پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بدھ کو کہا ہے کہ بلوچستان میں گذشتہ تین روز کے دوز کے عسکریت پسندوں کے حملے میں 27 پولیس اہلکاروں سمیت 42 سکیورٹی اہلکاروں جان سے گئے ہیں۔
انہوں نے بلوچستان میں گذشتہ چند دنوں کے دوران عسکریت پسندوں کے تین بڑے حملوں اور صوبے میں جاری کارروائیوں سے متعلق بریفنگ میں کہا کہ یہ حملے منظم طریقے سے بیرونی پشت پناہی سے کیے جا رہے ہیں۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا ہے کہ بدھ کو زیارت میں فوج کے ایک قافلے پر حملے میں 11 اہلکاروں کی جان گئی۔
انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل زیارت میں مزید 18 پولیس اہلکاروں کو قتل کیا گیا جس کے بعد زیارت میں عسکریت پسندوں کے ہاتھوں مارے گئے پولیس جوانوں کی تعداد 27 ہو گئی جبکہ اس سے قبل بھی ایک حملے میں 4 عام شہری جان سے گئے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بتایا کہ عسکریت پسندوں کے حملوں میں 42 قیمتی جانیں گئیں اور 54 ’دہشت گرد‘ مارے گئے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
فوج کے ترجمان نے کہا کہ بلوچستان میں اس وقت مختلف علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔
آئی ایس پی آر کے سربراہ نے کہا کہ بلوچستان میں ’انڈیا سے مل کر وہ قوتیں دہشت گردی کروا رہی ہیں‘ جنہیں پاکستان کی عزت و خوشحالی قبول نہیں۔
انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ ’دہشت گردوں‘ کو افغانستان میں اڈے میسر ہیں اور ان کے بقول جوابی کارروائیوں میں مارے جانے والے بھی بیشتر افغانی شہری ہیں۔
اس سے قبل بھی پاکستان تواتر سے یہ کہتا آیا ہے کہ افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان سمیت ان عسکریت پسندوں کی پناہ گاہیں موجود ہیں جو پاکستان پر حملوں میں ملوث ہیں اور انہیں انڈیا کی معاونت بھی حاصل ہے۔
تاہم افغانستان کی حکومت اس کی تردید کرتی آئی ہے۔
فوج کے ترجمان نے کہا کہ ’دہشت گردوں کو پناہ دینے والے کہیں بھی ہوں انہیں نہیں چھوڑا جائے گا۔‘