں، کبھی ملا ملٹری الائنس بن جاتا ہے، کبھی جنرل قمر جاوید باجوہ سے گھر جا کر ملاقاتیں کی جاتی ہیں، وہاں گالیاں بھی کھا لی جاتی ہیں اور حکمت کا یہ عالم ہوتا ہے کہ گالی پر اظہار خفگی کے بیان کے لیے بھی مولانا غفور حیدری باجوہ صاحب کی ریٹائرمنٹ تک صبر فرماتے ہیں۔ ریٹائرمنٹ سے پہلے ایسا سکوت رہتا ہے کہ الامان۔
تو ساون کے موسم اپنا جل تھل ضرور دکھائیں، اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار پر پہلے بی بات ہوتی رہی ہے، اب بھی کر لیں لیکن شہدا پر طعبہ زنی مناسب نہیں تھی۔ یہ غیر ضروری تھی اور تکلیف دہ تھی۔ یہ بیان بتا رہا ہے کہ مولانا کا دل اس حوالے سے کتنا سخت ہے۔
کیا یہ دیوبند کی اس روایتی فکر کا اظہار تھا جو آج بھی پاکستان سے جڑی نسبتوں کو معاف کرنے کو تیار نہیں یا یہ جوش خطابت کا آزار ہے؟ ایک عام فوجی سپاہی کے بارے میں یہ اسلوب گفتگو بہت سی فکری گرہوں کی خبر دے رہا ہے۔ اس پر بات ہونی چاہیے۔ ریاست کا سپاہی اگر تنخواہ دار کے طعنے کا حق دار ہے تو کیا ’مرسنریز‘ کو گلوریفائی کیا جائے؟
اشتعال انگیز بیانیے یہاں بہت ہیں۔ شعلہ بیان مقررین کی بھی کوئی کمی نہیں۔ لیکن مولانا کی انفرادیت یہ تھی کہ انہیں زبان و بیان پر غیر معمولی گرفت تھی۔ وہ بات کو تولو اور پھر بولو کی عملی تفسیر تھے۔ کچھ عرصے سے مولانا کی یہ گرفت کمزور ہو رہی ہے۔ یہ نیک شگون نہیں ہے۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔