فلسطینی تنظیم حماس نے پیر کو تقریباً دو دہائیوں سے غزہ کی پٹی کا انتظام سنبھالنے والے اپنے حکومتی ادارے کو تحلیل کرنے کا اعلان کر دیا، جس کے بعد ایک ٹیکنوکریٹک کمیٹی کے لیے شہری انتظام سنبھالنے کی راہ ہموار ہو گئی۔
یہ اقدام حماس کی سیاست میں ایک اہم تبدیلی تصور کیا جا رہا ہے۔
حماس نے 2007 میں، ایک سال قبل ہونے والے قانون ساز انتخابات میں کامیابی کے بعد، حریف فلسطینی جماعت فتح سے غزہ کا کنٹرول سنبھالا تھا اور تب سے غزہ کی حکمرانی کر رہی تھی۔
گذشتہ سال اکتوبر میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد حماس کئی مرتبہ کہہ چکی ہے کہ وہ غزہ میں روزمرہ حکومتی امور سے الگ ہونے کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے ہتھیار ڈالنے کا معاملہ اب بھی حل طلب ہے۔
حماس کے سرکاری میڈیا دفتر کے سربراہ اسماعیل الثوابتہ نے بتایا ’حکومت کی ایمرجنسی کمیٹی کے سربراہ محمد الفرا نے باضابطہ طور پر اپنا استعفیٰ پیش کر دیا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا ’ایمرجنسی کمیٹی کو بھی تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ غزہ کی انتظامیہ اور حکومت کی ذمہ داریاں نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ (این سی اے جی) کو منتقل کرنے کا عمل آسان بنایا جا سکے۔‘
این سی اے جی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اکتوبر 2025 میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کرانے کے بعد قائم کیے گئے ’بورڈ آف پیس‘ کے تحت تشکیل دیا گیا تھا۔
حماس کے ترجمان حازم قاسم نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’حماس نے ایک نیا قدم اٹھایا ہے اور اب وہ غزہ کی پٹی کی حکمرانی کی ذمہ دار نہیں رہے گی تاکہ قابض قوت کے پاس جاری جارحیت اور نسل کشی کی جنگ کے لیے کوئی جواز باقی نہ رہے۔‘
انہوں نے کہا ’ہم امید کرتے ہیں نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ جلد از جلد غزہ میں اپنا کام شروع کرے گی اور حماس اس کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے حکومتی ذمہ داریاں اس کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہے۔‘
حماس کے ایک عہدے دار نے اس سے قبل اے ایف پی کو بتایا تھا کہ تنظیم نے حالیہ دنوں قاہرہ میں ہونے والے اجلاس کے دوران دیگر فلسطینی دھڑوں کو بھی اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیا تھا۔
عہدے دار کے مطابق ’دیگر فلسطینی دھڑوں نے حماس کے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور اسے نیشنل کمیٹی کو حکمرانی کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے قابل بنانے کی جانب ایک سنجیدہ قدم قرار دیا۔‘
حماس کے حکومتی ادارے کی تحلیل کے بعد این سی اے جی، جس کی سربراہی فلسطینی ٹیکنوکریٹ علی شعث کر رہے ہیں، غزہ کی انتظامی ذمہ داریاں سنبھالنے کی راہ پر گامزن ہو گئی ہے۔
این سی اے جی کئی ماہ سے غزہ سے باہر قائم ہے کیونکہ اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے جنگ سے تباہ حال علاقے میں اس کے داخلے پر اعتراضات اٹھائے تھے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
حماس اور دیگر فلسطینی دھڑوں نے ثالثوں کی موجودگی میں قاہرہ میں کئی ادوار کے مذاکرات کیے تاکہ اختلافات، خصوصاً غزہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے سے متعلق معاملات، کم کیے جا سکیں۔
جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں حماس کے پاس موجود آخری اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے اسرائیل میں قید فلسطینیوں کو رہا کیا گیا تھا۔
دوسرے مرحلے میں پیش رفت، جس میں حماس کے ہتھیار ڈالنے اور غزہ سے اسرائیلی افواج کے بتدریج انخلا کا منصوبہ شامل تھا، کئی ماہ سے تعطل کا شکار ہے۔
اس کے برعکس اسرائیلی افواج نے حالیہ مہینوں میں غزہ میں اپنی موجودگی مزید بڑھا لی ہے اور اب وہ تقریباً 70 فیصد علاقے پر کنٹرول رکھتی ہیں۔
دوسری جانب حماس کا مؤقف ہے کہ وہ اپنے اسلحے کا کوئی بھی حصہ حوالے کرنے پر اس وقت تک غور نہیں کرے گی جب تک غزہ میں ایک فلسطینی انتظامیہ قائم نہیں ہو جاتی۔
جنگ کے بعد غزہ کی حکمرانی کا سوال اب بھی دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کے لیے ہونے والے مذاکرات میں سب سے بڑے اختلافی نکات میں سے ایک ہے۔
اسرائیل حماس کی دوبارہ اقتدار میں واپسی کو مسترد کرتا ہے، تاہم وہ موجودہ مرحلے پر فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے غزہ کا براہ راست انتظام سنبھالنے کی بھی مخالفت کر رہا ہے۔