زیارت میں ڈپٹی کمشنر پر حملے میں نو اہلکاروں کی موت: پولیس

پولیس کے مطابق رات بھر مسلح افراد اور پولیس کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں نو پولیس اہلکار جان سے گئے جن کی لاشیں ہسپتال منتقل کر دی گئی ہیں۔

کوئٹہ میں 23 جون 2026 کو ایک سکیورٹی اہلکار محرم الحرام کے دوران ڈیوٹی پر مامور ہیں (اے ایف پی)

بلوچستان میں پولیس کے مطابق کے سیاحتی مقام زیارت کے کچھ مانگی کے علاقے میں پیر کی شب مسلح افراد کے حملے میں نو پولیس اہلکاروں کی موت ہو گئی ہے جبکہ متعدد دیگر اہلکار زخمی اور اغوا ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ ایسے حملے امن کو سبوتاژ نہیں کر سکتے۔

زیارت پولیس کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انڈپنڈنڈٹ اردو کو بتایا کہ گذشتہ رات کچھ مانگی فیز تھری کے علاقے میں ڈپٹی کمشنر زیارت اور عملہ گشت پر تھے کہ مسلح افراد نے حملہ کر دیا۔

پولیس اہلکار کے مطابق اطلاع ملنے پر پولیس اور انسداد دہشت گردی فورس کی مزید نفری علاقے میں بھیج دی گئی۔

ان کے مطابق رات بھر مسلح افراد اور پولیس کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں نو پولیس اہلکار جان سے گئے جن کی لاشیں ہسپتال منتقل کر دی گئی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید بتایا کہ واقعے میں متعدد اہلکاروں کے زخمی ہونے کے ساتھ ساتھ اغوا کیے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایک بیان میں زیارت کے علاقے میں ’دہشت گردوں‘ کے حملے کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’امن کی خاطر جانیں قربان کرنے والے شہدا ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ایسے  بزدلانہ حملے امن  کو سبوتاژ نہیں کر سکتے۔‘

 

واقعے کے بعد زیارت میں علاقہ مکینوں نے احتجاج  کرتے ہوئے شاہراہ بند کر دی اور  دھرنا دے دیا ہے، جس کے باعث شاہراہ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہو گئی ہے۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ ’مغوی اہلکاروں‘ کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنایا جائے اور واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے۔

یہ بلوچستان میں گذشتہ چند روز میں پیش آنے والا دوسرا ایسا واقعہ ہے جس میں مسلح افراد نے حملہ کیا۔

دو روز قبل کوئٹہ اور زیارت کے درمیانی علاقے کلی ببری میں بھی کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے مقامی افراد پر حملہ کیا تھا، جس میں چار افراد کی موت ہو گئی تھے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان