اساتذہ کا عالمی دن: وہ لوگ جنہوں نے حروف سے زندگی تک پڑھایا

ایک استاد شاید کبھی یہ نہ جان سکے کہ اس کا ایک جملہ کسی شاگرد کی زندگی کا رخ بدل گیا، ایک حوصلہ افزا نظر نے کسی بچے کا اعتماد بحال کر دیا، ایک معمولی سی توجہ نے کسی خواب کو مرنے سے بچا لیا۔

11 اکتوبر 2012 کو ریاست گجرات میں ایک استانی بچوں کو اردو پڑھا رہی ہیں (اے ایف پی)

پانچ اکتوبر کو دنیا بھر میں اساتذہ کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ کہیں تقریریں ہوتی ہیں، کہیں پھول پیش کیے جاتے ہیں، کہیں اساتذہ کو اعزازات سے نوازا جاتا ہے اور کہیں سوشل میڈیا پر خوب صورت الفاظ کے ذریعے اپنے محسنوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ مگر میرے لیے یہ ایک دن نہیں، یہ اپنی زندگی کے ان بے شمار چہروں کو یاد کرنے کا دن ہے جنہوں نے مجھے صرف پڑھایا نہیں، بلکہ مجھے بنایا۔

جب میں پانچ برس کا تھا تو پہلی مرتبہ سکول کی دہلیز پر قدم رکھا۔ اس وقت مجھے کیا معلوم تھا کہ یہ چھوٹی سی عمارت میری پوری زندگی کا رخ متعین کرنے والی ہے۔ مجھے تو شاید سکول جانا بھی ایک ایسی دنیا میں داخل ہونا محسوس ہوتا تھا جس کے آداب، اصول اور تقاضے ابھی میرے لیے اجنبی تھے۔ لیکن میرے ابتدائی اساتذہ نے بڑی خاموشی سے میری انگلی تھامی اور مجھے ایک ایسی راہ پر ڈال دیا جس پر چلتے چلتے آج میں اپنی زندگی کے کئی عشروں کا سفر طے کر چکا ہوں۔

انہوں نے مجھے صرف الف، ب، پ اور حروفِ تہجی نہیں سکھائے۔ انہوں نے مجھے حروف سے الفاظ تک، الفاظ سے جملوں تک، جملوں سے پیراگراف تک اور پیراگراف سے مضمون تک پہنچنے کا ہنر سکھایا۔ انہوں نے مجھے اردو کے حروف سے آشنا کیا، انگریزی کے ابتدائی حروف سے متعارف کرایا، گنتی سکھائی، ایک دو لکھنا سکھایا، جمع تفریق کے وہ اصول سمجھائے جو اس عمر میں کسی پیچیدہ معمے سے کم نہ تھے۔ آج پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ اس وقت جو کچھ ہمیں معمولی سبق معلوم ہوتا تھا، دراصل وہ ہماری پوری زندگی کی بنیاد رکھی جا رہی تھی۔

ایک حرف دوسرے حرف سے مل کر لفظ بنتا ہے، یہ ہمیں استاد نے بتایا۔ مگر شاید وہیں کہیں، انجانے میں، انہوں نے ہمیں یہ بھی سکھا دیا تھا کہ انسان بھی انسان سے مل کر بنتا ہے۔

ایک لفظ دوسرے لفظ سے مل کر جملہ بنتا ہے۔ پھر جملے مل کر پیراگراف اور پیراگراف مل کر ایک مکمل تحریر۔ شاید استاد ہمیں یہ بھی سمجھا رہے تھے کہ زندگی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ ایک چھوٹا سا عمل کردار بناتا ہے، کردار عادت بنتا ہے، عادت شخصیت بناتی ہے اور شخصیت بالآخر انسان کی زندگی کا تعارف بن جاتی ہے۔

یہ سب کچھ اس زمانے میں ہو رہا تھا جب چترال جیسے دور افتادہ علاقے میں تعلیم آج کی طرح آسان، عام اور قابلِ رسائی تصور نہیں ہوتی تھی۔ سکول جانا ہر بچے کی اولین ترجیح نہیں تھا۔ بعض گھروں میں تعلیم کو ضرورت کی بجائے ایک اضافی بوجھ سمجھا جاتا تھا۔ بچوں کے لیے سکول کا مطلب کبھی صبح سویرے بستر چھوڑنا، کبھی استاد کے سامنے جواب دہ ہونا اور کبھی ایسی دنیا میں داخل ہونا تھا جس کے بارے میں گھر اور معاشرہ انہیں زیادہ کچھ بتا نہیں پاتا تھا۔

اور شاید اس زمانے کے اساتذہ کے لیے بھی سب کچھ آسان نہ تھا۔

آج ہم تدریس کے جدید تصورات، بچوں کی نفسیات، مختلف تعلیمی طریقہ کار، سرگرمی پر مبنی تعلیم، تنقیدی سوچ اور طالب علم مرکز تدریس کی بات کرتے ہیں۔ اس دور میں ان تصورات کی باقاعدہ تربیت شاید بہت سے اساتذہ کو میسر نہ تھی۔ وسائل محدود تھے، تربیتی مواقع کم تھے اور تدریس کے جدید طریقوں تک رسائی بھی آسان نہ تھی۔ لیکن ان تمام کمیوں کے باوجود ہمارے درمیان ایسے استاد موجود تھے جن کے پاس ایک ایسی دولت تھی جو کسی تربیتی کتاب میں نہیں ملتی: محبت، خلوص اور اپنے شاگرد کو آگے بڑھتا دیکھنے کی خواہش۔

وہ شاید جدید تعلیمی اصطلاحات نہ جانتے ہوں، مگر وہ یہ جانتے تھے کہ ایک بچے کے اندر چھپی ہوئی صلاحیت کو کیسے جگانا ہے۔ وہ شاید ’Student-Centred Learning‘ کی اصطلاح سے واقف نہ ہوں، مگر وہ بچے کی طرف جھک کر اسے سمجھانے کا ہنر جانتے تھے۔

وہ شاید ’Critical Thinking‘ کا لفظ نہ بولتے ہوں، مگر کبھی کبھی ایسا سوال ضرور کر دیتے تھے جو ہمارے چھوٹے سے ذہن میں ایک نئی کھڑکی کھول دیتا تھا۔

وہ شاید جدید نفسیات کی کتابیں نہ پڑھ سکے ہوں، مگر کسی خوف زدہ بچے کو حوصلہ دینا، کسی کمزور طالب علم کو دوبارہ کوشش پر آمادہ کرنا اور کسی شرارتی بچے کو محبت سے راستے پر لانا انہیں آتا تھا۔

پھر پرائمری سے سیکنڈری اور سیکنڈری سے کالج تک سفر جاری رہا۔ استاد بدلتے رہے، کتابیں بدلتی رہیں، مضامین مشکل ہوتے گئے، سوالات پیچیدہ ہوتے گئے اور ہماری دنیا وسیع ہوتی گئی۔ مگر ہر استاد اپنے ساتھ علم کا ایک نیا چراغ لاتا رہا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کسی نے زبان کا ذوق پیدا کیا، کسی نے ادب سے روشناس کرایا، کسی نے تاریخ کے دریچے کھولے، کسی نے سائنس کی حیرتوں سے آشنا کیا، کسی نے ریاضی کے پیچیدہ مسئلے میں منطق کا راستہ دکھایا اور کسی نے یہ احساس دیا کہ علم صرف امتحان میں اچھے نمبر حاصل کرنے کا نام نہیں۔

یونیورسٹی کی سطح پر پہنچ کر اساتذہ نے ہمارے سامنے علم کی ایک اور دنیا کھولی۔ اب ہمیں صرف یہ نہیں بتایا جاتا تھا کہ جواب کیا ہے بلکہ ہمیں یہ پوچھنے کی ترغیب دی جاتی تھی کہ سوال کیا ہے؟

یہ شاید میری تعلیمی زندگی کا سب سے اہم موڑ تھا۔

انہوں نے ہمیں سوال کرنا سکھایا۔ اختلاف کرنا نہیں، بلکہ دلیل کے ساتھ غور کرنا سکھایا۔ انہوں نے ہمارے ذہن کو وسعت دی، ہمیں دنیا کو صرف ایک زاویے سے نہیں بلکہ مختلف زاویوں سے دیکھنے کا ہنر دیا۔ انہوں نے تحقیق کی طرف راغب کیا، معلومات کو محض قبول کرنے کی بجائے ان کے پس منظر، ماخذ اور معنویت پر غور کرنا سکھایا۔

تب محسوس ہوا کہ ایک اچھا استاد کتاب ختم نہیں کرتا، ذہن کھولتا ہے۔ وہ طالب علم کو اپنے علم کا محتاج نہیں بناتا۔ اسے اس قابل بناتا ہے کہ وہ خود علم تلاش کر سکے۔ شاید یہ ہی استاد اور صرف ایک معلومات فراہم کرنے والے شخص کے درمیان بنیادی فرق ہے۔

آج جب میں اپنی زندگی کی طرف دیکھتا ہوں تو محسوس کرتا ہوں کہ میرے والدین اور گھر والوں کے بعد میری شخصیت کی تعمیر میں اگر کسی طبقے کا سب سے نمایاں کردار ہے تو وہ میرے اساتذہ ہیں۔ انہوں نے میری تعلیمی زندگی کو سمت دی، میری پیشہ ورانہ زندگی کے لیے بنیاد فراہم کی، میری معاشرتی زندگی کے لیے آداب سکھائے اور میری اخلاقی زندگی میں کئی ایسے اصول پیوست کیے جن کا اثر شاید اس وقت مجھے خود بھی معلوم نہ تھا۔

ہم اکثر استاد کی کامیابی کو اس بات سے ناپتے ہیں کہ اس کے کتنے شاگرد ڈاکٹر، انجنیئر، استاد، افسر یا کسی بڑے منصب تک پہنچے۔ مگر شاید استاد کی اصل کامیابی اس سے کہیں وسیع ہے۔

وہ بچہ جو دوسروں کا احترام کرنا سیکھ گیا، استاد کامیاب ہے۔

وہ طالب علم جو اختلاف کے باوجود تہذیب نہیں بھولا، استاد کامیاب ہے۔

وہ نوجوان جو مشکل حالات میں ایمانداری کا راستہ اختیار کرتا ہے، استاد کامیاب ہے۔

وہ شخص جو اپنے علم کو دوسروں کے فائدے کے لیے استعمال کرتا ہے، استاد کامیاب ہے۔

اور وہ شاگرد جو برسوں بعد اپنے استاد کو یاد کرتے ہوئے بے اختیار کہتا ہے، ’میں آج جو کچھ ہوں، اس میں میرے استاد کا بھی حصہ ہے‘ شاید یہ ہی کسی استاد کے لیے سب سے بڑا اعزاز ہے۔

میرے اپنے سفر میں بھی ایسے کئی استاد گزرے ہیں جن کے نام شاید آج کے بچوں کے لیے اجنبی ہوں، جن کے پاس جدید سہولتیں نہ تھیں، جن کے کلاس روم شاید آج کے معیار کے مطابق مثالی نہ تھے، مگر جنہوں نے ہمارے اندر خواب دیکھنے کی صلاحیت پیدا کی۔ انہوں نے ہمیں یہ یقین دیا کہ دور افتادہ پہاڑوں میں پیدا ہونا ہمارے امکانات کو محدود نہیں کرتا۔ وسائل کی کمی ہماری منزل کا فیصلہ نہیں کرتی۔ اگر رہنمائی، محنت اور علم کا چراغ ہاتھ میں ہو تو راستے خود بنتے چلے جاتے ہیں۔

چترال کی وادیوں میں، جہاں پہاڑ کبھی راستے روکتے محسوس ہوتے تھے، ہمارے اساتذہ نے ہمارے لیے ذہن کے راستے کھولے۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ دنیا ہمارے گاؤں، وادی یا ضلع سے کہیں بڑی ہے۔ انہوں نے کتاب کے ذریعے ہمیں ان جگہوں تک پہنچایا جہاں شاید ہمارے قدم کبھی نہ پہنچ سکتے۔

انہوں نے زبان کے ذریعے ہمیں ان خیالات سے جوڑا جنہیں ہم اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتے تھے۔

اور تعلیم کے ذریعے ہمیں یہ احساس دیا کہ انسان کی اصل وسعت اس کے جغرافیے سے نہیں، اس کے ذہن کی وسعت سے متعین ہوتی ہے۔

آج میں خود تعلیم کے شعبے سے وابستہ ہوں۔ برسوں سے امتحانات، نصاب، سوالات، تدریس اور طلبہ کے تعلیمی سفر سے جڑا ہوا ہوں۔ اس تجربے نے مجھے اپنے اساتذہ کی قدر اور بھی زیادہ سکھائی ہے۔ اب سمجھ آتا ہے کہ ایک اچھا سوال تیار کرنے، ایک بچے کی ضرورت سمجھنے، ایک طالب علم کی غلطی کو درست سمت دینے اور علم کو قابل فہم بنانے کے پیچھے کتنی محنت، صبر اور ذمہ داری ہوتی ہے۔

شاید اسی لیے آج جب میں اپنے اساتذہ کو یاد کرتا ہوں تو میرے پاس شکریے کے لیے الفاظ کم پڑ جاتے ہیں۔

استاد نے ہمیں قلم دیا، مگر صرف لکھنے کے لیے نہیں۔ انہوں نے کتاب دی، مگر صرف پڑھنے کے لیے نہیں۔ انہوں نے سوال دیا، مگر صرف جواب حاصل کرنے کے لیے نہیں۔ انہوں نے علم دیا، تاکہ ہم زندگی کو سمجھ سکیں۔

اور سب سے بڑھ کر، انہوں نے ہمیں وقت دیا، اپنی زندگی کا وہ قیمتی وقت جو کبھی واپس نہیں آتا۔

پانچ اکتوبر کو جب ہم اساتذہ کو مبارک باد دیتے ہیں تو شاید ہمیں ایک لمحے کے لیے یہ بھی سوچنا چاہیے کہ استاد دراصل ہماری زندگی میں کہاں کھڑا ہے۔ والدین بچے کو دنیا میں لاتے ہیں، اسے محبت دیتے ہیں، اس کی ابتدائی تربیت کرتے ہیں۔ استاد اس بچے کے ہاتھ میں علم کا چراغ تھما کر اسے دنیا کو سمجھنے اور اپنی راہ خود بنانے کے قابل بناتا ہے۔

ایک استاد شاید کبھی یہ نہ جان سکے کہ اس کا ایک جملہ کسی شاگرد کی زندگی کا رخ بدل گیا، ایک حوصلہ افزا نظر نے کسی بچے کا اعتماد بحال کر دیا، ایک معمولی سی توجہ نے کسی خواب کو مرنے سے بچا لیا۔

لیکن شاگرد جانتا ہے۔

وہ برسوں بعد بھی جانتا ہے۔

میں بھی جانتا ہوں۔

اسی لیے آج پانچ اکتوبر کے موقع پر میں اپنے ان تمام اساتذہ کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے میرے ہاتھ میں قلم دیا، میری زبان کو الفاظ دیے، میرے ذہن کو سوال دیے، میرے قدموں کو سمت دی اور میری شخصیت کو وہ بنیاد فراہم کی جس پر میری زندگی کی عمارت تعمیر ہوئی۔

ان ابتدائی استادوں کو، جنہوں نے مجھے حروف ملانا سکھایا۔

ان اساتذہ کو، جنہوں نے مجھے الفاظ سے جملے اور جملوں سے خیالات بنانا سکھایا۔

ان معلمین کو، جنہوں نے مشکل مضامین کو آسان بنایا۔

ان استادوں کو، جنہوں نے مجھے سوال کرنے کی جرات دی۔

اور ان تمام اساتذہ کو، جنہوں نے شاید کبھی سوچا بھی نہ ہو کہ ان کا ایک معمولی سا سبق کسی شاگرد کے دل میں اتنے برس زندہ رہے گا۔ آپ نے ہمیں صرف پڑھایا نہیں، آپ نے ہماری زندگی کے کئی بند دروازے کھولے۔

ہم شاید آپ کی دی ہوئی کتابیں بھول جائیں، کچھ اسباق کے عنوانات بھی یاد نہ رہیں، امتحان کے بہت سے سوالات بھی وقت کے ساتھ ذہن سے محو ہو جائیں مگر آپ کی شفقت، آپ کی رہنمائی، آپ کا دیا ہوا حوصلہ اور آپ کے ذریعے روشن ہونے والی علم کی پہلی کرن شاید عمر بھر ہمارے اندر روشن رہتی ہے۔

اور یہ ہی ایک استاد کی سب سے بڑی میراث ہے:

وہ خود پیچھے رہ جاتا ہے، مگر اپنے شاگرد کو آگے بڑھا دیتا ہے۔ سلام، ان تمام اساتذہ کے نام جنہوں نے ہمیں حروف سے زندگی تک پڑھایا۔

مصنف ماہرِ تعلیم، محقق اور کالم نگار ہیں۔ وہ گذشتہ دو دہائیوں سے شعبۂ تعلیم سے وابستہ ہیں اور اس وقت آغا خان یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ، کراچی سے منسلک ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس