پروجیکٹر مشینوں سے لیپ ٹاپ تک، کراچی میں سینیما آپریٹر کا کام ناپید

ماضی کے 120 سینیماؤں میں اکثریت کو گرا کر ان کی جگہ رہائشی عمارتیں بن گئی ہیں۔

کراچی میں ماضی کے مقبول ترین سینیماؤں کی مشینوں کے ماہر مکینک 65 سالہ شرافت خان دو ویسٹریکس اے 100 پروجیکٹر مشینوں کو آخری بار دیکھنے مرکز شہر سے دور کورنگی چڑیا گھر کے نزدیک واقع نسیم سینیما پہنچے۔

کورنگی ٹاؤن میں واقع نسیم سینیما شہر کے ان روائتی قدیم سینیماؤں میں ایک ہے جہاں ماضی میں مقبول 35 ملی میٹر فلم ریل کو چلانے والی دو ویسٹریکس اے 100 پروجیکٹر مشین تاحال موجود ہیں۔

مگر اب یہ پروجیکٹر ناقابل استمال ہے۔ کیوں کہ اب جدید دور میں فلم ریل بننا بند ہوگئیں ہیں۔ اب ڈیجیٹل فلموں کا دور ہے اور فلم کی سافٹ کاپی کو لیپ ٹاپ پر چلاکر سکرین پر دکھایا جاتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے شرافت خان نے کہا کہ روزانہ کسی نہ کسی سینیما سے خبر آتی ہے کہ آج اس سیمنا میں ماضی میں 35 ملی میٹر فلم کی ریل کو چلائے جانی والی مشین کو بیچ دیا گیا۔

’آج میں نسیم سینیما میں موجود ان مشینوں کو دیکھنے چلا آیا ہوں، کیوں کہ میں نے سنا ہے کہ سینیما انتظامیہ آخری دو مشینوں کو بیچنے کے لیے گاہک ڈھونڈ رہی ہے۔ مجھے یہاں آکر دکھ ہوا۔

’کیوں کہ میں نے نسیم سنیما میں بھی ماضی میں کام کیا تھا۔ مگر اب ان کی آخری مشینیں نہیں رہیں گی۔ اس لیے اب میں نے کسی سینیما میں جانا ہی چھوڑ دیا ہے۔ بہت دکھ ہوتا ہے۔‘

شرافت خان نے سینیما کی مشینوں کی مرمت کا کام حیدرآباد کے شمس سینیما میں سیکھا اور 1967 میں لطیف آباد کے شاہین سینیما میں سینیما آپریٹر کے کورس کا امتحان دیا تھا، کیوں کہ اس وقت بغیر کورس کسی کو سینیما آپریٹ کرنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی اور سینیما آپریٹر کے طور پر کام کرنے میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے لازم تھا کہ وہ سرکار سے باضابطہ لائسنس حاصل کریں۔

شرافت خان کو سینیما آپریٹر اور میکینک کا 46 سال تجربہ ہے۔

شرافت خان کے مطابق : ’1968 میں میں حیدرآباد سے کراچی آ گیا تھا اور مختلف سینیماؤں میں کام کرنا شروع کیا۔ اس وقت کراچی میں 120 سے زائد سینیما تھے جہاں ہر شو میں ہاؤس فُل ہوتا تھا۔ اس دور میں سب سے مقبول فلم شبنم اور ندیم کی 'آئینہ' تھی۔ جو پہلے بمبینو سینیما میں لگی اور بعد میں سکالا سینیما میں چار سال تک چلی۔ ہر شو ہاؤس فل تھا۔‘

ماضی کے 120 سینیماؤں میں اکثریت کو گرا کر ان کی جگہ رہائشی عمارتیں بن گئی ہیں۔

سیمنا کے زوال پر بات کرتے ہوئے شرافت خان نے کہا کہ ماضی میں سینیما میں 35 ملی میٹر فلم ریل کو مختلف اور مشکل مشینوں پر چلایا جاتا تھا، جب سے 35 ملی میٹر کی ریل بننا بند ہوئی اور ڈیجیٹل فلمیں آنا شروع ہوئیں اور جدید سینیما بنے تو روائتی سینیما ختم ہونا شروع ہو گئے۔


مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔

زیادہ پڑھی جانے والی فلم