پاکستان فضائیہ کے افسر کا مبینہ قاتل نو گھنٹوں میں کیسے گرفتار ہوا؟

آئی جی اسلام آباد نے بتایا کہ گروپ کیپٹن عاصم طارق کو فائرنگ کر کے فرار ہونے والے ملزم کو گرفتار کرنے کے لیے 11 ٹیموں نے مل کر کام کیا۔

اسلام آباد پولیس نے اتوار کو بتایا کہ پاکستان فضائیہ کے ایک سینیئر افسر کے مبینہ قاتل کو مصنوعی ذہانت کی مدد سے نو گھنٹوں میں گرفتار کر لیا گیا۔

پاکستان فضائیہ کے گروپ کیپٹن عاصم طارق اسلام آباد میں ایک خاتون کو بچاتے ہوئے فائرنگ سے جان سے چلے گئے جبکہ ملزم موقعے سے فرار ہو گیا تھا۔

بعد ازاں اسلام آباد پولیس کے ترجمان جواد تقی نے انڈپینڈنٹ اردو کو ملزم کے گرفتار ہونے کی تصدیق کی۔ 

ملزم کی گرفتاری کے بعد آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی نے اتوار کی رات ڈی آئی جی آپریشنز جواد طارق کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کیس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ گرفتار ملزم سعد عباسی اور ایک خاتون سیکٹر جی سکس میں واقع ڈیپارٹمنٹل سٹور میں ساتھ ملازمت کرتے تھے۔

آئی جی کے مطابق سعد خاتون کو کام کی جگہ کی بجائے کسی اور مقام پر لے جانا چاہتا تھا، تاہم خاتون نے انکار کر دیا، جس پر شاہین چوک کے قریب دونوں میں تکرار ہوئی۔

انہوں نے بتایا کھنہ پل کا رہائشی سعد اس سے قبل دو مرتبہ خاتون کو گھر سے لینے جا چکا تھا۔

تاہم آج وہ خاتون کو زبردستی کسی اور جگہ لے جانا چاہتا تھا جبکہ خاتون صرف اپنی ملازمت کی جگہ جانا چاہتی تھی۔

آئی جی نے بتایا کہ گروپ کیپٹن عاصم طارق اپنے دفتر جا رہے تھے کہ انہوں نے دونوں میں تکرار دیکھتے ہوئے مداخلت کی۔ 

ان کے مطابق گروپ کیپٹن نے گاڑی موڑ کر سعد کی موٹر سائیکل کے قریب روکی اور اسے اپنا تعارف کراتے ہوئے روکا، جس پر ملزم نے پستول سے فائر کر دیا۔ 

فائر لگنے سے گروپ کیپٹن عاصم طارق موقعے پر جان سے چلے گئے۔

آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ اس خاتون کی صرف چند روز قبل ہی سعد سے واقفیت ہوئی تھی، حتٰی کہ اسے ملزم کے گھر کا بھی علم نہیں تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ملزم کی گرفتاری سے متعلق آئی جی نے بتایا کہ کیس کو حل کرنے کے لیے 11 ٹیمیں تشکیل دی گئیں اور سیف سٹی، ڈیجیٹل سرویلنس اور فزیکل فالو اپ، 275 کیمروں اور 137 سی ڈی آرز کی مدد سے ملزم تک رسائی حاصل کی گئی۔

آئی جی کے مطابق آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی مدد سے ملزم کے مقام اور اس کے کپڑے تبدیل کرنے تک کو ٹریک کیا گیا۔ 

انہوں نے بتایا سعد نے نجی بس سروس کا ٹکٹ لے کر فرار ہونے کی کوشش کی جبکہ موبائل فون بند کر کے پرائیویٹ آئی پی کے ذریعے انٹرنیٹ استعمال کرتا رہا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کیس کو دستیاب شواہد کی بنیاد پر آگے بڑھایا جائے گا۔ 

وزیر داخلہ محسن نقوی نے واقعے میں ’گروپ کیپٹن عاصم طارق کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔‘

گروپ کیپٹن عاصم طارق کے قتل کی ذمہ داری قبول کرنے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک دعوٰی گردش کر رہا ہے جسے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے منسوب کیا جا رہا ہے۔

تاہم اسلام آباد پولیس کے ترجمان جواد تقی نے پیر کو انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ گذشتہ روز ہونے والی پریس کانفرنس میں آئی جی اسلام آباد نے میڈیا کو کیس کے حقائق سے آگاہ کر دیا تھا اور واقعے کو ٹی ٹی پی سے منسوب کرنے کے دعوؤں میں صداقت نہیں۔

ٹی ٹی پی نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ جس شخص کو پولیس کو گرفتار کیا وہ اس کا رکن نہیں ہے۔

پیر کو ہی واقعے کی ایف آئی آر کمانڈنگ افسر پاکستان ایئر فورس کی مدعیت میں تھانہ مارگلہ میں درج کر لی گئی، جس میں دہشت گردی ایکٹ 7 اے ٹی اے اور دفعہ 302 کی دفعات شامل ہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان