وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اتوار کو ایک نئی سرکاری سکیم کا آغاز کیا، جس کے تحت آئندہ دو سال میں پانچ لاکھ کروم بکس میرٹ کی بنیاد پر طلبہ کو دی جائیں گی۔
انہوں نے سب نوجوانوں کو تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا۔
اسلام آباد میں ’وزیرِ اعظم یوتھ کروم بکس سکیم‘ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ ان کی جماعت کی حکومت گذشتہ دس برس میں ملک بھر کے طلبہ کو میرٹ پر چھ لاکھ لیپ ٹاپ فراہم کر چکی ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
وزیرِ اعظم نے تقریب میں بھرپور تالیوں کے دوران کہ ’یہ پانچ لاکھ کروم بکس صرف دو سال کے اندر پاکستان کے لاکھوں بیٹوں اور بیٹیوں کو دی جائیں گی۔‘
ان کے مطابق کروم بکس طلبہ کو ان کی محنت اور تعلیمی صلاحیتوں کے اعتراف میں خالصتاً میرٹ پر دی جائیں گی۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ کروم بکس کی تقسیم میں معاشی پس منظر یا تعلیمی ادارے کی بنیاد پر کسی قسم کے امتیاز کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
شہباز شریف نے کہا کہ اس اقدام سے طلبہ ڈیجیٹل تعلیم کے ذریعے اپنی پڑھائی جاری رکھ سکیں گے، برقی کتب خانوں تک رسائی حاصل کر سکیں گے اور علم کے حصول کے نئے مواقع تلاش کر سکیں گے۔
تقریب میں انہوں نے چند باصلاحیت طلبہ میں کروم بکس اور وائی فائی ڈیوائسز بھی تقسیم کیں۔
نئے منصوبے کے تحت 5 لاکھ کروم بکس صرف 2 سال میں پورے پاکستان کے قابل ترین طلباء و طالبات میں تقسیم کیے جائیں گے۔ اس منصوبے کیلئے عطیہ دینے پر ٹوکیو کیئر فاؤنڈیشن کے بانی راشد منہاس کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ~ وزیراعظم محمد شہباز شریف کا پرائم منسٹرز یوتھ کروم بکس سکیم کی افتتاحی تقریب سے خطاب #PMYouthChromebookScheme
— Prime Minister's Office (@PakPMO) October 25, 2026
کروم بکس ایسے کمپیوٹر ہیں جو ’کروم او ایس‘ نامی آپریٹنگ سسٹم پر چلتے ہیں، جس میں کلاؤڈ سٹوریج اور سکیورٹی کی متعدد تہیں شامل ہیں۔
پاکستان نے نومبر 2025 میں ہری پور میں ملک کی پہلی گوگل کروم بک اسمبلی لائن کا افتتاح کیا تھا۔
یہ منصوبہ حکومت پاکستان، گوگل اور ٹیک ویلی کے درمیان نجی و سرکاری شراکت داری کے تحت شروع کیا گیا اور پاکستان کے مطابق اس اسمبلی لائن سے 2026 تک پانچ لاکھ کروم بکس تیار ہونے کی توقع ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستان گذشتہ چند برسوں سے اپنے تعلیمی اداروں کو بہتر بنانے اور طلبہ کو زیادہ سہولتیں دینے کی کوشش کر رہا ہے۔
ملک میں سکول سے باہر بچوں کی تعداد دنیا کی سب سے بڑی تعداد میں سے ایک ہے۔
2023 کی مردم شماری کے مطابق پانچ سے 16 سال کی عمر کے تقریباً دو کروڑ 54 لاکھ بچے سکول نہیں جاتے۔
غربت تعلیمی اہداف کے حصول میں پاکستان کو درپیش عام ترین چیلنجز میں سے ایک ہے۔
جن علاقوں میں سرکاری سکول موجود نہیں، وہاں خاندان اکثر نجی سکولوں کی فیس یا چھوٹے بچوں کو دور بھیجنے کے اخراجات اور مشکلات برداشت نہیں کر پاتے۔
کئی علاقوں میں سکیورٹی خدشات اور ثقافتی پابندیاں بھی لڑکیوں کی تعلیم کی راہ میں اضافی رکاوٹ ہیں۔