بنگلہ دیش میں 35 سال بعد ہونے والے صدارتی انتخابات میں پارلیمنٹ نے جمعرات کو حکمران بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے سینیئر رہنما مرزا فخر الاسلام عالمگیر کو ملک کا نیا صدر منتخب کر لیا۔
صدارتی منصب گذشتہ ماہ سابق صدر محمد شہاب الدین کے استعفے کے بعد خالی ہوا تھا جو سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے تھے۔
مرزا فخر الاسلام عالمگیر نے صدارتی انتخاب میں 255 ووٹوں کے ساتھ کامیابی حاصل کی جبکہ ان کے مدمقابل اپوزیشن جماعت جماعت اسلامی اور اس کی اتحادی جماعتوں کے امیدوار اولی احمد کو 88 ووٹ ملے۔
انتخاب میں پارلیمنٹ کے مجموعی طور پر 349 ارکان ووٹ ڈالنے کے اہل تھے۔
یہ اکتوبر 1991 کے بعد بنگلہ دیش میں پہلا صدارتی انتخاب تھا جس میں باقاعدہ مقابلہ ہوا۔ 1991 میں ملک میں پارلیمانی جمہوریت کے قیام کے بعد ہونے والے تمام صدارتی انتخابات میں حکمران جماعت کے امیدوار کے مقابلے میں کوئی امیدوار میدان میں نہیں اترا تھا۔
مرزا فخر الاسلام عالمگیر طویل عرصے تک بی این پی کے سیکریٹری جنرل رہے اور شیخ حسینہ کے 15 سالہ دورِ حکومت کے خلاف سیاسی تحریک کی قیادت میں اہم کردار ادا کیا۔
شیخ حسینہ اگست 2024 میں حکومتی ملازمتوں کے کوٹے کے تنازع، مبینہ آمرانہ طرز حکومت اور بدعنوانی کے خلاف ہونے والی ملک گیر عوامی تحریک کے دوران ملک چھوڑ کر انڈیا فرار ہو گئی تھیں۔ ان کی جماعت پر گذشتہ سال سے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر پابندی عائد ہے۔
بنگلہ دیش میں صدر ریاست کے سربراہ اور بااثر مسلح افواج کے کمانڈر اِن چیف ہوتے ہیں جبکہ وزیراعظم حکومت کے سربراہ ہوتے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اگرچہ صدر کا منصب زیادہ تر رسمی نوعیت کا ہے، تاہم سیاسی بحرانوں کے دوران صدر کو اہم کردار ادا کرنا پڑتا ہے۔ مرزا فخر الاسلام عالمگیر کے جمعے کو اپنا عہدہ سنبھالیں گے۔
گذشتہ ماہ بنگلہ دیش کے سابق صدر محمد شہاب الدین نے اپنی مدت صدارت کے دوران ہی استعفیٰ دے دیا تھا۔ وہ شیخ حسینہ کے دورِ حکومت میں صدر منتخب ہوئے تھے۔
ان کے استعفے سے ملک میں جاری کئی برسوں کی سیاسی کشیدگی کے دوران ایک اہم تبدیلی آئی اور انڈیا میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے والی شیخ حسینہ اپنے ایک قابلِ اعتماد اتحادی سے بھی محروم ہو گئیں۔
سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی سیاسی حریف اور سابق وزیراعظم کی بیٹی کے بیٹے طارق رحمان کی قیادت میں نئی حکومت فروری میں ہونے والے انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی کے بعد اقتدار میں آئی تھی۔
اس سے قبل نوبیل امن انعام یافتہ محمد یونس کی قیادت میں 18 ماہ تک عبوری حکومت قائم رہی۔ انتخابات میں شیخ حسینہ کی جماعت کو حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔
محمد شہاب الدین کو شیخ حسینہ کا قابل اعتماد ساتھی سمجھا جاتا تھا۔ شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد انہیں اس طلبہ گروپ کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا جس نے شیخ حسینہ کے خلاف تحریک کی قیادت کی تھی۔
مظاہرین نے انہیں شیخ حسینہ کا ساتھی قرار دیتے ہوئے ان کے استعفے اور گرفتاری کا مطالبہ کیا اور اس مقصد کے لیے سڑکوں پر احتجاج بھی کیا تھا۔