بلوچستان کے جنوب مغربی علاقے میں مسلح شدت پسندوں نے اتوار کو ایک گاؤں پر حملہ کیا جس میں کم از کم تین افراد کی موت ہو گئی ہے جبکہ نو زخمی ہوئے۔
یہ حملہ اتوار کی شام کلی ببری نامی پہاڑی گاؤں میں ہوا، جو ہنہ اُرک وادی میں واقع ہے اور صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے تقریباً 30 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
گذشتہ ہفتے مقامی افراد نے علاقے میں شدت پسندوں کی بڑھتی موجودگی اور دھمکیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے وادی کی جانب جانے والی سڑکیں بند کر دی تھیں۔ اس موقع پر حکام نے انہیں سکیورٹی کے مؤثر انتظامات کی یقین دہانی کروائی تھی۔
اس حوالے سے بلوچستان کے وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا ہے کہ ’حکومتی یقین دہانی کے باوجود اتوار کی شام دہشت گردوں کے ایک گروہ نے گاؤں پر حملہ کیا۔‘
انہوں نے بتایا کہ اس حملے میں کم از کم تین افراد کی موت ہوئی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ دیہاتی پہلے ہی ’دہشت گردوں کی دھمکیوں‘ کے باعث الرٹ تھے، تاہم بعض افراد اب بھی لاپتا ہیں، اس لیے اموات میں اضافے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے ایک بیان میں اس حملے کی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ کا کہنا ہے کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی فرنٹیئر کور (ایف سی)، انسداد دہشت گردی فورس (اے ٹی ایف) اور پولیس کے اہلکار علاقے میں پہنچ گئے۔
انہوں نے کہا کہ شدت پسند اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہو گئے، سکیورٹی کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔
بخت محمد کاکڑ نے عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’یہ دہشت گرد گذشتہ ہفتے قریبی پہاڑوں سے اترے تھے، لیکن دیہاتیوں نے انہیں واپس دھکیل دیا تھا۔ اتوار کی شام وہ دوبارہ آئے اور گاؤں کے لوگوں کو نشانہ بنایا۔‘
واقعے کے بعد بلوچستان حکومت نے کلی ببری میں مشترکہ سکیورٹی چیک پوسٹ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
صوبائی محکمہ داخلہ کے بیان میں کہا گیا کہ ’علاقے میں سکیورٹی مزید مضبوط بنانے، کسی بھی ممکنہ خطرے کا فوری جواب دینے اور مربوط حفاظتی انتظامات کو بہتر بنانے کے لیے حکومت نے مشترکہ چیک پوسٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘
ادھر ہنہ اُرک وادی کے مکینوں نے حملے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کوئٹہ سے وادی جانے والی اہم شاہراہ بند کر دی اور شدت پسندوں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔