وزیر اعظم شہباز شریف نے ایک سرکاری سکیم کے تحت آئندہ دو سال میں ملک بھر کے طلبہ میں پانچ لاکھ کروم بک لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سکیم سے طلبہ کو تعلیم جاری رکھنے اور مستقبل میں روزگار کے مواقع تلاش کرنے میں مدد ملے گی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت کی اس لیپ ٹاپ سکیم سے لاکھوں طلبہ نے فائدہ اٹھایا ہے۔ پاکستان میں کروڑوں خاندان ایسے ہیں جو اپنے بچوں کو لیپ ٹاپ خرید کر نہیں دے سکتے۔ ان کے لیے یہ سکیم کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔
میرا پہلا لیپ ٹاپ استعمال شدہ تھا۔ اس کے کی بورڈ کی کئی کیز خراب تھیں، سکرین پر دھبے تھے اور وہ انتہا کا سست رفتار تھا۔ لیکن اس وقت میری استطاعت اتنی ہی تھی۔ مجھے اپنا پہلا نیا لیپ ٹاپ خریدنے میں انڈر گریجویٹ کے بعد چار سال لگے اور اپنی ضرورت کے مطابق اپنی مرضی کا لیپ ٹاپ خریدنے میں مزید چار سال لگ گئے۔
آج میرے لیے لیپ ٹاپ خریدنا کوئی بڑی بات نہیں ہے لیکن مجھے وہ وقت بھی یاد ہے جب اسے چلاتے ہوئے دل میں اس کے صحیح چلتے رہنے کی دعا بھی ساتھ ساتھ چلتی رہتی تھی۔ پاکستان میں میرے جیسے بہت سے لوگ ہیں جو اپنے حالات کی وجہ سے نئی ٹیکنالوجی مصنوعات نہیں خرید سکتے اور اس وجہ سے وہ ہر روز دنیا سے مزید پیچھے ہوتے جاتے ہیں۔ ان کے لیے حکومتی مدد ایک بڑی سہولت ہے۔
تاہم، ان لیپ ٹاپس کے ساتھ تھوڑی سی آزادی بھی مل جاتی تو کیا بات تھی۔
ہم اپنی نوجوان نسل کو دنیا کے ساتھ کنیکٹ کروانا چاہتے ہیں لیکن وہ کنکشن ہماری مرضی کا ہونا چاہیے۔ اس کنکشن کا استعمال کرتے ہوئے وہ سوچنا شروع کر دیں، سوال کرنا شروع کر دیں یا اللہ معاف کرے کوئی ایسی تحقیق شروع کر دیں جو ہمارے اصل کو دنیا کے سامنے لے آئے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے۔
آن لائن اظہار کی گنجائش بھی دن بدن بظاہر سکڑتی جا رہی ہے۔ زبردستی اظہار کرنے والوں کو مبینہ طور پر زبردستی ہی گھروں سے نکالا جاتا ہے اور اپنی مرضی کے مطابق گھنٹوں سے لے کر مہینوں تک غائب رکھا جاتا ہے۔ ان ہی لیپ ٹاپس پر موجود ڈیٹا کنگھالا جاتا ہے۔ انسان کی واپسی ہو بھی جائے تو ڈیوائس کی واپسی یقینی نہیں ہوتی۔
یہاں سے بچت ہو تو انٹرنیٹ کی بندش انہیں دنیا سے کنیکٹ نہیں ہونے دیتی۔
پاکستان میں کسی قسم کا احتجاج ہو، جلسہ ہو، سکیورٹی خدشہ ہو یا بس عاشورہ کا دن ہی آ جائے، حکومت سب سے پہلے انٹرنیٹ بند کرتی ہے۔ کسی بھی وقت کسی بھی ویب سائٹ یا سوشل میڈیا کو بلاک کر دیا جاتا ہے۔ کئی پلیٹ فارمز تک رسائی حاصل کرنے کے لیے پہلے وی پی این کنیکٹ کرنا پڑتا ہے۔
فریڈم ہاؤس کی 2025 کی ’فریڈم آن دی نیٹ‘ رپورٹ میں پاکستان کو انٹرنیٹ کی آزادی کے حوالے سے 100 میں سے صرف 27 نمبر ملے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایسے میں سوچ آتی ہے کہ حکومت طلبہ کو لیپ ٹاپس دے تو رہی ہے لیکن وہ ان پر کیا کر سکتے ہیں؟ کیا وہ ان پر صرف اسائنمنٹس بنائیں؟ یا فری لانسنگ کریں؟ یا کسی دوسرے ملک جانے کا طریقہ ڈھونڈیں گے، ویزہ کی آن لائن درخواست بھریں گے اور ملک سے باہر جا کر اسی لیپ ٹاپ کے ذریعے ملک میں پیسے بھیجیں گے؟
کیا وہ ان لیپ ٹاپس پر وہ ویب سائٹس پڑھ سکتے ہیں جو ملکی سلامتی کے پیشِ نظر بلاک ہیں؟ کیا وہ کسی انکرپٹد میسنجر پر اکاونٹ بنا سکتے ہیں؟ کسی وہ کسی ایسے موضوع پر تحقیق کر سکتے ہیں جو ریڈ لائن میں نہ ہونے کے باوجود تحقیق کے لیے ’مناسب‘ تصور نہیں کیا جاتا؟
یا حکومت نوجوان نسل کو بس اوورسیز پاکستانی اور فری لانسر بنانا چاہتی ہے؟ کیونکہ جس شدت سے اوور سیز پاکستانیوں اور فری لانسرز کی کامیابیوں کا ذکر ہوتا ہے، اس سے یہ ہی گمان ہوتا ہے کہ حکومت کو وہی عزیز ہیں۔
نوجوانوں کولیپ ٹاپ دے کر حکومت اس سوال کے بوجھ سے بھی بری الذمہ ہو جاتی ہے کہ وہ اتنے برسوں میں اپنے نوجوانوں کے لیے ملک کے اندر روزگار کے مواقع کیوں پیدا نہیں کر سکی۔ کیا حکومت کی ذمہ داری صرف اتنی ہے کہ نوجوانوں کے ہاتھ میں ایک آلہ دے کر انہیں عالمی منڈی کے حوالے کر دے؟
معاشی حالات پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں سالانہ مہنگائی کی شرح 2015 میں 2۔5 فیصد تھی، جو 2020 میں 9۔7 فیصد اور 2023 میں 30۔8 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ 2025 میں یہ شرح کم ہو کر 3۔5 فیصد رہ گئی ہے۔
حکومت اس کمی کو بڑی کامیابی قرار دیتی ہے لیکن مہنگائی کی رفتار کم ہوئی ہے، روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتیں نہیں کم ہوئیں۔ جو چیزیں 2023 میں مہنگی ہوئیں، وہ آج بھی اسی قیمت پر یا اس سے زیادہ پر بک رہی ہیں جبکہ لوگوں کی تنخواہیں اس رفتار سے نہیں بڑھیں۔
بازاروں میں جائیں تو ایسے لگتا ہے جیسے پوری مارکیٹ ان پاکستان کے لیے چل رہی ہے جو ملک سے باہر مقیم ہے۔ وہی ان مارکیٹس میں اپنی مرضی کی اشیا بس ڈالر سٹور اور شین کے سہارے چل رہے ہیں۔ ایسے میں اس ملک میں رہنے والے پاکستانی کہاں جائیں؟
حکومت کی جانب سے طلبہ کو لیپ ٹاپ فراہم کرنا یقیناً ایک اچھا قدم ہے لیکن نوجوانوں کا مستقبل سنوارنے کے لیے صرف ایک آلہ کافی نہیں ہے۔ انہیں معیاری تعلیم، تحقیق کے مواقع، ملک کے اندر باعزت روزگار اور آزادانہ اظہار کی فضا بھی درکار ہے۔
اس کے لیے ضروری ہے کہ انٹرنیٹ کے حوالے سے واضح اور شفاف قوانین بنائے جائیں جو لوگوں کی آزادی اظہارِ رائے کی حفاظت کریں نہ کہ انہیں اپنی سوچ کو الفاظ کی صورت میں انٹرنیٹ پر ڈالنے پر مشکل میں ڈال دے۔
حکومت سے یہ بھی گزارش ہے کہ فری لانسرز کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ ملک کے اندر بھی ایسی صنعتیں کھڑی کرنے پر توجہ دے جو ان فری لانسرز کو یہیں روزگار کے مواقع فراہم کر سکے اور اس کے بدل اچھا معاوضہ بھی دے سکے۔
لیپ ٹاپ دیجیے، انٹرنیٹ دیجیے اور ڈیجیٹل پاکستان کے خواب بھی دکھائیے۔ لیکن نوجوانوں کو سوال کرنے، اختلاف کرنے اور اپنی مرضی کے موضوعات پر تحقیق کرنے کی آزادی بھی دیجیے۔
کیونکہ جب ذہن روشن ہوتے ہیں تو سوالات کو رستہ ملتا ہے اور ان سوالات کے جواب کسی نئی سکیم کے اعلان سے نہیں ملتے بلکہ ایسے ماحول سے ملتے ہیں جہاں نوجوانوں کو صرف ٹیکنالوجی استعمال کرنے کی نہیں، آزادانہ سوچنے کی بھی اجازت ہو اور حکومت خود کو عوام کا جوابدہ سمجھتی ہو۔
ورنہ ہم انہیں لیپ ٹاپ تو دے دیں گے مگر وہ اس کا استعمال کسی دوسرے ملک کی ویزہ درخواست بھرنے کے لیے کریں گے اور شاید ہم یہ ہی چاہتے ہیں۔
