پاکستان کے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بدھ کو کہا کہ وفاقی حکومت نے پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کو بڑھتے سکیورٹی خطرات پر قابو پانے کے لیے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔
پاکستان نے اپنے سب سے بڑے چینی زیر انتظام تانبے اور سونے کی کان کے لیے اضافی سکیورٹی فراہم کرنے کا عہد کیا ہے۔
طلال چوہدری کا یہ اعلان چینی آپریٹر کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں کمپنی نے خبردار کیا کہ بڑھتی ہوئی عسکریت پسندانہ کارروائیاں اسے ایک ماہ کے اندر پیداوار روکنے پر مجبور کر سکتی ہیں۔
بلوچستان میں واقع سیندک کان کے پیچھے مشترکہ منصوبے سیندک میٹلز لمیٹڈ کی اس تنبیہ نے پاکستان کے معدنی وسائل سے مالا مال صوبے میں چینی سرمایہ کاری کو درپیش بڑھتے ہوئے سکیورٹی خطرات کو اجاگر کیا ہے، جہاں علیحدگی پسند حملوں میں شدت آ چکی ہے اور دیگر بڑے منصوبے بھی متاثر ہوئے ہیں۔
طلال چوہدری نے روئٹرز کو بتایا ’ہم نے صوبائی حکام اور تمام متعلقہ سکیورٹی اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ان کی تمام تنصیبات، عملے، رسد اور نقل و حمل کے لیے سکیورٹی میں اضافہ کریں۔‘
انہوں نے کہا وزارت داخلہ کو کان چلانے والی کمپنی کے خدشات جولائی کے اوائل میں موصول ہوئے تھے۔
ان کے مطابق ’پاکستان میں بین الاقوامی کمپنیوں کے زیر انتظام تمام منصوبوں کا تحفظ ہماری ترجیح ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا مقام تک رسد اور کارگو کی ترسیل کو اضافی سکیورٹی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔
بلوچستان میں، جو ایران اور افغانستان سے متصل ہے، کئی بڑے چینی منصوبے جاری ہیں۔ ان میں گوادر کی گہرے پانی کی بندرگاہ بھی شامل ہے۔
فنانشل ٹائمز نے بدھ کو رپورٹ کیا تھا کہ سیندک کے مینیجنگ ڈائریکٹر نے پاکستان کی وزارت توانائی کو خبردار کیا ہے کہ بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورت حال سپلائی راستوں میں خلل ڈال رہی ہے، جس کے باعث ایک ماہ کے اندر کان کی سرگرمیاں برقرار رکھنا ممکن نہ رہے گا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سیندک کان کو چین کی سرکاری ملکیت والی میٹالرجیکل کارپوریشن آف چائنا چلاتی ہے، جو 2022 میں توسیع شدہ لیز کے تحت کام کر رہی ہے اور اپنی پیداوار کا زیادہ تر حصہ چین کو برآمد کرتی ہے۔
چین کی وزارت خارجہ نے کہا وہ اس صورتِ حال سے آگاہ نہیں۔ تاہم اس نے اسلام آباد کے ساتھ بیجنگ کے قریبی تعلقات کو دہرایا۔
وزارت کے ایک ترجمان نے کہا ’چین اور پاکستان مضبوط دوست اور ہر موسم کے سٹریٹجک شراکت دار ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا بیجنگ پاکستان کے ساتھ مل کر ملک میں چینی شہریوں، منصوبوں اور اداروں کے تحفظ کے لیے کام کرے گا۔
بلوچستان میں بدامنی نے بیریک مائننگ کے نو ارب ڈالر مالیت کے ریکوڈک سونے اور تانبے کے منصوبے کے امکانات پر بھی سایہ ڈال دیا ہے، جو سیندک سے تقریباً 50 کلومیٹر (31 میل) کے فاصلے پر واقع ہے۔