انڈی ان کیمپس: عملی صحافت کے چلینجز

انڈی ان کیمپس کا مقصد یونیورسٹیز کے طلبہ کو میڈیا کے بدلتے رجحانات سے متعلق آگاہی فراہم کر کے دوران تعلیم ہی انہیں صحافتی زندگی میں پیش آنے والے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار کرنا ہے۔

انڈی ان کیمپس میں انڈپینڈنٹ اردو کی ٹیم نے ایڈیٹر ان چیف بکر عطیانی کی قیادت میں راولپنڈی کی  فاطمہ جناح  یونیورسٹی میں مباحثے کا اہتمام کیا جہاں بکر عطیانی نے اپنے تجربات کی روشنی میں طلبا و طالبات کو  رپورٹنگ کے بین الاقوامی معیار کے بارے میں بتایا گیا ۔

انڈی ان کیمپس کا مقصد یونیورسٹیز کے طلبہ کو میڈیا کے بدلتے رجحانات سے متعلق آگاہی فراہم کر کے دوران تعلیم ہی انہیں صحافتی زندگی میں پیش آنے والے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار کرنا ہے۔

 بکر عطیانی نے خبر کی تصدیق سے لے کر خبر چھپنے تک کے مراحل کے حوالے سے طلبہ کو بتایا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ ’میڈیا کو آج کل جو چیلنجز درپیش ہیں ان میں سب سے اہم اصل خبر تک پہنچنا اور پھر اس کی تصدیق ہے۔

انہوں نے خبر حاصل ہونے کے بعد پبلش ہونے تک کن مراحل سے گزرتی ہے اور بطور صحافی کن باتوں کو مدنظر رکھا جانا ضروری ہے۔

بتول مفتی جو کے خود بھی فاطمہ جناح یونیورسٹی کی سٹوڈنٹ رہ چکی ہیں اور اب انڈیپنڈنٹ اردو میں کام کر رہی ہیں نے سیشن میں بتایا کہ ان کو صحافت کے سفر میں کن چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا اور آگے آنی والی جنریشن کے لیے کیا جاننا ضروری ہے۔

انڈی ان کیمپس پروگرام کے تحت انڈپینڈنٹ اردو اب تک ملک کی مختلف یونیورسٹیوں میں ایسے ہی شیشنز کا اہتمام کر چکا ہے جہاں سے مختلف طلبا و طالبات کو انٹرن شپ کے مواقع بھی دیے گئے تاکہ وہ ڈیجیٹل جرنل ازم اور اس کا طریقہ کار سیکھ سکیں۔

مزید تفصیل ویڈیو رپورٹ میں۔

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس