پاکستان کی فوج نے پیر کو ایک بیان میں عزام دہرایا ہے کہ حکومت کی ہدایات اور عوام کی خواہشات کے مطابق ملک کے پانی کے جائز حصے کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ایک بیان میں بتایا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی زیر صدارت 276ویں کور کمانڈرز کانفرنس میں انڈس واٹرز ٹریٹی سے متعلق انڈیا کے حالیہ مؤقف پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
بیان کے مطابق سینیئر فوجی افسران نے انڈس واٹرز ٹریٹی سے متعلق انڈیا کے بیانات کا نوٹس لیتے ہوئے 24 اپریل، 2025 کو قومی سلامتی کمیٹی کی ہدایات کی توثیق کی اور کہا کہ پاکستان کے پانی کے جائز حصے کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا۔
فورم نے ملک کی مجموعی سکیورٹی صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے مسلح افواج کی آپریشنل تیاری، پیشہ ورانہ صلاحیت اور جنگی استعداد پر اطمینان کا اظہار کیا۔
کانفرنس میں افغانستان میں طالبان حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں کو انڈین سرپرستی میں کام کرنے والے دہشت گرد گروہوں کی جانب سے پاکستان میں حملوں کے لیے استعمال کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔
بیان کے مطابق فورم نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام اسی صورت ممکن ہے جب افغان طالبان اپنے زیر کنٹرول علاقوں کو انڈین حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں کے استعمال سے روکیں، جس کی ذمہ داری براہ راست افغان طالبان حکومت پر عائد ہوتی ہے۔
کور کمانڈرز کانفرنس نے کہا کہ پاکستان کو اپنے شہریوں کے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے اور مسلح افواج ’آپریشن غضب للحق‘ کے تحت افغان طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں سے آنے والی دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں جاری رکھیں گی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
فورم نے زور دیا کہ عسکری کارروائیوں کے ساتھ ساتھ شورش زدہ علاقوں میں مؤثر طرزِ حکمرانی، عوامی خدمت اور فلاح پر مبنی نظام قائم کرنا بھی ناگزیر ہے تاکہ دہشت گردی اور جرائم کے گٹھ جوڑ کا خاتمہ کیا جا سکے۔
کانفرنس میں مزید کہا گیا ’معرکۂ حق‘ میں دشمن کو جامع شکست دینے کے بعد پاکستان کے خلاف بیرونی حمایت یافتہ ہائبرڈ جنگ اور گمراہ کن معلومات کی مہمات میں اضافہ ہوا ہے۔
فورم نے ایسے تمام اقدامات، دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی، مالی معاونت اور سہولت کاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی ہر کوشش کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
فورم نے خطے کی بدلتی ہوئی صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے علاقائی امن، مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا اور بین الاقوامی قانون، پرامن تنازعات کے حل اور علاقائی تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔
فورم نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور آبادی کے تناسب میں یکطرفہ تبدیلی کی کوششوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔
کانفرنس نے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے پاکستان کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔